Daily Mashriq

کیا اچھے دن آئینگے؟؟

کیا اچھے دن آئینگے؟؟

ایک نجی محفل میں چند خواتین اپنے برانڈڈ ملبوسات سمیت بیٹھی ملکی حالات کے دگر گوں ہونے پر اپنی پریشانی کا اظہار کر رہی تھیں،وہ بہت ہی متفکر اور مشوش تھیں کہ حالات میں کوئی بہتری دیکھنے میں نہیں آہی،لوگوں کے معاملات میں بھی بگاڑ بڑھتا محسوس ہورہا ہے۔ایک صاحبہ بولیں کہ اب تو حال یہ ہے کہ پہلے جیسے وفادار اور کام کرنے والے گھریلو ملازمین بھی عنقا ہوتے جارہے ہیں۔سب ہی چاہتی تھیں کہ کسی صورت ملک میںبہتری کے لئے کوئی جدوجہد کی جائے۔ایک اور صاحبہ نے فرمایا کہ ہمیں ہی کوئی کوشش کرنی چاہیئے۔تبدیلی تو چھوٹے پیمانے سے آتی ہے۔گرامین بینگ کی صورتحال کو ہی مد نظر رکھیئے۔کچھ خواتین نے خاموش نظروںسے جب ان کی جانب دیکھا تو انہیں احساس ہوا کہ گرامین بینگ کی کہانی انہیں معلوم ہی نہیں۔چونکہ وہ جانتی تھیں اس لیے کہانی کا آغاز ہوا۔چند باتیں زیب داستاں کے لئے بھی شامل کی گئیں بہرحال چونکہ معلومات کم وبیش درست ہی تھیں سو اکثریت نہایت خاموشی اور اطمینان سے ان کے بات سے مستفید ہوتی رہی۔اپنی بات کے اختتام پر انہیں پھر اپنی بات یاد آئی اور کہنے لگیں کہ چھوٹی سی بات بھی بہت بڑی تبدیلی کا سبب بن سکتا ہے اس لیئے ابتداء چاہے کتنی بھی معمولی ہے،اگرجذبہ صحیح ہو تو اس کا نتیجہ ہمیشہ ہی درست ہوتا ہے۔ان کی باتیں ساری ہی دل لگتی ہیں اور نہایت جذباتی انداز میںان کی گفتگو کا انداز بھی بہت خوبصورت تھا جس سے بات اور بھی معلوم ہورہی تھی۔ان کی باتوں سے یقیناً اور بھی خواتین متاثر ہورہی ہونگی اسی لیئے سب ہی خاموشی سے ہمہ تن گوش تھیں۔اسی اثناء میں ایک صاحبہ بولیں کہ آپ کوئی سراہی پکڑایئے کہاں سے شروع کیاجائے اور کیسے شروع کیا جائے؟ہم بھی اپنے ملک کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے نہایت رسان سے سمجھانا شروع کیا کہ ہم جب آرہے تھے تو راستے میں چوک میں وہ بندر والا آپ نے دیکھا تھا جو لوگوں کو تماشا دکھارہا تھا۔بچے اسکے بندر کے ارد گرد کھڑے تھے اور تالیاں بجار ہے تھے وہ بندر کس قدر تھکا ہوا اور ہزار معلوم ہورہا تھا۔یاد ہے وہ بندرننگا بھی تھا۔ہمیں پیسے اکٹھے کر کے اس شخص کو یا ایک بندر اور خرید دینا چاہیئے یا پھر ایک بکری لے دیتے ہیں۔بکری کا تماشا بھی بندر والے ہی دکھایا کرتے تھے۔یاد ہے ہمارے،بچپن میں ایک ہی شخص بندر،بکری اور بھالو کا تماشا بھی دکھاتا تھا،اس شخص کو ایک بکری لے دیں گے تو اس کا کاروبار بڑھے گا۔بندر کو کچھ کپڑے لے دیتے ہیں جب بندر کا مالک اسے روز روز نئے کپڑے پہنائے گا تو بندر بھی خوش رہے گا اور لوگوں کے لئے بھی قابل دید ہوگا۔