Daily Mashriq


عوام اور ووٹ کی عزت

عوام اور ووٹ کی عزت

اگرچہ میں بوجوہ سیکولر مغربی جمہوریت کا نہ طرف دار ہوں، اور نہ اس کا وکیل ، لیکن جب تک ہمیں اس کا کوئی عملی متبادل مل نہ جائے تب تک اسے نہ چاہتے ہوئے بھی زیر عمل لانا ہوگا کیونکہ ریاست اور حکومت چلانے اور عوام کی خدمت اور اُن سے رابطہ رکھنے کے لئے بہر حال اس وقت یہ ایک چالو ، بہتر اور ایک لحاظ سے ناگزیر نظام ہے ۔ مغرب نے اس کو ایجاد کر کے بہر حال اس سے فوائد بھی سمیٹے ہیں اور بعض حوالوں سے ناقابل تلافی سماجی ومعاشرتی و مذہبی نقصانات اُٹھائے ہیں لیکن اپنے ملک میں گزشتہ (71) برسوں سے جمہوریت، جمہوریت کی رٹ تو بہت سنتے رہے ہیں لیکن آج تک ہماری سیاسی جماعتوں اور لیڈروں ورہنماؤں نے کبھی اپنی پارٹی میں بھی اس بات کا تکلفاً بھی اہتمام نہیں کیا کہ موروثی رہنماؤں کے علاوہ بھی کوئی پارٹی کی صدارت یا چیئرمین شپ وغیرہ کا عہدہ سنبھال سکے سوائے جماعت اسلامی کے جن کے ہاں ابتداء ہی سے صحیح معنوں میں شورائی نظام کے تحت امیر جماعت کا خفیہ بیلٹ کے ذریعے انتخاب عمل میں لایا جاتا ہے۔ دیگر سیاسی جماعتوں کا تو یہ حال ہے کہ اب صدارت اور چیئرمین کا عہدہ تیسری نسل تک پہنچ چکا ہے اور اچھے بھلے تجربہ کار، فہیم، دانشور اور پارٹی کیلئے قربانیاں دینے والے بزرگ سیاستدان موروثیت کے بل بوتے پر رہنما ورہبر بننے والے کل کے بچوں (جو آج نوجوان ہیں) کے سامنے ہاتھ باندھ کر ادب کیساتھ دائیں بائیں اور آگے پیچھے کھڑے ہوتے ہیں۔ واللہ ان بزرگ سیاستدانوں کو اس حالت میں دیکھ کر مجھے ترس ورحم آتا ہے اور میرا دل کڑھتا ہے اور بے اختیار جی پکار اُٹھتا ہے کہ بُرا ہو اس سیاست اور اس جمہوریت کا جس میں اچھے اچھے لوگ اپنے بیٹوں کی عمر کے لوگوں کے پیچھے کھڑے ہو کر سیاست اور پارٹی میں ان (in) رہنے کیلئے یہ بھی کہنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ مجھے اپنے ’’صدر، چیئرمین، رہبر ورہنما‘‘ پر فخر ہے اور اُس کے ماتحت کام کرنے کو سعادت بھی سمجھتا ہوں۔ اس قسم کی سیاست سے تنگ آکر پاکستان کی یوتھ نے بہت بڑی تعداد میں تحریک انصاف کے رہنماء کے گرد بہت شوق وذوق سے حلقہ بنا لیا لیکن گزشتہ چار پانچ برسوں میں وہاں بھی اُس کے اردگرد جو الیکٹیبل (منتخب ہونے کی طاقت رکھنے والے) جمع ہو گئے ہیں اور پارٹی کے اندر انتخابات کا جو حشر ہوا ہے و ہ بھی پاکستان کی دیگر روایتی سیاسی جماعتوں کی مانند ہوگئی ہے۔ ایسے میں پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے درمیان جو حسد، کدورت اور دشمنی کی حد تک معاندانہ رسم ورواج پروان چڑھے ہیں اس نے ملک کی سیاسی فضا کیساتھ ساتھ معاشرتی‘ سماجی اور اخلاقی فضا بھی بری طرح مکدر کی ہے۔ سیاستدان جلسوں اور جلوسوں میں ایک دوسرے کیلئے جو زبان اور القابات وخطابات استعمال کرتے ہیں اس نے ہر سیاسی جماعت کے کارکنوں کے دلوں میں ایک دوسرے کیلئے سخت مخالفانہ جذبات پیدا کردیئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک طرف سیاسی رہنماؤں پر جوتے اور سیاہی پھینکنے کے واقعات عام ہو رہے ہیں دوسری سیاسی جماعتوں کے کارکن آمنے سامنے آنے پر ایک دوسرے پر ہاتھ میں آنیوالی ہر چیز وار کرنے سے نہیں چوکتے۔وطن عزیز کے نوجوان ایک طرف اپنے سیاسی رہنماؤں کے ’’فن خطابت‘‘ کے زیراثر ایک دوسرے سے بدظن ہوتے ہیں اور دوسری طرف بیروزگاری اور کرپٹ اور گلے سڑے فرسودہ اور نام نہاد جمہوری نظام کیخلاف آتش بدامان نظر آتے ہیں اور اس پر مستزاد جب وہ اپنے سیاسی رہنماؤں کو دیکھتے ہیں کہ وہ اس موروثی اور بوسیدہ سیاسی نظام کو اسی طرح جاری رکھنے پر متفق ومتحد ہیں تو سخت مایوسی کے شکار ہو جاتے ہیں۔اس وقت پاکستان میں رائج جمہوریت کا مطلب یہی ہے کہ ملک میں سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ نظام پھلتا پھولتا رہے کیونکہ اس میں ہمارے سیاستدانوں اور ان کی پارٹیوں کا بقا ہے۔ ہمارے سیاستدان عوام کو ورغلانے کیلئے کہتے رہتے ہیں کہ پاکستان کے 70برسوں میں آدھی مدت تک مارشل لاء کی حکومت رہی لیکن کوئی ان سے یہ تو پوچھے کہ باقی آدھی میں تم لوگوں نے عوام کی بھلائی اور بنیادی حقوق تعلیم‘ صحت اور صاف پانی کی دستیابی و فراہمی کیلئے کیا کیا؟تسلیم کہ تبدیلی آہستہ آہستہ آتی ہے لیکن چیزیں تب بدلتی اور مشکلات کم ہوتی ہیں جب سیاستدانوں اور حکمرانوں کو اس کا ایسا احساس ہو جسے عوام بھی محسوس کرے۔ گزشتہ ستر برسوں میں ہمارے سیاستدانوں(مارشلائی اور جمہوری) دونوں نے اداروں اور اعضائے سلطنت کو اپنے ہی مفادات اور تحفظ کیلئے ہی استعمال کیا۔ عوام سے جیسے تیسے ووٹ لیکر ان کو محکوم بنانے اور معاشی واقتصادی طور پر شدید پریشانیوں میں مبتلا رکھا۔ بائیس کروڑ کی آبادی میں آٹھ کروڑ انسان خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہر طرف بے چینی اور غیریقینی صورتحال ہے اور ہاہاکار مچی ہوئی ہے۔ ہر شعبہ زندگی میں مجبوروں اور بے کسوں سے ذاتی فائدے سمیٹے جا رہے ہیں۔ ہمدردی‘ خلوص‘ وفاداری‘ ایثار وقربانی اور محبت ورواداری نہ جانے کس صحرا میں راستہ بھول کر بھٹک رہے ہیں اور ہمارے معاشرے میں رشوت خوری‘ مکاری‘ دھوکہ بازی‘ ریاستی کلچر کی پہچان بن گئی ہیں اور پھر بھی ہمارے سیاستدان نعرہ بلند کرتے ہیں کہ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ حالانکہ جب تک ووٹ دینے والے کو عزت نہیں ملے گی ووٹ کو کبھی عزت نہیں ملے گی کیونکہ ووٹ اور جمہوریت لازم وملزوم ہے۔

متعلقہ خبریں