Daily Mashriq

فضائی حدود کی بندش کی کہانی

فضائی حدود کی بندش کی کہانی

بھارت کیلئے فضائی حدود بندش کا معاملہ کٹھائی میں پڑتا دکھائی دے رہا ہے،اگرچہ بھارتی صدر کو حال ہی میں جب انہوں نے آئس لینڈ کے دورے پر جانا تھا، پاکستان کی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی،تاہم بھارت کیلئے مکمل طور پر پاکستانی فضائی حدود کی بندش کے معاملے پر کوئی حتمی فیصلہ ابھی تک نہیں لیا جا سکا، بھارتی صدر رام ناتھ کووند کو یہ سہولت فراہم نہ کرنے کے موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نہیں ہٹا رہا،لوگوں کو بنیادی سہولیات نہیں دی جارہی ہیں اور ہندوستان اپنی ہٹ دھرمی پہ اڑا ہوا ہے اس لیئے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے، اس ضمن میں وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان کا ایک بیان بھی سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بھارت کیلئے فضائی حدود کی کل بندش زیرغور ہے تاہم اب تازہ ترین صورتحال کے مطابق حکومت پاکستان بھارت کیلئے پاکستانی فضائی حدود کی مکمل بندش کے حوالے سے تذ بذب کاشکار ہے حالانکہ ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے مطابق وفاقی کابینہ کے اکثر ارکان کشمیریوں پر بھارتی مظالم کے خلاف اس بات پر متفق ہیں کہ بھارت کیلئے فضائی حدود کے استعمال کی اجازت نہیں ملنی چاہیئے۔تاہم وزیراعظم کے خیال میں یہ معاملہ کیس ٹوکیس کی بنیاد پر دیکھا جانا چاہیئے۔دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ اس معاملے کا ہماری معاشی صورتحال سے بھی گہرا تعلق ہے اس لیئے ضرورت کے مطابق بھارتی اعلیٰ شخصیات کے حوالے سے فضائی حدود کی بندش کا اختیار آئندہ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے تاہم فی الحال فضائی حدود کی مکمل بندش کا حکومت کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ یہ جو معاشی صورتحال والے معاملے نے بیچ میں ٹانگ اڑادی ہے تو اس بارے میں حبیب جالب نے بہت پہلے کہا تھا

