Daily Mashriq

تجاوزات کے خلاف بھر پور مہم کی ضرورت

تجاوزات کے خلاف بھر پور مہم کی ضرورت

صوبائی دارالحکومت پشاورکے مصروف ترین کاروباری بازاروں نمکمنڈی، ڈبگری، بھانہ ماڑی شعبہ بازار،سرکلر روڈ اور ملحقہ دیگر بازاروں میں تجاوزات نے پوری پوری سڑکوں کو گھیر نے کی شکایت میں ایک مرتبہ پھراضافہ ہورہا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق دکانداروں نے گاہک کو متوجہ کرنے کیلئے اشیاء کو دکانوں سے کئی کئی فٹ آگے بڑھایا ہوا ہے جبکہ راستہ تنگ ہونے کی وجہ سے پیدل چلنے والوں خصوصاً بزرگ شہریوں، خواتین اور طالبات کو سخت مشکلات کا سامنا ہے ان بازاروں میںجوس بیچنے والوں نے اپنے سٹالز، تکہ شاپس والوں نے تکے کی انگیٹھیاں،ڈبگری میں دکانداروں نے چارپائیاں اور بستر جبکہ ورکشاپ والوں نے ورکشاپوں کے سامنے ہر وقت گاڑیاں اور رکشے کھڑے کر رکھے ہوتے ہیں جسکی روک تھام کا کوئی مناسب بندوبست نہیں کیا جارہا۔رپورٹ میں شہر کے چہرے اور تجاوزات کی صورتحال کی درست نشاندہی کی گئی ہے جو سوائے حکام کے ہر کسی کو نظر آتا ہے۔حکام کی آنکھیں بند کئے رکھنے کی وجوہات ذاتی اور اقتدار سے متعلق ہونا بعید نہیں آخرکوئی تو بڑی وجہ ہے جو تجاوزات کے خلاف کارروائی دو ادوار میں ہوئی تھی ایک اس وقت جب افتخار حسین گورنر خیبر پختونخوااور ملک سعد شہید بلدیہ کے ایڈ منسٹریٹر تھے جبکہ دوسراکارنامہ سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے دور میں سرانجام دینے کی سعی کی گئی تھی لیکن موخرالذکر دور میں اسی مہم کو بوجوہ انجام تک پہنچایا نہ جاسکا اس کے باوجود شہر کو بڑے تجاوزات سے پاک کردیا گیا لیکن دھیرے دھیرے رفتہ رفتہ حسب معمول تجاوزات قائم ہونے لگیں اور اسی دور حکومت ہی میں تجاوزات کی بھر مار ہوگئی تھی جس میں اضافہ آج تک جاری ہے لیکن حکومت کو اس طرف دیکھنے کی فرصت نہیں کجا کہ اس کے خلاف منظم مہم شروع کی جائے۔صوبائی دارالحکومت میں قانونی تجارت مشکل ہوتی جارہی ہے جبکہ سڑکوں اور گلیوں میں تجارت پھل پھول رہی ہے موخرالذکر قسم کے قابض تاجروں کو نہ تو ٹیکس دینا پڑتا ہے اور نہ ہی کرایہ اور بجلی وگیس وٹیلیفون کے بل کے اخراجات ہوتے ہیں بس پولیس،ٹریفک پولیس اور بلدیہ کے اہلکاروں کی مٹھی گرم کرنی پڑتی ہوگی حکومتی ادارے ویسے بھی مصلحت اور خفتگی کا شکار ہیں جس کے باعث صوبائی دارالحکومت کا حلیہ بگڑ گیا ہے سوائے بورڈ بازار سے ریڑھیاں ہٹا کر ریلوے کی اراضی پر منتقل کرنے کے حکومتی اداروں کی کوئی کارکردگی دکھائی نہیں دیتی اس صورتحال میں ٹریفک میں خلل قانونی تاجروں کو نقصان اور راہگیرروں کو عذاب جھیلنا پڑتا ہے جس کا نوٹس لینے والا کوئی نہیں۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور وزیر بلدیات کو اس صورتحال کا فوری نوٹس لینے اور تجاوزات کے خلاف بھر پور اور منظم مہم شروع کرنے کی ضرورت ہے حکام اگر دبائو برداشت کرتے ہوئے انتظامیہ کو مکمل آزادی کے کام کرنے کا حوصلہ پیدا کریں تو شہر کو تجاوزات سے پاک کرنا مشکل نہیں۔

چھ ماہ سے ٹھیک نہ ہونے والی مشین!!

ایوب ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد کی واحد ایم آر آئی مشین کی چھ ماہ سے خرابی کے باعث روزانہ35 کے لگ بھگ مریض نجی ہسپتالوں سے ٹیسٹ کرانے پر مجبور ہیں ہمارے نیوز رپورٹر کے مطابق سرکاری طور پر ایم آر آئی کیلئے 45سو روپے چارج کئے جارہے تھے لیکن مشین کی خرابی کی وجہ سے مریضوں کو یہ ایکسریزبازار سے6ہزار روپے تک پڑ رہے ہیں ہسپتال انتظامیہ کا موقف ہے کہ ہسپتال میں مشین خرابی سے متعلق بورڈ آف گورنر کو آگاہ کردیا گیا ہے لیکن ابھی تک اس بارے میں کسی قسم کا فیصلہ نہیں کیا گیا ہے جس کی وجہ مریضوں کو نجی مراکز پر مجبوراً بھیجا جارہا ہے۔عمومی طور پر سرکاری ہسپتالوں اور ارد گرد کے تشخیصی کاروبار سے منسلک افراد کے درمیان گٹھ جوڑ ہوتا ہے یہاں تک کہ ہسپتالوں کے ٹیکنیشنز پر جان بوجھ کر آلات خراب کرنے کا بھی الزام ہے ممکن ہے اس میں صداقت نہ ہو لیکن اس بات میں پوری طرح صداقت ہے کہ ہسپتالوں میں ڈاکٹروں سے لیکر ماتحت طبی عملے کو مریض بھجوانے پر باقاعدہ کمیشن ملتا ہے۔ جہاں تک ایوب ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد کی ایم آر آئی مشین کی خرابی کا سوال ہے کسی بھی مشین کو ٹھیک کرنے کا ارادہ ہو توگھنٹوں اور دنوں کا کام ہے مہینوں کا نہیں۔ہسپتال انتظامیہ نے بورڈ آف گورنرز کو صورتحال سے آگاہ کر کے اپنی ذمہ داری تو پوری کرلی مگر مشین کی خرابی اور تادیر اسے ٹھیک نہ کرانے میں انتظامیہ اگر قصور وارانہ بھی ہو تو ابھی اس کو بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ انتظامیہ کاصر ف اطلاع دینا کافی نہیں اگران کی درخواست پر غور نہیں ہورہا تو ان کو بار بار اس مسئلے کو اٹھانا چاہیئے اور محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر کے صورتحال کی اصلاح کیلئے مدد طلب کرنی چاہیئے تاکہ مریضوں کی جیب کٹنے سے محفوظ رہے اور ان کو معقول نرخ پر ایم آر آئی کی سہولت میسر آئے۔

متعلقہ خبریں