Daily Mashriq


ایک بہادر اور باہمت خاتون کی رحلت

ایک بہادر اور باہمت خاتون کی رحلت

طویل غیر حاضری کی معذرت چاہتا ہوں۔ بعض نجی مصروفیات کے باعث کالم لکھنے سے معذوری رہی‘ ممکن ہے کچھ دن اور تاخیر ہوتی مگر بیگم کلثوم نواز کی وفات نے ملال کی کیفیت پیدا کی اور پرانی یادوں نے کالم لکھنے پر مجبور کیا۔ بیگم صاحبہ بہت باہمت خاتون تھیں ۔ اس کا عملی مظاہرہ میں نے ان دنوں دیکھا جب وہ نواز شریف رہائی تحریک کے سلسلے میں راولپنڈی تشریف لائیں۔ شیخ رشید نے ان کے لیے لال حویلی کا دروازہ نہ کھولا لیکن وہ مایوس ہو کر لاہور واپس نہ گئیں‘ انہوں نے مسلم لیگ ہاؤس اقبال روڈ میں کارکنان کا اجلاس بلا لیا۔ سینیٹر چوہدری تنویر خان نے برے وقتوں میں مسلم لیگ ن راولپنڈی کی بھاگ ڈور سنبھالی اور اپنے محل نما گھر میں لیگی کارکنان کا ایک بڑا اجتماع منعقد کیا جس میں بیگم کلثوم نواز کو چادر پہنانے کی تقریب ہوئی۔ اُس دور میں یہ ناقابلِ معافی جرم تھا چنانچہ چوہدری تنویر نے اس کی پاداش میں جیل کاٹی۔ یہ وہ وقت تھا جب راجہ ظفر الحق اور سید ظفر علی شاہ جیسے لوگوں نے ہمت دکھائی اور سڑکوں پر نکلے۔ آج وہ وقت یاد کرتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ اچھا وقت آنے پر پارٹی نے ان کی بے قدری کی اور انہیں وہ مقام نہ دیا جس کے یہ لوگ مستحق تھے۔ راجہ ظفر الحق صدر پاکستان کے منصب کے لیے انتہائی موزوں شخصیت تھے مگر انہیں نظر انداز کر کے ممنون حسین کو صدر بنا دیا گیا جو اس منصب کے لئے مناسب انتخاب نہ تھے۔نواز شریف اور فوج کے مابین تعلقات بہت خوشگوار رہتے اگر ظفر الحق مسند صدارت پر فائز ہوتے ۔ مگر ان کی بجائے ایک کمزور شخصیت کو آگے لایا گیا۔ سینیٹ چیئرمین کے لیے بھی دو مرتبہ راجہ صاحب کو نظر انداز کیا گیا ۔ سید ظفر علی شاہ جس ہمت اور دلیری سے مشرف آمریت کے خلاف بروئے کار آئے اس کی کوئی مثال نہیں ملتی مگر ایک بار کی سینیٹ ممبری پر انہیں ٹرخا دیا گیا‘ ان کی خفگی کو منفی لیا گیا جب کہ وہ ہمیشہ سے اپنی رائے دینے میں اس بے باکی کا مظاہرہ کرتے آئے تھے۔ آج شاہ صاحب تحریک انصاف کا حصہ ہیں۔ مجھے یہ لکھنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ ظفر علی شاہ جیسی شخصیت کو پارٹی نے ضائع کر دیا۔ خیر یہ ذکر تو بیچ میں ویسے ہی آ گیا کالم کا اصل موضوع تو بیگم کلثوم نواز کے دلیرانہ کردار کو زیرِ بحث لانا تھا جو انہوں نے نواز شریف کی رہائی کے لیے ادا کیا۔ جس دن لاہور میں ان کی گاڑی کو گھیرا گیا اور وہ دس گھنٹے گاڑی میں موجود رہیں اُس دن مشرف حکومت کے کارپردازان کو اندازہ ہوا کہ ان کا پالا ایک مضبوط اعصاب کی خاتون سے پڑ گیا ہے۔ غالباً یہ 28جولائی کا دن تھا جب کلثوم نواز کے قافلے نے لاہور سے پشاور کے لیے روانہ ہونا تھا۔ پولیس نے ان کی گاڑی کو گھیر لیا تو انہوں نے اندر سے گاڑی بند کر دی اور گاڑی سے اُترنے سے انکار کر دیا۔ وہ دس گھنٹے گاڑی میں محبوس رہیں۔ جب ان کی گاڑی کو کرین سے اُٹھا کر قریبی آرمی بیک لے جایا گیا تو احتیاطً ایک ایمبولینس کو طلب کیا گیا چونکہ شدید گرمی کی وجہ سے اندیشہ تھا کہ گاڑی میں موجود بیگم کلثوم نواز یا کسی اور کو نقصان نہ ہو جائے۔ اپنے شوہر کے لیے ایک بیوی جو کبھی پہلے سیاسی سرگرمیوں کا حصہ نہ بنی تھیں کا یوں مرنے مارنے پر تل جانا مشرف آمریت کی بنیادیں ہلانے کا باعث بن رہا تھا چنانچہ جنرل مشرف اور ان کے حواریوں نے شریف فیملی سے ڈیل کرنے میں ہی اپنی عافیت جانی۔ بیگم کلثوم نواز کے لیے اپنے شوہر کی رہائی ہی سب کچھ تھا۔ ایئرپورٹ پر ان کی خوشی دیدنی تھی ۔ نواز شریف دس سال کا معاہدہ کرکے اپنی سیاست کو داغدار کر گئے مگر بیگم کلثوم نواز اپنے مشن میں سرخرو رہیں اور وہ اس پر شادمان تھیں۔ بعد ازاں انہوں نے سیاست کی طرف مڑ کر بھی نہ دیکھا کہ سیاست ان کی منزل نہ تھی ‘ ان کی منزل تو نوازشریف تھے جو انہوں نے اپنی جدوجہد سے حاصل کر لی۔ 2004ء میں جن دنوں شہباز شریف کے پاکستان میں واپس آنے کی خبریں گرم تھیں میں نے ریاض پیرزادہ جو اُس وقت جنرل مشرف کے ساتھی تھے سے استفسار کیا کہ شہباز شریف کی واپسی کو حکومتی حلقوں میں کس طرح لیا جا رہا ہے۔ ریاض پیرزادہ نے بنا کسی ہچکچاہٹ اور لگی لپٹی کے کہا کہ جن کی ٹانگیں بیگم کلثوم نواز کی تحریک کے نتیجے میں کانپ رہی تھیں ان کا حال شہباز شریف کی واپسی کے نتیجے میں بیان کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ ریاض پیرزادہ بڑے صاف گو سیاستدان ہیں۔ وہ مسلم لیگ ق کا حصہ تھے مگر پھر بھی حق بات کہنے سے باز نہ آتے تھے۔

عام تاثر ہے کہ نواز شریف ان کے مشوروں کو اہمیت دیا کرتے تھے لیکن پانامہ اسکینڈل سامنے آنے کے بعد نواز شریف نے بیگم کلثوم نواز کا مشورہ نہ مانا۔ سُنا ہے کہ انہوں نے نواز شریف کو مستعفی ہونے کا مشورہ دیا تھا لیکن نواز شریف نہ مانے جس کا انہیں بہت نقصان ہوا۔ آج تفصیل میں جانے کا موقع نہیں لیکن ایک بات واضح ہے کہ نواز شریف بیگم کلثوم نواز کی بات مان لیتے تو آج کی سیاسی صورت حال شاید مختلف ہوتی۔ بیگم کلثوم نواز کی رحلت نے آج پورے پاکستان کو افسردہ کر دیا ہے ‘ خاص طور پر جب کہ نواز شریف اور مریم نواز جیل میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ بیگم کلثوم نواز کو اپنی جوار رحمت میں جگہ دے اور غمزدہ خاندان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔

متعلقہ خبریں