Daily Mashriq


طاقت کا شہابِ ثاقب

طاقت کا شہابِ ثاقب

طاقت ازخود ایک چمکدار روشن اور رخشاں، نیر وتاباں شے کا نام ہے۔ یہ اقتدار کی ہو تو مزہ دوآتشہ ہو جاتا ہے۔ زمانہ اس کے آگے بچھتا چلا جاتا ہے۔ معاملات کے بند دریچے کھلتے چلے جاتے ہیں۔ صاحبان طاقت واختیارکا لباس، وضع قطع اور جملے رواج بن جاتے ہیں۔ طاقت مینجمنٹ کا تڑکا لگانے کے فن سے آشنا ہو جائے تو کیا ہی بات ہے تب مورخ بھی دست بستہ کھڑا ہو کر امیج بلڈنگ یوں کرتا ہے کہ طاقتور کی خامیاں بھی خوبیاں بن جاتی ہیں۔ تاریخ اس کی اداؤں کا عنوان بن کر رہ جاتی ہے۔ طاقت کی چمک دمک خیرہ کن ہوتی ہے۔ بس اس کا کیا کیجئے کہ مطلق طاقت کے اندر ہی کمزوری کے اجزاء چھپے ہوتے ہیں۔ طاقت بے مقصدیت کی بلندیوں کو چھونے لگے تو پھر اس کے اندر ہی ٹوٹ پھوٹ کا عمل شروع ہوتا ہے اور یوں ایک روز طاقت کا شہاب ثاقب اپنی روشنیوں اور رنگوں میں گم ہوکر پیوند خاک ہو جاتا ہے۔ میاں نوازشریف بھی پاکستانی سیاست کا ایسا شہاب ثاقب ہیں جو تین بار خود اپنی طاقت کی چکاچوند اور روشنیوں میں گم ہوئے۔ ہر تصادم میں وہ پاکستان کے معروضی حقائق کو سمجھنے میں ناکام رہے۔ وہ مطلق طاقت سمیٹنے کی خواہش کے جس سفر پر نکل کھڑے ہوتے رہے اس کا انجام جیل، ریل اور جلاوطنی کی شکل میں برآمد ہوتا ہے۔ کبھی وہ اُردن کے شاہ حسین بننے کے شوق میں تو کبھی ترکی کے اردوان بننے کی تمنا میں اقتدار کی جادونگری میں اس قدر دور نکلتے رہے کہ واپسی کا راستہ ہی بھول جاتے رہے۔ جو باتیں سیاسیات کے ایک عام طالب علم کو سمجھ آرہی تھیں تصادم کے ہر دور میں وہ میاںنوازشریف اور ان کے مشیروں اور مصاحبوں کو سمجھ نہ آسکیں۔ مجھے یاد ہے کشیدگی کے پہلے دور میں میں نے ایک کالم ’’میاں صاحب یہ پاکستان ہے‘‘ کے عنوان سے عرض کی کہ وہ پاکستان میں برطانیہ کی جمہوریت تلاش نہ کریں اپنی جمہوریت پسندی کو پاکستان کے زمینی حقائق سے آشنا کرکے چلیں۔ ایشیا کا شاہ حسین بننے سے گریز کریں۔ ایک اور کالم ’’میاں صاحب آگے اڈیالہ ہے‘‘ کے عنوان سے دوسرے دور اقتدار میں کشمکش کے عروج کے دنوں میں لکھا کہ میاں صاحب اس سے زیادہ طاقت سمیٹنے کی کوشش نہ کریں، طاقت کے اس سفر میں آگے اڈیالہ ہے۔ ایک کالم ’’طاقت کی کمزوری‘‘ کے عنوان سے لکھا جس میں گزارش کی تھی کہ اور کتنی طاقت سمیٹیں گے اس سے زیادہ طاقت پاکستان میں ہضم نہیں ہوتی اور اس کے بعد شکست وریخت کا خودکار نظام حرکت میں آئے گا۔ آج تیسری بار میاںنوازشریف کی بے تاب سیاست حادثہ کروا بیٹھی ہے تو ان میں ہر عنوان آج کے حالات پر صادق آتا ہے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم عدالت عظمیٰ کے بینچ نے ارکان پارلیمنٹ کی نااہلی کی مدت کے تعین سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل62 ایف ون کے تحت نااہلی تاحیات ہے۔ اس شق کے تحت نااہل ہونیوالا شخص عمر بھر الیکشن نہیں لڑ سکتا۔ سابق وزیراعظم میاں نوازشریف اور پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین کی نااہلی بھی آئین کے اسی آرٹیکل کے تحت ہوئی ہے۔ پچاس سے زائد صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین کے تحت عوام کو صادق اور امین قیادت ملنی چاہئے اگر ایسا نہیں ہوتا تو نااہلی تاحیات رہے گی۔ البتہ سپریم کورٹ کا کوئی فیصلہ ہی اس فیصلے کو کالعدم قرار دے سکتا ہے۔

