Daily Mashriq


بلاک کئے گئے شناختی کارڈز اور چند اہم نکات

بلاک کئے گئے شناختی کارڈز اور چند اہم نکات

اصولی طور پر نادرا کو وضاحت کرنی چاہئے تھی کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بلاک کئے گئے شناختی کارڈز میں سے کتنے شناختی کارڈ افغان باشندوں نے جعلسازی سے بنوا رکھے تھے اور کتنے شناختی کارڈ مقامی باشندوں کے بلاک ہوئے اور اس کی وجہ کیا تھی۔ ادھوری وضاحت اور فراہم کردہ معلومات پر عدم اطمینان یا احتجاج بجا طور پر درست ہے۔ افغان باشندوں کو شناختی کارڈ اور پاسپورٹس کا اجراء فرشتوں نے تو نہیں کیا نا' یہی نادرا کے اہلکار یہ کام کرتے رہے۔ پچھلے چند برسوں کے دوران دو درجن سے اوپر نادرا اہلکار اور افسر معطل ہوئے ان پر الزام تھا کہ انہوں نے رشوت لے کر غیر ملکی باشندوں بالخصوص افغانوں کو شناختی کارڈ جاری کئے۔ کیا ہم یہ پوچھ سکتے ہیں کہ معطل اور گرفتار کئے گئے نادرا اہلکاروں اور افسروں کا کیا بنا۔ سزائیں ہوئیں یا تگڑی سفارشوں نے کام دکھایا؟۔ چند دن ادھر جب نادرا کے اسلام آباد ہیڈ کوارٹر کو یہ سوال ارسال کیا تھا کہ 3لاکھ پشتونوں کے شناختی کارڈ بلاک کرنے کی وجہ اور تفصیل کیا ہے؟ مختصر جواب ملا۔ بلاک کردہ شناختی کارڈ افغان باشندوں کے تھے۔ صد افسوس کہ یہ مختصر جواب نہ صرف نا مکمل بلکہ حقائق کے برعکس تھا۔ کیسی عجیب بات ہے کہ پچھلے سال افغان طالبان کے امیر ملا اختر منصور کی بلوچستان میں ایک ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد ان کا پاکستانی شناختی کارڈ سامنے آیا تو جھٹ سے یہ کہا گیا کہ بلوچستان میں محمود اچکزئی کی پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ نے ہزاروں افغان باشندوں کے شناختی کارڈ بنوائے ہیں۔ اس موقف پر جب سوال اٹھایاگیا کہ آپ کے خیال میں اچکزئی کی پارٹی کے جن ارکان پارلیمنٹ نے غلط طور پر افغان باشندوں کی پاکستانی شہریت کی تصدیق کی ہے ان کے نام اور غلط جاری ہوئے شناختی کارڈز کی تعداد کیا ہے؟ تو جواب میں آئیں بائیں شائیں کے سوا کچھ نہیں تھا۔ پاکستان میں جعلسازی سے مقامی شہری دستاویزات حاصل کرنے کی شرح خطے کے دوسرے تین ممالک بھارت' افغانستان اور ایران کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ یہ پاکستان ہی ہے جو پچھلی چار پانچ دہائیوں سے تارکین وطن کے گم ہو جانے والا محفوظ جنگل بنا ہوا ہے۔ 1990ء کی دہائی کے وسط میں ہماری وزارت داخلہ والے خود یہ تسلیم کرتے تھے کہ 1985ء سے 1995ء کے درمیان کئی لاکھ بھارتی مسلمان ویزوں پر پاکستان پہنچے اور پھر کراچی کے جنگل میں محفوظ ہوگئے۔ نومبر 1998ء میں ایک رپورٹ سامنے آئی جس کے مطابق پاکستان میں لگ بھگ 40لاکھ غیر قانونی تارکین وطن ہیں ان میں بھارت' بنگلہ دیش' برما' افغانستان اور بہائی مذہب کے ایرانی باشندوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ اس رپورٹ سے چند سال قبل جب ہمارے مرحوم دوست میجر(ر) نصیر اللہ خان بابر وزیر داخلہ تھے تو انہوں نے ایک انٹرویو کے دوران مجھے بتایا کہ بھارتی تارکین وطن کے لئے مہاجر قومی موومنٹ اور غیر قانونی افغان باشندوں کے لئے ہماری بعض مذہبی اور قوم پرست جماعتیں معاون کا کردار ادا کرتی ہیں۔ جنرل بابر کا خیال تھا (اور یہ خیال بعض رپورٹس کی بنیاد پر تھا) کہ یہ غیر قانونی تارکین وطن ہر قسم کے جرائم کے لئے سستا خام مال ثابت ہو تے ہیں۔ آگے چل کر یہ سنگین مسائل پیدا کریں گے۔ بعد کے برسوں میں بلوچستان اور کراچی میں بالخصوص غیر قانونی تارکین وطن کے چھوٹے چھوٹے جرائم پیشہ نیٹ ورک سامنے آئے۔ اس وقت جنرل بابر اور بعد کی دوسری حکومتوں کے دوران مرکزی وزارت داخلہ کے ذمہ داروں نے غیر قانونی تارکین وطن کے بوجھ کو کم کرنے کے لئے کیا اقدامات اٹھائے اس سے ہم سب لا علم ہیں۔ سو اگر نادرا والے یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے افغان باشندوں کو جاری ہوئے شناختی کارڈ بلاک کرنے تھے اور ناموں کی مماثلت کی وجہ سے چند ہزار مقامی افراد کے شناختی کارڈ بھی بلاک ہوگئے تو ان کے موقف پر لاٹھیاں برسانے کی بجائے اصل سوال دریافت کیاجانا چاہئے کہ عام نوعیت کی غلطی درست کروانے والے شہری کو تو نادرا کے دفاتر میں ذلیل کیاجاتا ہے سینکڑوں مقدمات نادرا کے خلاف ملک بھر کی عدالتوں میں اس حوالے سے زیر سماعت ہیں کہ فارم پر مہیا کی گئی معلومات کے برعکس کارڈ جاری کرکے اب درستگی نہیں کی جا رہی تو پھر یہ کیسے ہوا کہ لاکھوں کی تعداد میں افغان باشندوں نے پاکستانی شناختی کارڈ بنوا لئے؟میری دانست میں مسئلہ اتنا سیدھا بھی نہیں نادرا والے اپنی غفلت کی پردہ پوشی میں مصروف ہیں تو مقامی متاثرین کے حق میں احتجاج کرنے والے بھی انتخابی سیاست کے لئے کمائی کرنے کا شوق پورا کر رہے ہیں۔ لاریب غلطی ہوئی اور بہت خوفناک بلکہ مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ ہوا۔ اب اس کا علاج تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ شناختی کارڈز بلاک کرنے کے عمل میں جن مقامی شہریوں کے ساتھ زیادتی ہوئی ان سے کھلے دل سے معذرت کی جانی چاہئے البتہ بھاڑے کی بھرتی پروگرام پر عمل سختی سے بند ہونا چاہئے۔ پاکستان عالمی یتیم خانہ نہیں کہ جس کا دل کرے منہ اٹھا کر دندناتا ہوا تشریف لے آئے چند ہزار روپے کے عوض شہری دستاویزات بنوالے۔ ایک بات اور عرض کروں گا اگر وزارت داخلہ پچھلے دس سالوں کے دوران سعودی عرب میں مختلف جرائم میں سزائے موت پانے والے مبینہ پاکستانی شہریوں کی دستاویزات بارے دیانتداری سے تحقیقات کروالے تو پتہ چل جائے گا ان میں سے اصلی پاکستانی کتنے تھے اور رشوت سے دستاویزات بنوانے والے کتنے۔ بہر طور غلطی پر اڑے رہنا غیر ضروری ہے مگر اس سے زیادہ ظلم یہ ہوگا کہ ان مجرموں کی سرکوبی نہ کی جائے جو غیر قانونی طور پر شناختی کارڈ بنوا کر دیتے ہیں۔ قانون کی بالادستی اگر یقینی بنالی جائے تو بہت سارے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں