Daily Mashriq


جنوبی پنجاب صوبے کا مطالبہ اور حکمرانو ں کی ٹال مٹول

جنوبی پنجاب صوبے کا مطالبہ اور حکمرانو ں کی ٹال مٹول

وقت جب حکمران مسلم لیگ کے جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کے مطالبہ کے منظور نہ ہونے پر پارٹی سے اور قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے استعفے دے رہے ہیں ،وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ملک میں نئے صوبوں کے قیام کے لیے سب سیاسی پارٹیوں کو مل بیٹھ کر بات کرنی چاہیے۔ انہوں نے اس کے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ سندھ‘ بلوچستان اور خیبر پختونخوا سے بھی نئے صوبوں کا مطالبہ آ رہا ہے۔ ن لیگ کی حکومت کی مدت ختم ہونے میں چالیس دن کے قریب عرصہ رہ گیا ہے اور ملک میں عام انتخابات کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ وزیر اعظم اس وقت یہ بیان دے رہے ہیں کہ ملک کے سبھی صوبوں سے نئے صوبے بنانے کی آوازیں آ رہی ہیں اس لیے اس موضوع پر سب جماعتوں کو مل بیٹھ کر بات کرنی چاہیے۔ اس بیان سے یہ صاف نظر آتا ہے کہ وزیر اعظم جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے مطالبہ کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ ن لیگ کا عمومی وتیرہ رہا ہے کہ جس مسئلے کو پش پشت ڈالنا ہو تو اس پر کمیشن بنا دیا جائے۔ وزیر اعظم نے کمیشن کی بات تو نہیں کی ہے اس سے بھی زیادہ دیر طلب نسخہ تجویز کیا ہے کہ تمام پارٹیوں کو نئے صوبوں کی تشکیل کے بارے میں مل کر بیٹھنا چاہیے ۔ یہ تجویز انہوں نے اس وقت دی ہے جب عام انتخابات کے لیے حلقہ بندیاں شائع ہونے کے بعد ان پر اعتراضات زیرِ سماعت ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وزیر اعظم جنوبی پنجاب صوبہ کے مطالبے کو ٹال دینا چاہتے ہیں۔ جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ نیا نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی بھی اس کی حمایت کر چکی ہے اور 2013ء کے انتخابات سے پہلے مسلم لیگ نے بھی اس کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ نہ صرف یہ بلکہ ایک طرف بہاولپور صوبہ کے مطالبہ کی بھی حمایت کی تھی اور دوسری طرف جنوبی پنجاب صوبہ کے مطالبہ کی بھی حمایت کی تھی بہاولپور جس کا ایک حصہ ہے۔ن لیگ کی حکومت کے پاس گزشتہ ساڑھے چار سال کا عرصہ تھا جس میں پنجاب میں بھی اس کی حکومت تھی اور وفاق میں بھی۔ لیکن اس سارے عرصہ میں ن لیگ نے اس موضوع پر کوئی پیش رفت نہیں کی اور نہ ہی اس سے پہلے پیپلز پارٹی کی حکومت نے اپنے دور میں اس مطالبہ کی منظوری کی طرف دھیان دیا۔ اس سے مقتدر طبقات کا رویہ صاف نظر آتا ہے کہ جنوبی پنجاب میں نیا صوبہ نہیں بنانا چاہتے بلکہ ٹال مٹول کر کے اس معاملے کو طول دے رہے ہیں ۔ اس کی ایک اہم وجہ صاف ظاہر ہے کہ پنجاب ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ پنجاب کی آبادی کم و بیش گیارہ کروڑ ہے جب کہ باقی صوبوں کی کل آبادی بھی اس ایک صوبے کی آبادی کے برابر نہیں پہنچتی۔ اس طرح جو پارٹی پنجاب میں حکومت بنا لے وہ وفاق میں بھی حکومت بنا سکتی ہے۔ اس لیے مقتدر قوتیں پنجاب کو تقسیم نہیں ہونے دینا چاہتیں۔ حالانکہ جنوبی پنجاب ایک الگ اکائی ہونے کے مقتضیات موجود ہیں۔ اس کے باوجود جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ ثقافتی اور لسانی بنیادوں پر نہیں کیا جا رہا بلکہ انتظامی بنیادوں پر الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جس کے لیے کوئی ہوم ورک کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ پہلے سے جو انتظامی یونٹ موجود ہیں انہی میں سے جنوبی پنجاب کے یونٹوں کو ملا کر نیا صوبہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ اس انتظامی تبدیلی سے جنوبی پنجاب کے عوام کو سہولت میسر آجائے گی جو لاہور کے فیصلوں کا انتظار کرتے رہتے ہیں ۔ جنوبی پنجاب کے لوگوں کو شکایت ہے کہ ان کے علاقے میں ترقیاتی کام نہیں کیے جاتے۔ تعلیم اور صحت کی جو سہولتیں لاہور کے گرد وسطی پنجاب میں ہیں وہ جنوبی پنجاب میں نہیں ہیں۔ جنوبی پنجاب زرعی پیداوار کا علاقہ ہے ، اس لیے نیا صوبہ کسی اعتبار سے بھی کسی دوسرے یونٹ کا محتاج نہیں ہو گا۔ حاصل کلام یہ ہے کہ جنوبی پنجاب صوبہ کی تشکیل میں کوئی رکاوٹ ماسوائے حکمرانوں کے ارادوں کے نہیں ہے۔ قانون سازی کی دو تین دن پر مشتمل مشق کے ذریعے نیا صوبہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اس حوالے سے کہا ہے کہ الیکشن سے چند ماہ پہلے پریس کانفرنسوں سے مسئلے حل نہیں ہوتے اور یہ کہ وفاداریاں بدلنے کا زمانہ چلا گیا۔ ان کا اشارہ اس پریس کانفرنس کی طرف تھا جس میں شریک جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے جنوبی پنجاب صوبہ کے مطالبہ پر زور دیتے ہوئے ن لیگ سے منحرف ہونے کا اعلان کیا۔ اس طرح وزیر اعظم نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ ان ارکان اسمبلی کا ن لیگ سے مستعفی ہونے کا فیصلہ انتخابی سیاست کا حصہ ہے‘ جنوبی پنجاب صوبہ کا مطالبہ حقیقی مطالبہ نہیں ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ الگ صوبے کا مطالبہ جنوبی پنجاب کے عوام کا مطالبہ ہے۔ اسی لیے موجودہ حکمران ن لیگ اور سابق حکمران پیپلز پارٹی دونوں کے قائدین نے اس صوبے کی حمایت کی۔لیکن اس حمایت کے باوجود صوبے کے قیام کی طرف کوئی پیش رفت نہیں کی ۔ اب حکومت کے تھوڑے دن رہ گئے ہیں تو علاقے کے عوام اپنے ارکان اسمبلی سے سوال کرتے ہیں کہ ان کے لیے الگ صوبے کے قیام کا وعدہ کیوں وفا نہیں ہوا؟ مستعفی ہونے والے ارکان اگر یہ کہتے ہیں کہ اس مطالبے سے انحراف کے ساتھ وہ اپنے ووٹروں کے پاس نہیں جا سکتے تو ان کی بات میں وزن ہے۔ ان ارکان کے مطالبہ کے بعد پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ارکان صوبائی اسمبلی کا ایک اجلاس بلایا۔ اس اجلاس میں بھی کہا جا رہا ہے کہ میاں شہباز شریف کو بتایا گیا کہ علاقے کے عوام اپنے نمائندوں پر الگ صوبے کے قیام کے لیے زور دے رہے ہیں۔ میاں شہباز شریف کے ان ارکان اسمبلی سے مذاکرات کس قدر کامیاب ہوئے یہ وہی بتا سکتے ہیں۔ تاہم موجودہ حکومت جنوبی پنجاب صوبہ کے مطالبہ کے حوالے سے ٹال مٹول کر کے صورت حال خراب کرنے کی طرف بڑھ رہی ہے اور وزیر اعظم نے تو تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے اور دیگر صوبوں میں بھی نئے صوبے بنانے کے مطالبات کو شامل کر نے کی شرط عائد کر کے جنوب پنجاب کے عوام کو مایوس کر دیا ہے مسائل کو پس پشت ڈالنے سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ آئندہ زیادہ گمبھیر ہو کر سامنے آتے ہیں۔

متعلقہ خبریں