Daily Mashriq

کبھی جمہوریت یہاں آئے

کبھی جمہوریت یہاں آئے

آج پاکستان سمیت ساری دنیا میں جمہوریت کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ جمہوریت نام ہے اس نظام حکومت کا جس میں کسی جمہوری ملک کے شہریوں کو حکومت تشکیل دینے کیلئے رائے دہی کا حق حاصل ہوتا ہے جس کو استعمال کرکے وہ ملک کی باگ ڈور سنبھالنے کیلئے اپنے قابل اعتماد اور امنگوں کے ترجمان نمائندے انتخابات کے ذریعہ چن کر ملک کی قانون ساز اسمبلیوں میں بھیجتے ہیں، جہاں ضابطے کی جملہ کارروائیوں کے بعد ایسے قوانین وضع کئے جاتے ہیں جن پر عمل کرکے عوام کے یہ منتخب نمائندے ایک خاص مدت تک ملک و ملت کا نظام و انصرام یا کارو بار حکومت چلاتے ہیں۔اپنے دور اقتدار کی مدت پوری ہونے کے بعد عوام کے یہی نمائندے اپنی اپنی سیاسی پارٹیوں کے بینر اور جھنڈے اٹھا کر ایک بار پھر عوام سے ان کا قیمتی ووٹ حاصل کرنے کیلئے رجوع کرتے ہیں جس کے لئے انہیں اپنی سیاسی پارٹیوں کی وساطت سے یا آزاد امیدواروں کی حیثیت سے عوامی رابطہ مہم کے مرحلے طے کرنے پڑتے ہیں اور ان کا اعتماد حاصل کرنے کیلئے بلند و بانگ دعوے ،سبز با غ ، حسین خواب دکھانے پڑتے ہیں اور ایسا ہر جائز و ناجائز حربہ استعمال کرنا پڑتا ہے جس کے زیر اثر وہ عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے علاوہ ان سے ان کا قیمتی ووٹ حاصل کرسکیں۔عوامی رابطہ مہم کا یہی مرحلہ انتخاب میں حصہ لینے والے امیدواروںیا ان کی سیاسی پارٹیوں پارٹی کے کارکنوں اور ووٹ دینے والوں کے کڑے امتحان کا مرحلہ ہوتا ہے۔ اس دوران ہر انتخابی امیدوار یا اس کی سیاسی پارٹی مخالف امیداوار کو نیچا دکھانے کیلئے ہر جائز اور ناجائز حربہ استعمال کرتی ہے۔ جس کیلئے انہیں مخالف فریق کی کردار کشی کا جو موقع ہاتھ آتا ہے اسے وہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتی۔ نوبت جگت بازی سے ہوکر گالم گلوچ تک جا پہنچتی اور بعض اوقات یہ صورت حال کارکنوں کے درمیان مشت و گریبان ہونے کی منازل طے کرتی لڑائی مارکٹائی ، جلاؤ گھیرائو سر پھٹول کے علاوہ قتل مقاتلے تک جا پہنچتی ہے۔ جمہوریت کو ملوکیت و شہنشاہئیت کی ضد کہا گیا ہے لیکن اس میں کرسی اقتدار تک پہنچنے کیلئے جو داؤ پیچ استعمال کرنے پڑتے ہیں ۔ لگتا ہے کہ اسی کا نام سیاست ہوکر رہ گیا ہے حالانکہ دیگر امور زندگی کی طرح سیاست بھی لوگوں کی خدمت کرکے ان کے دل جیتنے کا نام ہے ، جس کی بہترین مثال سنت رسول عربی ۖ میں ملتی ہے۔ ایک اچھے سیاست دان کیلئے اسوہ رسول اکرمۖ میں سے صادق و امین ہونے کے علا وہ بہترین اخلاق کے حامل ہونے کی شرائط لازمی ہیں لیکن عہد حاضر کی جمہوری اقدارایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔ ہم اپنے ذاتی تجربات کی بنیاد پر جمہوریت نامی دنگا فساد کو دیکھ کر اس کا منظر نامہ پیش کرتے ہو ئے یہ کہنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ

یہ اُس کو کہہ رہا ہے ''جمہوریت کا دشمن''

''جمہوریت کا دشمن'' وہ اس کو کہہ رہا ہے

آپس میں لڑ رہے ہیں جمہوریت کے داعی

جمہوریت کا ناحق یوں خون بہہ رہا ہے

یہ عجیب بات نہیں کہ جمہوری عمل سے گزرکر ہر جیتنے والا سابقہ حکمرانوںکو چور اچکا اور لٹیرا ثابت کرنے لگتا ہے، اور ہر ہارنے والے کے بیانیہ میں انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دیا جانے لگتا ہے۔ ماہرین نے جمہوریت کی تعریف نہایت آسان الفاظ میں کرتے ہو ئے بتادیا ہے کہ'' یہ وہ طرز حکومت ہے جسے عوام کیلئے ، عوام کے ذریعہ اور عوام کی حکومت کہا جا سکتا ہے''۔ چونکہ اس شجر ثمر بار کی جڑیں عوام اور صرف عوام میں موجود ہوتی ہیں۔ اسلئے ضروری ہے کہ عوام کو اپنے ووٹ کے استعمال کی قدرو قیمت معلوم ہو۔ وہ اس بات کو سمجھے کہ ووٹ بکاؤ مال نہیں، ایک مقدس امانت ہے، وو ٹ کے مقابلے میں جہاں بھر کی دھن دولت کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ لیکن افسوس ہے کہ ہمارے معاشرے کا بے بصیرت طبقہ ووٹ کے بدلے نوٹ لینے اور ووٹ کے بدلے نوٹ دینے کی روش اپنا کر جمہوری عمل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا تا رہتا ہے ۔ شائد ان کی اس ہی روش کو دیکھ کر شاعر مشرق پکار اٹھے تھے کہ

جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں

بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے

مگر جمہوریت کے نام پر ووٹ خریدنے اور ووٹ بیچنے کی اس جوے کی اس تلخ حقیقت کی با وجود ، مصور پاکستان جمہوریت کے حق میں بات کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں یہ حقیقت بھی بیان کردیتے ہیں کہ

سلطانی جمہور کا آتا ہے زمانہ

جو نقش کہن تم کو نظر آئے مٹادو

ہمارے ملک پاکستان کی تاریخ میں آمریت کے تاریک ادوار بھی آتے رہے ہیں ، جس میں بندوق کی نالی کے زور پر عنان حکومت پر قبضہ کرنیوالوں نے بھی بنیادی جمہوریت، حقیقی جمہوریت، اور نت نئی طرز کے بلدیاتی جمہوری نظام متعارف کرا تے ہوئے اپنے دور اقتدار کو طول دینے اور دنیا کی آنکھوں میں دھول ڈالنے کی کوشش کی۔ عالمی یوم جمہوریت ریاستوں کو انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ کی یاددلاتا ہے جس کا چرچا آج کے دن منعقد کی جانے والی مختلف تقریبات میں کیا جا رہاہے۔ اقوام متحدہ نے ہر سال 15ستمبر کو یہ دن منانے کی منظوری 2007 میں دی تھی اور تب سے اب تک یہ دن ایک تواتر کیساتھ منایا جا رہا ہے۔ جمہوریت ایک شجر ثمر بار ہے، لیکن آج کے دن حبیب جالب کی آواز میں آواز ملا کر ہم بھی کہے دیتے ہیں کہ

کبھی جمہوریت یہاں آئے

یہی جالب ہماری حسرت ہے

متعلقہ خبریں