وطن کو کچھ نہیں خطرہ ،نظام زر ہے خطرے میں

دوسرا مصرعہ غیر متعلقہ ہے اس لیئے اسے چھوڑ کر سیدھے سیدھے اصل مسئلے پر آجاتے ہیں اور پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے فضائی حدود کی بندش کی تاریخ پر ایک نظر ڈالتے ہیں،دونوں ملکوں کے بیچ فضائی حدود کی بندش کا سلسلہ1971ء میں شروع ہوا،جب دو کشمیری نوجوانوں ہاشم قریشی اور اس کے کزن اشرف قریشی نے بھارت کا ایک طیارہ ''گنگا'' کواغواء کر کے لاہور میں اتارا،یہ 30 جنوری 1971کی تاریخ تھی،یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ اپنے30اگست کو شائع ہونے والے کالم''بندر کے ہاتھ میں استرا اور فضائی حدود'' میں طیارہ ہائی جیک کرنے والوں کے نام میں نے ہاشم اور اقبال لکھے تھے،ہاشم قریشی تو درست تھا مگر خدا جانے اشرف قریشی کی جگہ اقبال کہاں سے میرے حافظے میں آیا تھا،بہر حال یہ دونوں ہائی جیکر ہاشم قریشی اور اشرف قریشی تھے،جنہوں نے گنگا نامی طیارے کو ،جو سری نگر سے جموں کیلئے اڑان بھر رہا تھا،اغواء کرکے عملے کو اسے لاہور میں اتارنے پر مجبور کردیا تھا،جہاں انہوں نے عملے اور مسافروں کو رہا کر دیا تھا یہاں بعض معلومات تو انٹر نیٹ پر دستیاب ہیں جن کے مطابق طیارہ گنگا ایک پرانا اور ناکارہ قرار دیا جانے والا طیارہ تھا جسے انڈین ایئرلائنز کے فضائی بیڑے سے نکالا جا چکا تھا تاہم اس''واردات'' سے دو تین روز پہلے ہی دوبارہ فضائی بیڑے میں شامل کیا گیا تھااور یہ صورتحال بھی بعض سوالات کو جنم دینے کا باعث بن جاتی ہے جس کا تذکرہ آگے چل کر آئے گا۔جبکہ طیارہ لاہور میں اتارنے کے بعد دونوں ہائی جیکروں سے سب سے پہلے نیشنل لبریشن فرنٹ کے رہنماء مقبول بٹ جاکر ملے ،مقبول بٹ کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اسے بھارت نے اس کی سرگرمیوں کی بناء پر گرفتار کیا تھا اور دہلی کی تہاڑ جیل میں قید تھا،جہاں سے وہ کسی طور(؟؟) بھاگ نکلنے میںکامیاب ہوگیا تھا سوالیہ نشان اس لیئے لگانے پڑے کہ تہاڑ جیل سے کسی کے بھاگ نکلنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،اور گنگا کے اغواء کے حوالے سے بعد میں پاکستان نے جو نتائج بھگتے ان سے بھی یہ سوال تقویت اختیار کرجاتا ہے کہ تہاڑ جیل سے مقبول بٹ کا فرار(فرار؟) کہیں بھارت ہی کی کوئی سازش تو نہیں تھی؟بہرحال بعض باتیں آگے جا کرکھلتی چلی جائیں گی اور اس حوالے سے مقبول بٹ کی پشاور میں سرگرمیاں بھی بہت پراسرا تھیں، موصوف پشاور کے پرانے صحافی تھے اور اس حوالے سے صحافتی حلقوں کے ساتھ دیرینہ تعلقات کی وجہ سے وہ جس بھی اخبار کے دفتر میں جاتے تو پرانے دوست انہیں سر آنکھوں پر بٹھاتے ،جن دنوں گنگا طیارے کے اغواء کا واقعہ(یا بھارتی ڈرامہ) رچایا گیا،مقبول بٹ متواتر روزنامہ انجام(مرحوم) کے دفتر جا کر مخصوص اوقات میں وہاں موجود ٹیلی پرنٹر کے پاس کرسی رکھ کر آنے والی خبروں کا بغور جائزہ لیتے رہتے تھے،دوتین روز کے بعد بالآخر گنگا طیارے کی خبر ٹیلی پرنٹر فلیش ہوئی تو اس نے فوراً لاہور پہنچنے کا قصد کیا اور پہلی ہی دستیاب بس یاویگن کے ذریعے لاہور،پہنچ کر دونوں ہائی جیکروں کے ساتھ رابطہ قائم کیا،اور وہاں پریس کانفرنس کر کے بھارتی طیارے کے اغواء کے حوالے سے اپنی تنظیم کی سرگرمیوں کو اجا گر کیا۔طیارے کے ایک اغواء کار ہاشم قریشی کے بارے میںبتایا جاتا ہے کہ اس کا تعلق سری نگر سے تھا اور وہ1969ء میں خاندانی تجارت کے حوالے سے پشاور آیا،جہاں اطلاعات کے مطابق اس کی ملاقات نیشنل لبریشن فرنٹ کے رہنماء مقبول بٹ سے ہوئی،مقبول بٹ نے اسے این ایل ایف میں شمولیت کی ترغیب دی اور راو الپنڈی میں آزادی کشمیر کے حوالے سے نظریاتی تربیت کے ساتھ ساتھ گوریلا جنگ کی تربیت دلوائی تاکہ کشمیر کی جدوجہد آزادی کے بارے میں فلسطین کے مجاہدین کی طرز پر طیارہ اغواء کر کے دنیا کی توجہ حاصل کی جا سکے،اس سلسلے میں ایک سابق پائلٹ جمشید منٹو نے اسے طیارہ اغواء کرنے کی باقاعدہ تربیت دی،تاہم جب ہاشم قریشی دوبارہ مقبوضہ کشمیر میں داخل ہورہا تھا تو اسے بھارتی افواج نے حراست میں لیکر اس سے اسلحہ اور دیگر آلات برآمد کر لیئے ،لیکن اس نے بھارتی بارڈر سیکورٹی ایجنسی کے افسروں کے ساتھ اپنے دیگر ساتھیوں کو گرفتار کرنے کے وعدے پر سہولیات حاصل کیں۔اس دوران مبینہ طور پر مقبول بٹ نے مزید سازوسامان بھیجا مگر وہ کسی''ڈبل ایجنٹ'' کے ہاتھ لگ گیا اور اس نے وہ بھی بھارتی حکام کو دیدیا،جبکہ ہاشم قریشی اور اشرف قریشی نے کسی نہ کسی طریقے سے طیارہ گنگا اغواء کر کے لاہور میں اتاردیا۔(جاری ہے)

متعلقہ خبریں