Daily Mashriq

آواز کی دنیا کے دوستو !

آواز کی دنیا کے دوستو !

کچھ عرصہ سے اچھی خبرو ں کا کا ل پڑا ہو ا ہے ہر روز کوئی نہ کوئی تشویش ناک خبر ہی سننے کو مل رہی ہے چاہے وہ زندگی کے کسی بھی شعبے سے متعلق ہو تاہم ایک عرصہ سے صبح صبح یہ بھی خبر ضرور ملتی ہے کہ آج فلاں ہیرا نا سفتہ ٹو ٹ گیا اور بکھر وبچھڑ کر بستر خا ک میں دائم طور پر آنکھ موندھ کر استراحت فرما گیا ، یہ نایاب ہیر وں اور موتیو ں کا کہاںتک ذکر کر یں کہ ملک المو ت ہے کہ اس کی حرص ہے کہ تھمتی ہی نہیں ہاتھ درا ز تر ہو تا جا رہا ہے آج اس کی باری ہے تو کل اس کا نمبر لگ گیا ہے چند دن پہلے اطلا ع ملی کے مسعود احمد میر بھی فراش خاک نشین ہو گئے ، مسعود احمد میر کی پہچان یہ نہیں تھی کہ وہ بھارت کے لیجنڈ ادکا ر شاہ رخ کے چچرے تھے یا ماضی کے پشاور کے عظیم سیا سی رہنما غلا م محمد گا ما جنہو ں نے پشاوریو ں کے روز مر ہ مسائل پر بے باکانہ زبان کھول کر حکومت وقت کو نا کوں چنے چبا دئیے تھے ، کے بھتیجے یا ماضی کے سلجھے ہو ئے طالب علم رہنما مقصود احمد میر کے بھائی تھے ۔ وہ اپنی ذات میں خود اپنی شنا خت تھے جنہو ں نے پاکستان میں جمہوریت کو حقیقی بنیا دو ں پر استوار کرنے کی غرض سے اپنی زندگی تج دی ، مسعود احمد پشاور کے معزز خاندانو ں میں سے ایک معزز خاندان کے چشم وچر اغ تھے ، جب پا کستان کے قیا م عمل میںآ یا تو ا س سے پہلے ان کا خاندان تحریک آزادی کے حوالے سے خطے میں شناساتھا ، پشاور شہر بھر کی سیا سی شخصیت کا ان کے گھر جو پشاور کے معرو ف ترین علاقہ شاہ ولی قتال واقع تھا جہاں ان کے خاندانی کاروبا رجو بانسو ں سے متعلق تھا کا کاروبار اسی علاقہ میں ہوتا تھا، شام کے وقت جمگٹھا لگارہتا تھا اس خاندا ن کا ہر فر د سیا ست سے وابستہ تھا چاہے وہ شاہ رخ کے والد تاج محمد ہو ں یا دوسر ے چچا خان محمد بر ہمچاری ہو ں یا پھر میا ں محمد مر حومین ہو ں یہ سب باچا خان کے سیا سی مقلدین میں تھے مگر ان کی سیا سی ترجیح کانگر س کی سیا ست رہی جس کے لیے انہوں نے بیش بہا قر بانیا ں بھی دیں۔ مسعو د احمد میرنے طالب علمی کے زما نہ میں سیا ست میں عملی قدم رکھا، اور سیا سی انتقام کی صعوبتیں برداشت کر تے رہے کئی مرتبہ جیل بھی گئے خاص طور پر ایو ب خان کے دور میںانہیں کئی بار جیل یا تر اکر نا پڑی ، وہ ایو ب خان اور بھٹو آمریت کے خلا ف ہر اول دستہ کے سپاہی ثابت ہو ئے اس کے علا وہ صوبے کے سابق وزیر اعلیٰ قیو م خان جو مسلم لیگ سے پہلے کا نگر س میں تھے ان کا گھر اس خاندان کے گھر کی سامنے والی گلی محلہ خدا دا میں تھا روزانہ اس خاندان کے ساتھ دھما ل چوکڑی لگائے رکھتے تھے مسلم لیگ میں شامل ہونے اور وزیر اعلیٰ کے عہد ے پر فائز ہو نے کے بعد قیو م خان نے سیاسی مخالفت میں مسعو د احمد کے خاند ان کا ناطقہ بند کردیا اور تمام جو ان نسل کو با ر بار زندان میں ڈالا گیا جس کی وجہ سے شاہ رخ کے والد تاج محمد اپنی تعلیم مکمل کر نے کی غر ض سے بھارت چلے گئے اور اسی طر ح پشاوریو ں کے ہر دلعزیز لیڈر جن کو آج بھی پشاوری گھرانے یا د کر تے ہیں یعنی غلا م محمد گاما مشرقی پاکستان سد ھا ر گئے اور انہوں نے سقوط مشر قی پاکستان سے تھوڑا عرصہ قبل پشاور مرجع فر ما یا ۔مسعو د میر ایک نا یا ب ہیر ا تھے جو کچھ عرصہ سے صاحب فراش تھا وہ بھی پیو ستہ خا ک ہو گئے اللہ ان کی مغفرت فرمائے ۔