جہانگیر ترین کا معاملہ اس لحاظ سے جدا ہے کہ وہ رفتہ رفتہ عملی سیاست کو خیرباد کہتے جا رہے ہیں جس کا مظاہرہ انہوں نے ضمنی الیکشن میں اپنے بیٹے کو امیدوار بنا کر کیا تھا۔ اس کے برعکس میاں نوازشریف ایک قومی راہنماء ہیں اور ان کے سیاسی پیروکاروں کی بڑی تعداد ملک کے طول عرض میں موجود ہے۔ ایک بڑی اور حکمران جماعت ان کے نام سے منسوب اور وابستہ ہوکر ن لیگ کہلاتی ہے۔ مرکز اور پنجاب میں یہ جماعت تادم تحریر حکمران بھی ہے۔ خود نوازشریف تین بار ملک کے وزیراعظم رہ چکے ہیں۔ رہنے دو ابھی ساغر ومینا میرے آگے کے انداز میں وہ سیاست اور اقتدار کی اننگز ابھی پوری طرح کھیلنے کے خواہش مند بھی تھے اور اپنے اندر اس کی توانائی بھی محسوس کر رہے تھے۔ عالمی اسٹیبلشمنٹ میں بھی ان کو خاصی قبولیت اور پذیرائی حاصل ہے۔ وہ اپنا بیانیہ مغربی بلاک کی خواہشوں اور ضرورتوں سے بڑی حد تک ہم آہنگ کر چکے ہیں۔ مغربی طاقتوں کے سب خوشہ چین، این جی اوز کے پروردہ سب ان کے گرد جمع ہو چکے ہیں۔ ماضی میں یہ سہولت بینظیر بھٹو کو حاصل تھی جب مغرب انہیں ایک روشن خیال اور لبرل سیاسی قائد کے طور پر دیکھ رہا تھا اور اس راہ پر آگے بڑھنے میںان کی بالواسطہ مدد بھی کی جا رہی تھی۔ اس وقت میاں نوازشریف کو دائیں بازو اور ملکی اسٹیبلشمنٹ کا نمائندہ سمجھا جاتا تھا۔ بعد میں میاں نوازشریف نے اپنے اوپر لگا یہ لیبل اُتار پھینکا اور یوں مغرب نے انہیں پیپلز پارٹی کا بہترین متبادل سمجھ کر قبول کیا۔ ان کے خیال میں میاں نوازشریف پنجاب سے تعلق رکھنے کی وجہ سے زیادہ بڑے اور بہادرانہ فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ میاں نوازشریف نے بھی اس راہ میں پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ اس کشمکش میں میاں نوازشریف کئی بار محروم اقتدار بھی ہوئے اور جلاوطن اور قید بھی رہے۔ میاںنوازشریف کی سیاست کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنا کیمپ بدل دیا۔ جس خیمے میں ان کی پرورش اور تربیت ہوئی وہ اسے چھوڑ اور توڑ کر عالمی کیمپ میں جابسیرا کر بیٹھے۔ تیسری بار ان کے اقتدار کا غیر فطری انجام سے دوچار ہونا اور ان کی سیاست کا ایک حادثے کا شکار ہونا بتاتا ہے کہ قسمت انہیں باربار موقع فراہم کرتی ہے وہ اپنی طاقت کو زمینی حقائق سے ہم آہنگ اور آشنا کرنے کی بجائے اپنی طاقت کی چکاچوند میں ٹوٹ گرتے رہے۔

متعلقہ خبریں