اچھے لوگ

اچھے لوگ

''سر بس آپ میرے ساتھ چلیں ۔۔پلیز ۔۔مجھ سے نہیں ہوپارہا''شاگر د نے استاد سے کہاتھا ۔استاد بناسوچے سمجھے مان گیا کہ شاگر دکی ناکامی استاد سے دیکھی نہ جاتی تھی ۔ جس دشوارگزارراستے پر جب ان کی جیپ چل رہی تھی کہ جسے ٹیکنیکلی سڑک نہیں کہا جاسکتا تو استاد سوچ رہا تھاکہ کہیں اس نے حماقت تو نہیں کی ۔جب بھی ان کی جیپ کسی پرخطر موڑکورینگ کر مڑتی تو وہ اپنے شاگردکی طرف گھور کے دیکھتا تو شاگرد کی آنکھوں میں اسے پیغام ملتا کہ ''سر میں نے تو کہہ دیا تھا کہ راستہ بہت خطرناک ہے '' ۔یہ وادی چترال سے گرم چشمہ روڈ پر واقع ''ارکاری ''ہے ۔یہ وادی ارکاری دریا کے کنارے آباد ہے ۔ یہ چھ دیہات پر مشتمل وادی ہے۔اس چھ دیہات میں ایک ہی خاندان کے لوگ بستے ہیں ۔ اس گاؤں کے گھروں کی دیواریں نہیں ہیں ۔ لوگ کھیتی باڑی کرتے ہیں اور مویشی پالتے ہیں۔ٹراؤٹ مچھلی کی بہتات ہے ۔پرندوں کا شکاریہاں وافر ہے ۔چیری کے درختوں کی یہاں کوئی کمی نہیں ہے ۔ یہاں کوئی دکان نہیں ۔لوگ قدرتی غذا کھاتے ہیں ۔نہ ہی یہاںکوئی ڈسپنسری ہے ۔لوگ جڑی بوٹیوں سے بڑی بڑی بیماریوں کا خود علاج کرلیتے ہیں۔ یہ وادی صحیح معنوں میں دنیا سے کٹی ہوئی ہے ۔ لیکن لوگ خوشحال ہیں کہ اپنے گھر اور اپنے گاؤں کی خالص زندگی انہیں میسر ہے ۔ یہ ساری باتیں پشاور یونیورسٹی کے پروفیسرڈاکٹر محمد عابد کررہے تھے ۔ وہ گئے تواپنے طالب علم کی مدد کے لیے لیکن لگتا ہے جیسے انہیں قدرت نے ان چھ دیہات کے لوگوں کی زندگی ریسکیوکرنے بھیجا تھا۔اللہ اپنے کاموں پر خوب سمجھتاہے ۔انوائرمینٹل سائنسز کے ابتدائی گریجویٹ ہونے کا اعزاز رکھنے والے ڈاکٹر کا تعلق صوابی سے ہے ۔اور پشاور یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں ۔انوائرمینٹل سائنس میں اپنی منفرد تعلیمی خصوصیت کی بناء پر انہیں ورلڈ وائیڈ سکالر شپ کے لیے منتخب کرلیا ۔یوں وہ ایم فل کرنے کے لیے بیرون ملک چلے گئے ۔ابھی ان کا ایم فل مکمل نہیں ہوا تھاکہ ان کے سپروائزر نے پی ایچ ڈی میں ان کی سفارش کردی تھی ۔اس دوران پشاور یونیورسٹی میں انوائرمینٹل ڈیپارٹمنٹ میں ان کی سلیکشن ہوگئی تو پی ایچ ڈی ادھوری چھوڑ کر پاکستان آگئے ۔ما حو لیات کا حوالہ اس وقت دنیا کا سب سے خوفناک حوالہ ہے کہ انسان نے اس دنیا کو کیا سے کیا بنادیا ہے ۔ خود انسان کی ترقی اور اس کے لائف سٹائل سے دنیا کی تباہی کے شدید خطرات لاحق ہیں ۔ انوائرمینٹل سائنس کا مطالعہ دراصل اس دنیا کو تباہی سے بچانے کا مطالعہ ہے ۔ کون کون سے عوامل ہیں جو دنیا کو فطرت سے دور کررہے ہیں اور کون سے اقدامات اسے واپس فطرت کے قریب لاکر انسان کے لیے ایک اچھے ماحول والی دنیا بناسکتے ہیں ۔ ڈاکٹر عابد اسی ماحولیاتی علم کے دنیا کے چند ایک بڑے ناموں میں شمار ہوتے ہیں لیکن انہوں نے بیرون ملک کام کرنے کی بہت سی پرکشش آفر کو ٹھکراکر پاکستان میں ہی کام کرنے کو ترجیح دی ہے ۔ ڈاکٹر عابد اس وقت پشاور یونیورسٹی کے رجسٹرار کی ذمہ داری نبھارہے ہیں۔ ارکاری گول پاور پراجیکٹ کے حوالے سے وہ کہتے ہیں کہ جب میں وہاں گیا تو اس گاؤں کے لوگوں کو میں نے پریشان دیکھا ۔ وجہ یہ تھی کہ اس پاور پراجیکٹ میں ان کے گاؤں کو مکمل طور پر ختم کرنے کا اعلان ہوچکا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنے طور پر اس پاور پراجیکٹ کی تکنیکی بنیادوں پر مطالعہ کیا توایک رپورٹ تیارکی ۔جس کے مطابق 99میگاواٹ کے اس پراجیکٹ کی اونچائی چند فٹ بڑھا دی جائے تو یہ دیہات بچ سکتے ہیں اور منصوبہ بھی کامیاب رہے گا صرف 2میگاواٹ کا فرق آئے ۔ ان کی رپورٹ نے تہلکہ مچادیا ۔انہیں اسی پاور پراجیکٹ میں اپنی رپورٹ کے حوالے سے اسلام آباد بلایا گیا تو انہوں نے وہاں بھی موجودتمام تر تکنیکی ماہرین کے سامنے اپنا موقف پیش کیا کہ جسے پہلے ایک جرمن کنسلٹنٹ فرم کے نمائندوں نے تسلیم کیا اور بعد ازاں دیگر ماہرین بھی ان کی بات پر آگئے یوں ارکاری وادی کے لوگ اپنی نیچرل زندگی سے بے دخل ہونے سے بچ گئے ۔اسی جرمن کنسلٹینسی نے بعد میں ڈاکٹر صاحب کو اپنی فرم میں کام کرنے کے پرکشش آفر کی لیکن انہوں نے فرائض منصبی کی بنیاد پر انکار کردیا۔پشاور یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی ہے سو اس سے محبت لازمی امر ہے ۔ اور کیسے کیسے عالم فاضل لوگ اس یونیورسٹی سے وابستہ ہیں اس سے پہلے بھی یونیورسٹی سے وابستہ رہے ہیں جو اس کی شان میں اضافہ کا باعث بنے ہیں ۔ ڈاکٹر عابد سے ان کے دفتر میں ملاقات کے دوران میں نے محسوس کیا ہے کہ یہ دفتر جو کبھی ''یہ شارع عام نہیں ہے ''کا غیر اعلانیہ اشتہار تصور ہوتا تھا۔ اب یہاں ہر کوئی آرہا ہے اور اپنے مسئلے مسائل براہ راست رجسٹرار کے سامنے رکھ رہا ہے ۔ میں نے اس بابت ڈاکٹر صاحب سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہ ان کی پالیسی کا حصہ ہے ۔ یونیورسٹیوں میں رجسٹرار کی حیثیت ماں کی سی ہوتی ہے ۔ ماں کے پاس بچے اپنی فرمائشیں ، مسائل ، اپنی کمزوریاں لے کر آتے ہیں ۔ یونیورسٹیوں میں اساتذہ،دیگر سٹاف اور طالب علم اپنے اپنے مسائل رکھتے ہیں ۔ رجسٹرار ایک ماں اپنے اصول و ضوابط اور معروضی حالات کے تناظر میں ان مسائل کو حل کرتا ہے ۔ یونیورسٹیاں کسی بھی سماج کے لیے اکسیجن کی حیثیت رکھتی ہیں ۔ اگر ان یونیورسٹیوںکی نظامت بہترین ہاتھوں میں نہ ہو تو آکسیجن کی مقدار کم ہوجاتی ہے ۔ شکر ہے کہ میری یونیورسٹی،پشاور یونیورسٹی محفوظ ہاتھو ں میں ہے ۔

اداریہ