Daily Mashriq

میگا کرپشن کیسز کا سامنا کرنے والے افراد کو 'اے کلاس' جیل نہیں ملے گی

میگا کرپشن کیسز کا سامنا کرنے والے افراد کو 'اے کلاس' جیل نہیں ملے گی

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت نے میگا کرپشن کیسز میں گرفتار افراد کے لیے 'اے کلاس' جیل کو ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب ملک کے تمام بڑے سیاسی جماعتوں اور بڑے کاروباری افراد اس وقت جیلوں میں موجود ہیں۔

یہ اعلان وفاقی وزیر قانون ڈاکٹر فروغ نسیم نے وزیر اعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

پریس کانفرنس میں پنجاب کے وزیر قانون راجہ بشارت اور خیبر پختونخوا کے وزیر قانون سلطان محمد خان بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ قومی احتساب آرڈیننس 1999 میں ترمیم متعارف کرائی جارہی ہے جس کے تحت 50 کروڑ سے زائد کے کرپشن کا سامنا کرنے والے ملزم کو جیل کی 'سی کلاس' میں رکھا جائے گا۔

وزیر اعظم عمران خان نے جولائی کے مہینے میں نجی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ معاملہ وزارت قانون کو بھیج دیا گیا ہے تاکہ قیدیوں کے لیے 'اے کلاس' کی سہولت کے خاتمے کے لیے ترمیم لائی جاسکے۔

قیدیوں کے قواعد کے مطابق 'اے کلاس' قیدیوں کو علیحدہ بیرکس اور کمروں میں رکھا جاتا ہے اور انہیں اپنے خرچوں پر سہولیات حاصل کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔

اس وقت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد، سابق وزیر اعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز، بھتیجے حمزہ شہباز، سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، سابق وزیر مفتاح اسمعیٰل، عباس شریف، پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری اور متعدد کاروباری افراد جیلوں میں موجود ہیں۔

نیب ریفرنسز میں سزا پانے والے نواز شریف اور مریم نواز کے علاوہ تمام افراد کو اس وقت ٹرائل کا سامنا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ گرفتار قیدیوں کو 'سی کلاس' دینے کی پیش کردہ ترمیم اپوزیشن جماعتوں کے لیے مخصوص نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'پیش کردہ قانون کا مقصد معاشرے میں توازن برقرار رکھنا ہے، اس ترمیم سے حکومت کوئی فائدہ نہیں اٹھانے والی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'تحریک انصاف کی حکومت اپنا وقت مکمل کرنے کے بعد شاید نہ ہو تاہم پیش کردہ قانون برقرار رہے گا تاکہ جیلوں سے وی آئی پی کلچر کا خاتمہ ہو۔

رابطہ کیے جانے پر سابق وزیر قانون سینیٹر فاروق ایچ نائک کا کہنا تھا کہ جیل صوبائی معاملہ ہے اور وفاقی دارالحکومت میں جیل نہیں ہے اس وجہ سے قیدیوں کے حوالے سے کوئی بھی قانون بیکار رہے گا۔

متعلقہ خبریں