مشال خان قتل کی تحقیقات کیلئے عدالتی کمیشن

مشال خان قتل کی تحقیقات کیلئے عدالتی کمیشن

عبدالولی خان یونیورسٹی کے مردان کیمپس میں طالب علم مشال خان کا قتل ہوا۔ اس میں یونیورسٹی کے طلباء ہی مرتکب بتائے جا رہے ہیں۔ اس واقعے کی کیمرے کی آنکھوں سے دیکھی جانے والی شہادتیں بھی موجود ہیں جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہیں۔ یعنی مقتول کے قتل ہونے کی حقیقت بھی تسلیم شدہ ہے اور اس کے بارے میں چشم دید اور شواہد بھی موجود ہیں اور گواہ بھی موجود ہیں۔ اس حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ آٹھ ملزموں کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے اور باقی کی تلاش جاری ہے۔ اب یہ مقدمہ عدالت میں پیش ہونا چاہیے لیکن صوبائی اسمبلی میں جب اس اندوہناک واقعے کا ذکر آیا تو وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے اعلان کر دیا کہ اس واقعے پر عدالتی کمیشن بنایا جائے گا ۔ اور واقعے کے متعلق شواہد سیکرٹری داخلہ سے طلب کر لیے۔ جوڈیشل کمیشن بنانے کی وجہ یقینا یہ ہوگی کہ وزیر اعلیٰ سمجھتے ہوں گے کہ تحقیقات ابھی مکمل نہیں ہے اور ملزموں اور قتل کے محرکات اور اگر محرکین کوئی ہوں تو ان تک رسائی نہیںہو سکی ہے۔یہ سوال ابھر تا ہے کہ آیا جوڈیشل کمیشن بنائے جانے کے اعلان کے بعد مزید تفتیش روک دی جائے گی ، جو شواہد اکٹھے کیے گئے ہیں وہ کمیشن کے سامنے پیش کر نے کے لیے محفوظ کر لیے گئے ہیں؟ اگر محفوظ کر لیے گئے ہیں تو ان کی حفاظت کا کیا بندوبست کیا گیا ہے؟ یہ سوال اس لیے سامنے آیا کہ قتل کی اس بہیمانہ واردات کی تفتیش کے بارے میں سوالات کیے جا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر متحدہ دینی محاذ نے مطالبہ کیا ہے کہ مشال قتل کیس میں جن ملزموں کو گرفتار کیاگیا ہے انہیں فوری طور پر رہا کیاجائے۔ یہ بھی کہا ہے کہ ایف آئی آردرج کرنے میں پولیس نے عجلت دکھائی اور یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ ایف آئی آر میں دہشت گردی سے متعلق دفعات خارج کی جائیں۔ پولیس نے اگر ابتدائی رپورٹ کے اندراج میں عجلت کا مظاہرہ کیا ہے تو یہ پولیس کی اچھی کارکردگی شمار کی جانی چاہیے کیوں کہ پولیس کے خلاف بالعموم شکایت یہ کی جاتی ہے کہ پولیس ابتدائی رپورٹ درج کرنے میں تاخیر سے کام لیتی ہے اور اس شک کا اظہار کیا جاتا ہے کہ اس تاخیر کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ پولیس کو ملزمان کی طرف سے ''رابطہ'' کا انتظار ہوتا ہے۔ جہاں تک ایف آئی آر میں انسداد دہشت گردی کی دفعات خارج کرنے کی بات ہے اس کا انحصار اس بات پر ہونا چاہیے کہ اس بہیمانہ قتل سے دہشت پھیلی ہے یا نہیں۔ اور یہ کام عدالت کے کرنے کا ہے' سیاسی جماعتوں کا نہیں۔ متحدہ دینی محاذ کے جس اجلاس میں یہ مطالبے کیے گئے ہیں اس میں جمعیت علمائے اسلام ' جمعیت علمائے پاکستان اور جماعت اسلامی کے مقامی اور صوبائی قائدین شریک تھے۔ ان وجوہ کی بنا پر یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ اس معاملے کو سیاسی بنایا جا رہا ہے اور مشال خان کے ورثاء کے لیے انصاف کے حصول کے سیاسی رسہ کشی کی نذر ہو جانے کا امکان ہے۔ شاید انہی وجوہ کی بنا پر پولیس تفتیش کی بجائے یہ معاملہ مجوزہ جوڈیشل کمیشن کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے توقع کی جانی چاہیے کہ کمیشن جلد قائم ہو گا اور جلد تحقیقات شروع کرے گا۔ اس کے سامنے پہلا سوال یہ ہو گا کہ آیا قتل ہوا یا نہیں۔ اس سوال کی تشفی کے لیے کمیشن کے سامنے پوسٹ مارٹم رپورٹ ' گواہیاں اور ویڈیوز موجود ہوں گی۔ دوسرا سوال یہ ہو گا کہ اس قتل کی وجہ کیا تھی۔ اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ مقتول نے توہین مذہب یا توہینِ رسالت کا ارتکاب کیا تھا۔ ضمنی سوال یہ ہوں گے کہ آیامقتول بالعموم اس جرم کا ارتکاب کیا کرتا تھا۔ کیا اس نے کسی مجمع کو مخاطب کرتے ہوئے اس جرم کا ارتکاب کیا۔ یا کسی گفتگو میں ایسا کیا تو اس مجمع میں موجود لوگ یا اس کے مخاطبین کی گواہیاں حاصل کی جائیں گی۔ یہ سوال اہم ہو گا کہ کس نے مقتول کو مبینہ جرم کا ارتکاب کرتے ہوئے دیکھا یا پایا۔ اور اس سے اس حوالے سے بحث و تکرار کی۔ اور کس نے مجمع کو مخاطب کرکے اشتعال دلایا کہ مقبول نے مبینہ جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ یہ سوال اہم ہے کہ اس شخص یا اشخاص کے محرکات معلوم کیے جائیں ۔ اس سے معلوم ہو سکے گا کہ قتل پر اکسانے کا محرک ذاتی یا مذہبی اشتعال تھا یا کچھ اور۔ اگلا سوال یہ ہوگا کہ اگریہ مذہبی جذبات کا ابھار تھا تو ردعمل کے طور پر مقتول کو کسی عدالت یا اتھارٹی کے سامنے پیش کرنے کی بجائے قانون کو ہاتھ میں لینے کی کیا وجوہ تھیں۔ جن لوگوں پر قتل کا الزام ہے ان میں سے کن کن لوگوں نے مقتول کا مبینہ ارتکاب جرم ذاتی طور پر دیکھا اور کتنے ایسے تھے جنہوں نے دوسروں کی دیکھا دیکھی مقتول پر تشدد کیا۔ اگر کسی نے مقتول کو ارتکاب جرم کرتے ہوئے نہیں پایا تھا تو بھی انہیں مذہبی جذبات مشتعل ہونے کی ''رعایت'' نہیں دی جا سکتی کیونکہ یہ پڑھے لکھے عاقل و بالغ تھے اور یونیورسٹی کے طالب علم ہونے کی حیثیت سے اختلاف رائے کی اہمیت اور اسے ختم کرنے کے لیے دلیل اور گفتگو کی اہمیت سے واقف تھے۔ جن لوگوں نے محض دیکھا دیکھی مقتول پر تشدد کیا وہ قتل کے ملزم ہیں۔ اور جنہوں نے مقتول پر تشدد میں حصہ نہیں لیا البتہ وہ تشدد ہوتا ہوا دیکھتے رہے انہیں بھی اعانت جرم کا مرتکب سمجھا جانا چاہیے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ جن لوگوں پر قتل کا الزام ہے ان میں اے این پی اور پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے بھی موجود تھے۔ جب کہ یہ سیاسی اشتعال کی واردات نہیں ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ کمیشن جلد قائم ہو گا ' جلد کارروائی شروع کرے گا اور جلد تحقیقات کے نتائج افشا کرے گا۔ اور اس کمیشن کا انجام بھی ویسا ہی نہیں ہو گا جیسا کہ ملک میں بننے والے دوسرے اکثر کمیشنوں کا ہوتا آیا ہے۔ توقع ہے کہ کمیشن اس واردات کو ملک میں عدم برداشت کے بڑھتے ہوئے رجحان پر محمول کر کے خاموشی اختیار نہیں کرے گا کیونکہ اول تو عدم برداشت کے لفظ سے تاثر یہ ملتا ہے کہ شکایت جائز تھی لیکن برداشت نہیں کی گئی۔ اس طرح جرم کو جواز ملتا ہے۔ دوسرے اگر عدم برداشت کو برداشت کیاجائے تو یہ بھی عدم برداشت کے رویے کو فروغ دینے کی کوشش ہو گی۔

اداریہ