جی ہا ں '' آواز کی دنیا کے دوستو ں !'' یہ حسن آہنگ جس خوش گلو خاتون کے گلے کا ملکہ تھا اس کا نا م ثریا شہاب تھا ، وہ بھی گزشتہ جمعہ کو آواز کی دنیا کے دوستوں کو چھو ڑ کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں ۔ ایک زما نہ ریڈیو کا زما نہ تھا ، جو نہ نظر آتے ہو ئے بھی صدا کاری اور آہنگ ایک اعلیٰ ترین ادارہ ہو ا کرتا تھا جس سے نئی نسل بھی آوا ز کے آہنگ سیکھتی تھی لب ولہجہ بھی درست کر تی تھی ، ریڈیو میں اس کو ملا زمت ملا کرتی تھی جو لب ولہجہ کی ادائیگی میں ایک بڑ ا مقام رکھتا تھا ، آج کے ٹی و ی کے دور نے تو الفاظ ، لہجہ ، ترتیب لحن سب کا بیڑاغر ق کر رکھا ہے کوئی معیار نہیں ہے حیر ت ہو تی ہے کہ بڑے دانشور ، عالم فاضل ، جب ٹی وی کی سکرین پر آتے ہیں تو ان کو لب ولہجہ کا وزن ہی معلو م نہیں ہو تا یہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ وہ کس خطے کے لحن میں نا طق ہیں ۔

یہا ں تو ان نا م نہا د دانشورو ں کو جو خو دکو علم کا منبع سمجھتے ہیں کو مشکو ر ، شکر یہ اورشاکرکے فرق کا پتہ نہیں، ریڈیو پا کستان پشاور سے صبح سویر ے ایک انتہائی معلو ماتی پر وگرام نشر ہو ا کرتا تھا جو مشرق اخبار کے ایک سب ایڈیڑ شمشاد صدیقی مرحوم کی آواز میں پیش ہو ا کرتا تھا ، جب وہ بات کر تے تو اس سلیقے سے سننے والے کو احساس ہوتا کہ وہ باغ وبہاراں میں ہر سو خوشبو بکھیر رہے ہیں مر حوم کے بعد ایسا لعل پھر نصیب نہ ہو ا اسی طرح ثریا شہاب کی آواز نے ہی ریڈیو ایر ان کی نشریات کو شہر ت بخشی ، ثریا شہاب نے اپنی آہنگ کا پیشہ وارانہ آغا ز ایر انی ریڈیو سے کیا تھا ، جب ان کا پروگرام خا ص طورپر فلمی گیتو ں کافرمائشی پر وگرام اور نو جوان نسل سے متعلق پروگرا م جو اردو زبان میں پیش کیا جا تا تھا پوری دنیا میں شہرت کے اوج ثریا پر فائز تھا ، ایک گھنٹہ پہلے ہی شائقین اپنی اپنی گھڑیو ں پر نظر جما کر بیٹھ جا تے تھے کہ پروگرام کا وقت شرو ع ہونے میں کتنا وقفہ رہ گیا ہے کہیں آغا ز ان سے رہ نہ جا ئے کیو ں کہ اس پر وگرام کی شروعات ثریا شہاب کی آوا ز سے ان الفا ظ سے ہوتی تھی کہ '' ّآ وا ز کی دنیا کے دوستو، یہ ریڈیو ایر ان زاہدان ہے '' یہ الفا ط سننے کے لیے سما عین بے کل رہتے تھے جب ایر ان میں خمینی کی قیا دت میں اسلامی انقلا ب آیا تو زاہدان سے اردو نشریات بند ہو گئیںاور ثریا شہاب پا کستان لوٹ آئیں جہا ں انہیں اسی دلکش آواز کی بناء پر خبروں کی نشریا ت کے لیے چن لیا گیا ، بعد ازاںوہ اپنی دلکش آوا ز کو لے کر بی بی سی لند ن کی اردو نشر یا ت سے وابستہ ہو گئیں پھر وہیں سے صداکاری کی دنیا کو ترک کر کے پاکستان کو اپنا آخری مستقر بنا دیا اب اس کوبھی چھو ڑ چھا ڑ جہاں دائمی کو اپنا لیا ، اب یہ خوش گفتار نے ہمیشہ کے لیے خاک اوڑھ لی ۔ اللہ مرحومہ کے درجا ت بلند کر ے ۔

متعلقہ خبریں