Daily Mashriq

میڈیا ہوشیار باش

میڈیا ہوشیار باش

خبر گرم ہے کہ نیب کا دائرہ اختیار وفاقی ملازمین تک محدود کرنے کے لیے ایک آئینی ترمیم لائی جا رہی ہے۔ ایک ٹی وی اینکر نے ایک غیر مصدقہ مسودہ بھی ایک شو میں لہرایا لیکن پڑھا نہیں۔ عام انتخابات میں جب ڈیڑھ مہینہ باقی ہے اس وقت آئینی ترمیم لانا ایک عجیب بات لگتی ہے۔ وہ بھی اس پارلیمانی موسم میں جب قومی اسمبلی کا کورم بار بار ٹوٹتا ہوا نظر آتا ہے اور سیاسی پرندوں کے آشیانے بدلنے کی خبریں بھی روزانہ آ رہی ہیں یہ ممکن نظر نہیں آتا کہ حکومت کوئی ایسا مسودہ قانون پیش کر دے گی جس سے اس کی جگ ہنسائی ہی ہو سکتی ہے۔ اگر کوئی ایسا مسودہ قانون قومی اسمبلی میں منظور بھی ہو جاتا ہے تو سینیٹ میں اس کے لیے رکاوٹ ہو گی جہاں مسلم لیگ ن کے مقابلے میں اپوزیشن پارٹیوں نے حال ہی میں سینیٹ چیئرمین کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اور پھر متذکرہ بالا ٹی وی شو میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر کوئی ایسا قانون بنایا جاتا ہے جو قوانین کی روح سے متصادم ہو تو سپریم کورٹ اسے ختم کر سکتی ہے۔ یہ سب باتیں مفروضوں کی بنا پر کی جا رہی ہیں۔ اگر حکومت کا کوئی ایسا قانون لانے کا ارادہ ہوتا تو اس میں بہت تیزی سے کام کیا جاتا اور اسمبلی سے باہر بھی اس کے لیے سیاسی پارٹیوں کی مدد حاصل کی جاتی۔ لیکن ایسی سر گرمی نظر نہیں آتی۔ کیونکہ حکومت کے دن تھوڑے رہ گئے ہیں اس لیے یہ مسودہ قانون بہت جلد اسمبلی میں پیش کر دیا جاتا ، ایسے بھی کوئی آثار نہیں ہیں تو پھر یہ سوال زیرِ غور ہونا چاہیے کہ کون ہے جو ایسے مسودہ قانون کی غیر مستند ہی سہی نقل میڈیا کے لوگوں کو فراہم کرتا ہے اور اس کے مقاصد کیا ہیں۔ جہاں تک اس خبر کے حقیقی ہونے کی بات ہے اس بارے میں سطور بالا میں ایسے شواہد کا ذکر کیا جا چکا ہے جن کی بنا پر اس خبر میں حقیقت نظر نہیں آتی البتہ اس کارروائی کے مقاصد کا ضرور اندازہ ہو جاتا ہے۔ اگر اس خبر پر یقین کر لیا جائے کہ نیب کا دائرہ کار صرف وفاقی محکموں تک محدود کیاجا ر ہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ پنجاب میں جہاں آج کل نیب سرگرم ہے پچاس سے زیادہ کمپنیوں کی تحقیقات ہو رہی ہیں جو حکومت پنجاب یعنی وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی منظوری سے بنائی گئیں یہ تحقیقات ختم ہو جائیں گی یہ پیغام جاتا ہے کہ پنجاب کی مسلم لیگ ن کی حکومت مضبوط ہے، اسے نیب کی کارروائی سے تحفظ مل گیا ہے لہٰذا جو لوگ آج پنجاب میں ن لیگ سے منحرف ہونے کا سوچ رہے ہیں ان کو تسلی ہو جائے گی کہ حکمران قوت اب بھی ن لیگ کی ہے۔ پنجاب میں نیب کی کارروائی ختم ہونے سے پنجاب کی بیوروکریسی کو بھی یہ پیغام جائے گا کہ ن لیگ کی حکومت مضبوط ہے اور وہ حکومت کی وفاداری کا ثبوت دیتے رہیں بلاامتیاز احتساب سے کسی کو انکار نہیں۔ چاہے صوبائی ادارے ہوں یا وفاقی سب کا احتساب لازمی ہے اس سے ادارے کرپشن سے پاک ہوں گے اور ان کی کارکردگی بھی بہتر ہوگی۔ میڈیا والے بڑے سیانے ہوتے ہیں لیکن جب کوئی خبر ان کے ہاتھ آ جاتی ہے تو وہ طبعاً اسے سب سے پہلے نشر کرنے پر مائل ہو جاتے ہیں ۔ اس لیے میڈیا والوں کو ہوشیار رہنا چاہیے ‘ انہیں ایسی خبروں کے افشاء کے بارے میں خبر دار رہنا چاہیے جنہیں صحافت کی دنیا میں ایکس کلوسیو کہا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں