Daily Mashriq


ہماری جامعات کو کیا ہوگیا ؟

ہماری جامعات کو کیا ہوگیا ؟

جامعات کسی بھی قوم کی اعلیٰ ذہانت اور اخلا قیات کے حامل لوگوں کے مراکز تصور ہوتے ہیں ۔ آج سے کچھ عرصہ قبل جامعہ پشاور میں پورے صوبے کے کالجوں سے گریجو یشن کرنے کے بعد طلبہ و طالبات ایم اے اور ایم فل و پی ایچ ڈی کی سطح کی تعلیم کے حصول کے لئے آتے تو وہ اچھے بھلے سنجید گی و متانت کے حامل ہوتے تھے ۔ جس کی وجہ سے اُن کی پوری توجہ اپنے نصب العین پر ہوتی تھی ۔ ستر کے عشرے میں طلبہ انتخابات بھی تھے جس کے سبب طلبہ سیاست کے رموز سیکھتے اور اپنی مادر جماعتوں کے سیاست دانوں سے صبر و تحمل کی تربیت بھی لیتے ۔ خود طلبہ پر بہت بڑی ذمہ داری عائد تھی کیونکہ منتخب کا بینہ نے طلبہ کی امید وں اور توقعات پر پورا اُتر نا ہوتا تھا ۔ اگر چہ بعض اوقات اُس نظام میں بھی طلبہ کے مختلف گروپوں میں جھگڑے وغیرہ بھی ہو جاتے ، لیکن ساری خرابیوں کے باوجود آج جیسے حالات نہ تھے ۔ جنرل ضیا ء الحق کے دور میں انجینئر نگ یونیورسٹی پشاور میں ایک طالب علم کے قتل کے نتیجے میں جب سٹوڈنٹس یونینز پر پابندی لگ گئی تو کسی نے بہت ترد د کیا کہ اس کے ہمارے جامعات اور طلبہ پر کیا اثر ات مرتب ہوںگے ۔

حالانکہ چاہیئے یہ تھا کہ طلبہ یونینز پر پابندیاں لگا نے کی بجائے اس میں پارلیمنٹ کے ذریعے قانون سازی کر کے اصلاحات کی جاتیں ۔ طلبہ و طالبات کو اپنے جذبات اور غیر نصابی سرگرمیوں کے لئے کوئی مناسب فورم اور ذرائع نہیں ملیں گے تو ظاہر ہے کہ چڑھتی جوانی کے جذبات اور امنگیں منہ زور سیلابی ریلے کی مانند ہوتی ہیں ۔ جو بعض اوقات بہت خرابی کا باعث بن جاتی ہیں ۔ اس وقت وطن عزیز اور بالخصوص پختونخوا کے تقریباً ہر ضلع میں کوئی نہ کوئی یونیورسٹی قائم ہے جس میں زیادہ طلبہ و طالبات مقامی اور ارد گرد کے مضافاتی اور قریبی علاقوں سے آتے ہیں ۔ وہ اپنے ساتھ مقامی کلچر اور عادات و اطوار ساتھ لاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ مقامی طلبہ اپنے آپ کو محفوظ تصور کرتے ہیں اس لئے بعض اوقات معمولی باتوں پر سینہ زوری دکھانے سے گریز نہیں کر تے ۔ سٹو ڈنٹس یونینز نہ ہونے کے باوجود سیاسی جماعتوںکے طلبہ و نگز موجود ہیں اور ہر ایک ونگ کو متعلقہ سیاسی جماعت کی بھر پور آشیر باد حاصل ہے ۔ اس سیاست کا ذبہ نے ہماری جامعات میں اساتذہ کے درمیان جو نفرتیں اختلافات اور کدورتیں پیدا کی ہیں اس کا اندازہ جامعات کے اندر جا اور اساتذہ سے مل کر ہو تا ہے ۔ پختونخوا کی نو جامعات اس وقت پر ووائس چانسلر یاسینئر ڈینز کے رحم وکرم پر گزشتہ کئی مہینوں سے چل رہی ہیں ۔ جس کے یونیورسٹیوں سے معاملات بالخصوص تعلیمی و انتظامی امور بری طرح متاثر ہو رہے ہیں ۔ اور اس حوالے سے زیادہ متاثر پشاور یونیورسٹی ہے ۔ نئی انتظامیہ او رمنتخب ارکان پیوٹا کے درمیان کئی ایک اہم معاملات کے حوالے سے شدید اختلا فات ہیں ۔ اسی طرح جامعہ عبدالولی خان 21مارچ سے آج تک بغیر وائس چانسلر کے ''رواں دواں '' ہے ۔ گزشتہ دنوں ایک طالب علم کے قتل کا جو افسوس ناک واقعہ پیش آیا اس کی پشت پر ہماری جامعات میں وائس چانسلر کی عدم موجودگی کا بہت بڑا ہاتھ ہے ۔ ادارے کا سربراہ موجود ہو اور چاک و چوبند ہو ، تو یو نیورسٹی کے چپڑاسی سے لیکر ڈینزاور پروفیسر اور انتظامیہ تک سب اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہیں اور جب نگران اعلیٰ نہ ہوتو ہمارے ملک میں خوف خدا اور فرض شناسی کا حال تو سب کو معلوم ہے ۔ لہٰذ ا صوبائی حکومت کو چاہیئے کہ جتنا جلد ممکن ہو ، جامعات میں مستقل شیوخ الجامعہ کی تقرری عمل میںلائے ورنہ کہیں ایسانہ ہو کہ بہت دیر ہوجائے اور پھر بعد از خرابی بسیار اقدامات پر پچھتا نا پڑے ۔ مذکورہ واقعہ کے حوالے سے اخبارات میں جو خبر آئی ہے وہ یہ ہے کہ طلبہ کے درمیان مذہب کے حوالے سے بحث و مبا حثہ ہو رہا تھا ، جس میں نوبت تلخی تک پہنچی ، رات گزری ، بات بھی گزر جانی چاہیئے تھی ، اگر جامعات کے ہاسٹلوں میں وارڈن ہوتے اور اس قسم واقعات کے وقوع پذیر ہونے پر طلبہ کی رہنمائی کرتے اور اُن کو اعتماد میں لیکر Consuleکرتے تو ا س قسم کے فسوس ناک واقعات جنم نہ لیتے ۔ صوبائی حکومت اور جامعات کے وائس چانسلر اور انتظامی افسران بالخصوص سیکورٹی آفیسرز ، اور پولیس کو چاہیئے کہ جامعات میں طلبہ و طالبات کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں ۔ اُن کی تربیت اور رہنمائی کے لئے باقاعدہ شعبہ قائم کیا جائے ۔ اس کے طلبہ کوسیمینارز ، تقریری مقابلے اور کھیل کود اور ورزش کے پروگرام ، پابندی کے ساتھ منعقد کرائے جائیں ، تاکہ جامعات اپنے مقاصد و اہداف کے حصول و تکمیل کی طرف بڑھیں ۔ جامعات کے نوجوان طلبہ و طالبات کو یاد رکھنا چاہیئے کہ توہین مذہب کے الزام پر کسی کو سزا دینا ، اسلامی تعلیمات وا حکام کے منافی ہے ۔ ہاں ، خدا نخواستہ ایسا کوئی مذموم واقعہ ہو بھی جائے تو پاکستان کے آئین و دستور اور انتظامیہ اور قانون کے حوالے کرنا ہوگا ۔ ورنہ جن معاشروں میں لوگ خود ہی قانون ہاتھ میں لیتے ہیں وہاں انار کی انتشار ، بغاوت اور فساد پھیلنے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں ۔ لہٰذا حکومت کو صوبے کے دانشور وں صحافیوں ، علماء اور دیگر شعبہ ہائے زندگی کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی بنا کر جامعات کے معاملات کی تحقیق کر کے ملک وقوم کے مستقبل کے معماروں کی تعلیم و تربیت کے خصوصی انتظامات کے لئے منصوبہ بندی کرنی چاہیئے ۔

متعلقہ خبریں