Daily Mashriq


اسلامی فلاحی ریاست اور پائیدار ترقی

اسلامی فلاحی ریاست اور پائیدار ترقی

دنیا کو عوامی فلاح کا تصور اسلام نے دیا ہے۔ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے بہترین فلاحی ریاست کے قیام کے لئے مکی دور کے تیرہ برسوں میں مدنی فلاحی ریاست کے قیام و انصرام کے لئے ایچ آر ڈی ( ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ) پر اعلیٰ ترین پائے کا کام کرکے دیانتدار افراد کی جماعت تیار کرلی۔ اسی جماعت نے ہجرت کرکے نبوی تربیت کی تعلیمات اپنے انصار بھائیوں میں بھی منتقل کردیں اور یوں فلاحی ریاست کے بنیادی خطوط‘ اصول اور تعلیمات قولاً و عملاً عطا فرما کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم رحلت فرما گئے۔

اسلامی فلاحی ریاست کی عملی صورت خلفائے راشدین کے ہاتھوں پایہ تکمیل کو پہنچی۔ راشد کے معنی ہیں ہدایت یافتہ اور انگریزی میں اس کا ترجمہ (Righteostly Guided) ہے۔ ان راشدین میں سے پہلا نمبر حضرت ابو بکر صدیقؓ کا ہے۔ ہر لحاظ سے اول و اول‘ اولون السابقون میں اول۔ غزوہ تبوک کے موقع پر حضرت ابو بکر صدیقؓ نے گھر میں جھاڑو پھیر کر اللہ کی راہ میں پیش کردیا۔ حضرت عمر فاروقؓ نے گھر کے سارے اثاثے کو آدھا کرکے آدھا بچوں کے لئے چھوڑا اور آدھا اللہ کی راہ میں پیش کیا۔ حضور علیہ السلام نے دونوں کی تحسین فرمائی۔ لیکن حضرت ابو بکر صدیقؓ کا سارا مال قبول فرماتے ہوئے ان کے مقام صدیقیت پر مہر تصدیق ثبت فرمائی۔ اور جب صدیق اکبرؓ سے پوچھا کہ گھر میں ( بچوں ) کے لئے کیا چھوڑ کر آئے ہیں تو عرض کیا۔ ان کے لئے اللہ اور اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بس۔ علامہ اقبال نے اس اہم تاریخی واقعہ کو نظم میں کیا خوب محفوظ فرمایا ہے جس کا نچوڑ اس شعر میں پیش کیا ہے۔

پروانے کو چراغ ہے‘ بلبل کو پھول بس

صدیقؓ کے لئے ہے خدا کا رسولؐ بس

عالم اسلام کے حکمران خلیفہ اول کے خطبہ خلافت ‘ معمولات زندگی اوردوران خلافت کے استفادہ و تقلید کرتے تو آج بھی امت مسلمہ غالب قوت ہوتی۔ پاکستان جو اسلام کے نام پر قائم ہوا ہے قائد اعظم ‘ لیاقت علی خان‘ خواجہ ناظم الدین‘ مولوی تمیز الدین حتیٰ کہ ایوب خان کے دور تک میں خلفائے راشدین کے نظام حکومت کی کچھ پرچھائیں نظر آتی تھیں۔ لیکن بعد میں اس ملک پر آسیب کا ایسا سایہ ہوا کہ ختم ہونے میں نہیں آرہا۔عمران خان کا نعرہ اور دعویٰ ہے کہ پاکستان میں مدینہ طیبہ کی طرز پر اسلامی فلاحی ریاست بنائیں گے تو چاہئے کہ خلفائے راشدین بالخصوص خلیفہ اول و دوم کے نظام ہائے حکمت اور حیات ہائے مبارکہ کا گہرا مطالعہ کرکے وہ نکات اخذ کئے جائیں جو آج اصلاح نظام میں ٹھوس تبدیلی لا سکتے ہیں۔ اچھی بات ہے کہ عمران خان تنخواہ نہیں لیتے لیکن کوشش کریں کہ پائیدار ترقی کے لئے جس طرح کہ ان کا دعویٰ اور عزم ہے ہیومن ریسورسز کی ترقی پر کام کرے اور اس کی ابتداء تحریک انصاف کے کارکنوں بالخصوص منتخب ایم پی ایز اور ایم این ایز سے کریں۔ ان افراد کی تعلیم و تربیت اور تزکیہ نفوس کے لئے تربیتی کورسز کا اہتمام کیا جائے۔ ان کورسز کے نصاب میں صبر‘ تحمل‘ عفو و در گزر اور ایثار کے وہ اسباق پڑھائے جائیں جو خلفائے راشدین کا خاصا ہے۔ اگرچہ یہ نقطہ ذہن میں رہے کہ خلفائے راشدین کی طرح حکومت کرنا قیامت تک کسی کے لئے ممکن ہی نہیں ہے لیکن ان کے قریب جایا جاسکتا ہے اور اس کا ایک ہی راستہ ہے کہ عام آدمی‘ غریب آدمی‘ عوام کی ضروریات کی تکمیل اور سہولیات کی فراہمی کی حتیٰ الامکان سعی کی جائے۔ تعلیم پر سب سے زیادہ توجہ دی جانی چاہئے۔ آئندہ سال ڈیڑھ میں دو کروڑ سکول نہ جانے والے بچوں میں پچاس فیصد بھی سکولوں میں داخلہ پاگئے اور کم از کم میٹرک تک تعلیم عام ہو جائے تو یہ اس حکومت کی پائیدار ترقی کا پہلا زینہ ہوگا۔ ویلج کونسل سے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر تک ہسپتالوں بالخصوص زچہ و بچہ کی دیکھ بھال و نگہداشت کے منصوبوں پر ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کیاجائے۔وہ علاقے جہاں چھوٹے بچے خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔ عمر فاروقؓ کے نظام حکومت کے طرز پر چھوٹے چھوٹے وظائف مقرر کئے جائیں۔ بجلی‘ گیس اور صاف پانی کو اولین ترجیحات میں شامل کیا جائے اور جتنا جلد ممکن ہو خلق خدا کو آرام و سہولیات پہنچانے کی سبیل کی جائے۔ عمران خان یاد رکھیں کہ ان کو اللہ نے ایک بے مثال موقع عطا فرمایا ہے‘ یہ ضائع نہیں ہونا چاہئے۔ اس میں خارجہ پالیسی کی نزاکتوں‘ مشکلات اور مجبوریوں کے باوجود خود اور اپنی کابینہ کو ایثار و قربانی کا مفہوم از بر کرا کر ریہرسل کرائی جائے۔ تاریخ نے صرف ان لوگوں کو یاد اور باقی رکھا ہے جن کی ذات سے بنی نوع انسان کو نفع پہنچا ہے۔ انبیاء کرام‘ خلفائے راشدینؓ‘ صحابہ کرامؓ اور اولیاء و صلحاء اور وہ حکمران جنہوں نے فلاح کے کام کئے ہیں آج بھی زندہ ہیں۔قرآن کریم کی آیت کریمہ ہے ’’ جو لوگ انسانیت کے لئے نفع بخش ہوتے ہیں وہ زمین میں باقی رہتے ہیں‘‘ ۔

اسلامی فلاحی ریاست کا سلوگن اور پہچان یہ ہے کہ ’’وہ اپنے آپ پر دوسروں کی ضروریات کو مقدم رکھتے ہیں اگرچہ وہ خود تنگ دست کیوں نہ ہوں‘‘ اطمینان قلب ان لوگوں کو حاصل ہوتا ہے جن کو کچھ بھی نہ ملے تو بھی شکر ادا کرتے ہیں اور کچھ مل جائے تو حاجت مندوں میں تقسیم کردیتے ہیں۔

متعلقہ خبریں