خاموش اکثریت اصل طاقت

خاموش اکثریت اصل طاقت

ہر جماعت کا ایک بنیادی گروہ ہوتا ہے جسے آپ جیالے، متوالے اور ٹائیگرز کا نام دے سکتے ہیں۔ یہ ہر صورت جماعت کی پالیسیوں کا دفاع کرتے ہیں خواہ اس کا دفاع بنتا ہو یا نہ بنتا ہو۔ اگرچہ جماعتوں کی جان یہی لوگ ہوتے ہیں جو جماعت کی رگوں میں خون بن کر دوڑتے ہیں لیکن کسی جماعت کو پذیرائی اس وقت ملتی ہے جب خاموش اکثریت اس کا ساتھ دینا شروع کر دیتی ہے۔ یہ خاموش اکثریت سیاسی جماعتوں کی قیادت‘ پالیسیوں اور ترقیاتی کاموں سے متاثر ہوتی ہے اور اپنی رائے قائم کرتی ہے۔ اس رائے پر اثر انداز ہونے والے دیگر عوامل بھی ہیں مگر میرے کالم کا موضوع چونکہ سیاسی جماعتوں کے کنڈکٹ کی حد تک لہٰذا سیاسی جماعت کی قیادت اور پالیسیوں تک بات محدود رکھنا چاہتا ہوں۔ خاموش اکثریت پر سب سے زیادہ تحریک انصاف گزشتہ الیکشن میں اثر انداز ہوئی۔ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ایسی کلاس سیاست میں حصہ لینے کے لیے متحرک ہوئی جس نے کبھی ووٹ ڈالنے کی زحمت گوارا نہ کی۔ یہ تحریک انصاف کا جمہوریت اور سیاست کے لیے بہت بڑا کنٹری بیوشن تھا۔ تحریک انصاف کی مقبولیت کی ایک وجہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی روایتی سیاست کے مقابلے کے لیے عوام کو متحرک کرنا تھا جب کہ نیا پاکستان کا تصور اُس نے مختلف پالیسیوں کی شکل میں قوم کے سامنے پیش کیا۔ تحریک انصاف جب وقفے وقفے سے اپنی پالیسیاں پیش کر رہی تھی تو قوم کو یہ واضح پیغام مل رہا تھا کہ تحریک انصاف کی پیش کردہ تعلیمی پالیسی‘ انرجی پالیسی‘ لوکل گورنمنٹ پالیسی اور اکنامک پالیسی وغیرہ کے نتیجے میں کیسی حکومت قائم ہو گی۔ عام آدمی تحریک انصاف کی اس پالیسی سے بھی بہت متاثر ہوا کہ نوجوانوں کے لیے پارٹی ٹکٹ کا کوٹہ مختص کیا گیا اور انہیں پارٹی کی جانب سے مالی امداد دینے کا بھی اعلان کیا گیا۔ تحریک انصاف کی دیکھا دیکھی دیگر جماعتوں نے بھی نوجوانوں کی کشش کے لیے لیپ ٹاپ کی تقسیم سمیت کئی اقدامات کیے لیکن پاکستانی یوتھ کی بڑی تعداد بہترمستقبل کی خاطر تحریک انصاف کے ساتھ جڑی دکھائی دیتی رہی۔ آج بھی تحریک انصاف پاکستان کی واحد سیاسی جماعت ہے جس میں تحصیل ‘ ضلع اور ریجن کی سطح پرعہدیداران کی زیادہ تر تعداد نوجوانوں کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف کو نوجوانوں کی جماعت کہا جاتا ہے۔ گزشتہ الیکشن میں تحریک انصاف نوجوانوں کی طاقت کے بل بوتے پر الیکشن جیتنے میں کامیاب ہوجاتی اگرانتخابات کو مینج نہ کیاجاتا۔ اس مرتبہ تحریک کو اکثر حلقوں میں ایسے افراد نے جوائن کیا ہے جو انتخاب لڑنے کا تجربہ رکھتے ہیں لہٰذا بحیثیت جماعت تحریک انصاف کو امیدواروں کے حوالے سے جس پریشانی کا سامنا ماضی میں کرنا پڑا وہ اس بار نہیں ہوگا۔ اس کاقطعاً مطلب یہ نہیں ہے کہ تحریک انصاف اپنے نوجوانوں کو یکسر فراموش کر دے گی۔ میرا احساس ہے کہ تحریک انصاف نوجوانوں کو مناسب تعداد میں اکاموڈیٹ کرے گی ۔ میں ذاتی طور پر ایسے نوجوان امیدواروں سے آگاہ ہوں جو تحریک انصاف کے ساتھ لمبی وابستگی رکھتے ہیں اور انتخابی حلقوں میں بھی ان کی پذیرائی ہے۔ انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر چوہدری ارسلان اور مرکزی نائب صدر مبشر عباسی سمیت کئی نوجوان ایسے ہیں جو انتخابی حلقوں کی سیاست میں دلچسپی رکھتے ہیں اور جنہیں موقع دیا گیا تو وہ الیکشن جیتنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔
2013ء کے عام انتخابات میں راولپنڈی سے نوجوانوں کے کوٹے پر آصف محمود اور واثق قیوم عباسی کو موقع دیا گیا‘ آصف محمود صوبائی حلقہ PP-9سے الیکشن جیت گئے جب کہ واثق قیوم نے چوہدری نثار علی خان کے مقابلے میں چند سو ووٹوں سے الیکشن ہارا۔ واقفان حال کا کہنا ہے کہ واثق الیکشن جیت گئے تھے مگر تکنیکی طور پر انہیں ہرایا گیا۔ یہ وہ نوجوان تھے جنہیں تحریک انصاف نے الیکشن لڑنے کے لیے مالی امداد بھی دی۔ اگرچہ یہ مالی مدد ٹوکن امداد کہی جا سکتی ہے لیکن روایتی سیاست کے اس دور میں اس طرح کا اقدام ایک غیر معمولی اقدام سمجھا گیا اور اسے عوام کی طرف سے بڑی پذیرائی ملی۔ آج بھی تحریک انصاف اپنے نوجوانوں کو اکاموڈیٹ کرنے کا پلان بناتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ معاشرے کے مختلف طبقات کو پارٹی امیدوار کے طور پر میدان میں اُتارتی ہے تو تحریک انصاف کی مقبولیت یقینی طور پر بڑھے گی اور یہ اقدام خاموش اکثریت میں تحریک پیدا کرنے اور انہیں تحریک انصاف کی جانب راغب کرنے کا باعث بنے گا۔ حال ہی میں آصف علی زرداری نے سندھ کے صحرا سے تعلق رکھنے والی کرشنا کماری کو سینیٹ کا رکن بنایا تو اسے ملک بھر میں سراہا گیا۔ سیاسی جماعتیں ایسے اقدامات کے ذریعے اپنی طاقت میں اضافہ کرتی ہیں۔ نوجوان تحریک انصاف کی طاقت ہیں ‘ تحریک انصاف اپنی طاقت کو ضائع کرنے کا کیسے سو چ سکتی ہے۔ یقیناً پارٹی ان خطوط پر سوچ رہی ہو گی اورآئندہ عام انتخابات کے حوالے سے نوجوانوں کو مختلف انتخابی حلقوں میں اکاموڈیٹ کرنے کی پالیسی طے کرے گی۔ اس وقت تحریک انصاف کے ٹکٹ کے خواہش مند حضرات کی ایک لمبی لائن ہے۔ یوں 2013ء کے انتخابی معرکے سے تحریک انصاف زیادہ تیار ہے چونکہ ’’الیکٹیبلز ‘‘ دیگر جماعتوں کی نسبت اس کے پاس زیادہ ہیں ، باوجود اس کے نوجوان تحریک انصاف کااثاثہ ہیں جنہیں فراموش نہیں کیاجاسکتا۔

اداریہ