چیئر مین سینیٹ کا احتجاج

چیئر مین سینیٹ کا احتجاج


چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے احتجا جاً کام بند کر کے وزراء کے بائیکاٹ پر مستعفی ہونے کی پیشکش کر دی ہے جبکہ اپنا دورہ ایران بھی منسوخ کر دیا ہے اور سرکاری فائلیں واپس کر کے کہا ہے کہ اب وہ چیئر مین سینیٹ نہیں رہے اس لیے ان کے پاس فائلیں نہ بھیجی جائیں ، کیونکہ اب ان کیلئے ایوان چلانا ممکن نہیں رہا ۔ دوسری جانب وفاقی وزیر اسحاق ڈار رات گئے تک انہیں منانے کی کوشش کرتے رہے تاہم انہیں ناکامی کامنہ دیکھنا پڑا ، جبکہ میاں رضا ربانی کے ساتھ یکجہتی کے طور پر (ن) لیگ کے سینیٹر نثار محمد خان نے بھی اپنا استعفیٰ چیئرمین سینیٹ کو بھیج دیا ہے اور اطلاعات کے مطابق خود وزیر اعظم میاں نواز شریف نے پیر کے روز سینیٹ کے اجلاس میںشرکت کا فیصلہ کیا ہے ۔ یہ بڑی بد قسمتی کی بات ہے کہ تقریباً ہر دور میں جو بھی حکومت برسر اقتدار ہوتی ہے اس پر یہ الزامات عام طور پر لگائے جاتے ہیں کہ وزراء کرام نہ تو قومی اسمبلی نہ ہی سینیٹ میں حاضری کے معاملے میں سنجید گی کا مظاہرہ کرتے ہیں ( یہی حال صوبائی حکومتوں کا بھی ہے ) اور اسی طرح حکومتی کار کردگی کے حوالے سے اراکین کی جانب سے اُٹھا ئے جانے والے سوالات پہلے تو طویل عرصے تک جوابات کے منتظر رہتے ہیں اور اگرجواب بہ امر مجبوری دیتے بھی جائیں تو اصل حقائق مبینہ طور پر نظر انداز کر دیئے جاتے ہیں ، جبکہ گزشتہ روز جب چیئر مین سینیٹ نے یہ فیصلہ کیا تو اس وقت صورتحال یہ تھی کہ وقفہ سوالات میں جوابات آتے ہی نہیں تھے۔ اس پر چیئر مین سینیٹ نے رولنگ دی تو وزراء نے اجلاس کا بائیکاٹ کردیا جو یقینا کوئی جمہوری رویہ نہیں تھا اس لیے چیئرمین سینیٹ نے احتجاجاً حکومت کو اپنا استعفیٰ پیش کرتے ہوئے کام بند کردیا ، جس سے سینیٹ میں بحرانی کیفیت پیدا ہوگئی ہے ۔ وزیر قانون حامد زاہد نے کہا ہے کہ اس معاملے کو حل کرنے کیلئے وفاقی وزراء ، وزرائے مملکت اور پارلیمانی سیکر ٹریز کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے کیلئے حکومت تیار ہے ، مذاکرات کے ذریعے اس معاملے کو حل کرلیا جائے گا ۔ تاہم چیئر مین سینیٹ نے حکومت کی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ رولز اینڈ پر وسیجرز کے تحت ایوان کو چلائوں گا ۔ حکومتی رویئے کے خلاف انہوں نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اپنا احتساب نہیں چاہتی ، غیر تسلی بخش جواب آتے ہیں چیئرمین سینیٹ کے رویئے کو اصولی طور پر درست قرار دیتے بنا کوئی چارہ نہیں ہے کیونکہ جس طرح انہوں نے خطاب میں کہا کہ کوئی ادارہ مقد س گائے نہیں ہے کہ تفصیلات نہ آئیں ، انہوں نے کہا کہ گریڈ 21اور 22کو ریٹائرمنٹ پر کیا مراعات دی جاتی ہیں کوئی بتانے کو تیا رنہیں جبکہ ہمارے پرس میں موجود ہر پیسے کا جواب مانگا جاتا ہے ، اس حوالے سے سینیٹ میں جو تفصیلات مانگی گئی تھیں ان کے حوالے سے حکومت کی جانب سے کسی قسم کا جواب نہ ملنے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بیور وکریسی اس ملک سے حاصل کردہ مراعات کے بارے میں عوام کو بے خبر رکھنا چاہتی ہے ۔ اسلام آباد کے مہنگے ترین علاقوں میں پلاٹس کی بندر بانٹ جس طرح جاری رہتی ہے اس سے ویسے تو غریب عوام واقف نہیں تاہم اس حوالے سے تفصیلا ت کو چھپا کر بیور و کریسی عام لوگوں کی محرومیوں میں اضافہ کر رہی ہے اور حیرت کا باعث امر یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان بھی ان کے آگے چوں چرا تک نہیں کر سکتے ، اس کے پیچھے کیا راز پوشیدہ ہے اس حوالے سے تو متعلقہ وزراء کرام ہی بہتر جانتے ہوںگے ۔ اس لئے نہ صرف وہ یہ معلومات عوام کی نمائندگی کرنے والے ایوانوں کے ساتھ شیئر کرنے پر تیار نہیں ہیں بلکہ الٹا چیئر مین سینیٹ کی جانب سے رولنگ آنے پر سیخ پا ہوکر احتجاج بھی کررہے ہیں ، اس رویئے کونہ تو جمہوری قرار دیا جا سکتا ہے نہ ہی مناسب ، اور خود نون لیگی سینیٹر کی جانب سے چیئر مین سینیٹ کے ساتھ اتفاق رائے کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ اس لیے حکومت کو اپنے اس نا مناسب رویئے کو درست کرنے پر توجہ دینا ہوگی ۔ عین ممکن ہے کہ بعض حکومتی حلقے چیئر مین سینیٹ کے اس اقدام کو موجود ہ سیاسی تناظر کے حوالے سے (ن) لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان کشیدگی کا شاخسا نہ قرار دے کر دوسری سمت موڑ نے کی کوشش کریں تاہم چیئر مین سینیٹ کے رویئے کو اس قسم کی تاویلات کے ذریعے غلط قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ انہوں نے جوبات بھی کی وہ آئین کے عین مطابق کی اور اگر بحیثیت چیئرمین سینیٹ و ہ ایوان بالا کو آئینی تقاضوں کے مطابق چلانے کی بات کرتے ہیں تو یہ کونسی غلط بات ہے ، سیاسی چپقلش اپنی جگہ لیکن اراکین کی جانب سے سولات اٹھا ئے جانے اور وزراء کی مسلسل غیر حاضری جیسے معاملات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ، وزیر اعظم نواز شریف نے پیر کے روز خود ایوان بالا کے اجلاس میں شرکت کا عندیہ دیکر مناسب اور مستحسن اقدام اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے ، تاہم ضروری ہے کہ باقی وزراء بھی دونوں ایوانوں کو سنجید گی سے لیں اور کارروائی کے دوران اپنی حاضری کو یقینی بنائیں۔ خصوصاً جن وزارتوں کے حوالے سے سوالات اٹھا ئے گئے ہوں ، تاکہ ایوان ہائے کی کارروائی خوش اسلوبی سے آگے بڑھتی رہے ۔

اداریہ