بندر کا تماشا دکھانے والے کو گاہک زیادہ ملنے لگیں گے تواس کے دن پھر جائینگے۔جہاں وہ بیٹھتا ہے وہاں ایک درخت لگا دیتے ہیں چند سالوں میں سایہ زیادہ ہو جائے گا اور اس شخص کو آسانی ہو جائے گی۔میں ان کی باتیں خاموشی سے سُنتی رہی۔اس سارے پلان کے بعد چونکہ میں کچھ بوریت کا شکار ہونے لگی تھی سو میں بولی کیا یہ مناسب نہیں کہ سارے لوگ پیسے جمع کر کے اس شخص کو ایک چھوٹا سا کھو کھا ڈال دیں ،چائے کا کھوکھا ہو ،ساتھ میں وہ اپنا بندر بھی رکھے ،چند کرسیاں ہوں وہ جب لوگوں کو چائے پلائے تو بندر تماشا دکھائے اور کیا اس سب سے اچھا نہیں کہ کوئی ایسا کام ہو جس کا نتیجہ ،اس سے بھی بہتر آئے۔ایک شخص کی بہبود ہی محض مطمح نظر نہ ہو بلکہ کسی بڑے کام پر نگاہیں جمائی جائیں۔انہیں میری بات کوئی خاص پسند نہیں آئی لیکن چونکہ وقت بہت تھا اور وقت گزارنے کا کوئی بہانہ بھی چاہیئے تھا اس لیے بات اسی جانب چل نکلی۔لیکن کچھ بحث مباحثے کے بعد خواتین نے یہ طے کرلیا کہ بندر کا تماشا دکھانے والے کی مدد کرنا ہی زیادہ بہتر کام ہے۔مجھے ان کی نیت پر کوئی شک نہ تھا۔وہ انتہائی نیک دلی سے اس بیچارے غریب آدمی کی مدد کرنا چاہ رہی تھیں لیکن ظاہر ہے وہ اپنے محدود وسائل کو بھی زیر نظر رکھے ہوئے تھیں ان کی نیت پر شک کرنا اُس وقت جرم ہی تھا مگر بے بس اسلئے تھیں کہ یہ گھتی اُن سے سلجھ نہیں رہی تھی ظاہر ہے کہ اس شخص کی مدد کرنے کے بارے میں ابھی ابھی ہی تو سوچا تھا اور اس حوالے سے ان کے پاس کوئی تجربہ تو تھا نہیں یا کوئی ایسا چراغ جس میں سے جن باہر آکر پلک جھپکتے ہی ان کے سارے مسائل حل کردے۔ اس وقت ان کے ارادے کتنے ہی معصومانہ محسوس ہورہے تھے وہ صدق دل سے کچھ کرنا چاہتی تھیںاور انہیں راہ نہیں مل رہی تھی۔کچھ ایسی ہی صورتحال اس حکومت کی بھی ہے وہ نہایت صدق دل سے پاکستان کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں،ملک سے محبت بھی ہے،لیکن نہ تو معاملات کا درست اندازہ ہے اور نہ ہی انہوں نے حکومت میں آنے سے پہلے حکومت کرنے کی کوئی تیاری کی۔ان کی ٹیم میں ایسے روشن دماغ لوگ دکھائی نہیں دیتے جن کے قبضے میں کوئی ایسا جنتر منتر ہو جس سے یہ تبدیلی سنہرے دن طلوع کرنے میں مدد گار ثابت ہو۔یہ حکومت انتہائی معصومیت سے نہایت پیچیدہ مسائل کو حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔نہ معیشت کی گتھی سلجھتی دکھائی دے رہی ہے اور نہ ہی بڑھوتری کی کوئی سمت دکھائی دے رہی ہے۔کئی بار دل نہایت مایوسی کا شکار ہوتا ہے۔پھر اس دل کوہم تسلی دیتے ہیں کہ کوئی بات نہیں اچھے دن بھی آئینگے۔لیکن ایک خوف ہے کہ کیا محض خواہش سے دن بدل سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں