Daily Mashriq


سیاست کی دکان

سیاست کی دکان

زندگی کی ہنگامہ خیزیاں عروج پر ہیں ہم اگر صرف وطن عزیز کی بات کریں تو حیرت ہوتی ہے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا رات دن نان سٹاپ خبریں نشر کر رہے ہیں اگر کوئی چھینک بھی مارتا ہے تو بریکنگ نیوز چل پڑتی ہیں جو یہاں نہیں بتایا جاتا وہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوجاتا ہے کبھی کبھی تو آج کے انسان کے دل و دماغ پر ترس آتا ہے کہ اسے کن معاملات میں الجھادیا گیا ہے وہ خبریں جن کے ساتھ آپ کو کوئی بھی تعلق نہیں بنتا وہ بھی آپ کو دیکھنی اور سننی پڑتی ہیں دن چڑھتے ہی بہت سی ویڈیوز کا سیلاب آپ کے واٹس ایپ اور فیس بک پر موجود ہوتا ہے اخبارات اٹھائیں تو ہر قسم کی خبروں پر نظر پڑتی ہے سیاستدان اس حوالے سے بہت فعال ہیں الیکشن 2018کی آمد سے پہلے ہی وہ عوام کو شیشے میں اتارنا چاہتے ہیں سب اپنی اپنی فتح کے ڈنکے بجارہے ہیں جواب در جواب بیانات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ہے ؟ یہ کسی پر نہیں کھل رہا ! سیاست کی دکان ایسی دکان ہے جس پر ہر قسم کا سودا بک جاتا ہے۔ یہاں پر ہر قسم کے خریدار موجود ہوتے ہیں بس آواز لگانی پڑتی ہے۔ کچھ لوگ آپ کے ہمنوا ہوکر آپ کے ساتھ چل پڑتے ہیںیہ جانے بغیر کہ یہ قافلہ کس طرف رواں دواں ہے اس کی کوئی منزل بھی ہے یا نہیں؟آنے والے الیکشن کی صورت میں عوام کو اپنے ووٹ کی طاقت دکھانے کا ایک اور موقع مل رہا ہے یوں کہیے کہ یہ ہم سب کا امتحان ہے کہ ہم اپنے لیے کن لوگوں کا انتخاب کرتے ہیں!دراصل سچ اور جھوٹ کو اس طرح غلط ملط کردیا گیا ہے کہ حقیقت تک رسائی جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ۔ اس وقت ذہن میں ایتھو پیا کے ایک ادیب حماتوما کا ایک مختصر افسانہ ذہن میں آرہا ہے جس کے مترجم حمید رازی صاحب ہیں۔ اس افسانے کو پڑھ کر ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے حما توما نے ہمارے آج کل کے حالات کو مدنظر رکھ کر افسانے کی بنت کاری کی ہے۔ اس میں عام آدمی سے لے کر بڑے بڑے اداروں کی صورتحال پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔’’ایک دفعہ ایک عورت اپنی ان بکریوں کی تلاش میں نکلی جو اپنے ریوڑ سے بچھڑ گئی تھیں۔ وہ ان کی کھوج میں کھیتوں میں ادھر ادھر پھرتی رہی لیکن بے سود! آخر کار وہ سڑک کے قریب پہنچی یہاں ایک بہرہ شخص اپنے لیے کافی بنارہا تھا۔ عورت کو یہ علم نہیں تھا کہ یہ شخص بہرہ ہے عورت نے آگے بڑھ کر اس شخص سے کہا کہ میری چند بکریاں اپنے ریوڑ سے بچھڑ گئی ہیںکیا تم نے انہیں دیکھا ہے ؟بہرا آدمی یہ سمجھا کہ یہ شاید پانی کا پوچھ رہی ہے اس نے دریا کی طرف اشارہ کردیا ۔ عورت نے اس کا شکریہ ادا کیا اور اپنی بکریاں ڈھونڈنے دریا کی طرف چل پڑی ۔یہ محض اتفاق تھا کہ اسے اپنی بکریاں دریا کے کنارے چہل قدمی کرتے مل گئیں۔ بس ایک لیلا چٹان سے گر کر اپنی ٹانگیں تڑوا بیٹھا تھا عورت نے اسے اٹھا لیا جب وہ واپسی کے سفر میں بہرے آدمی کے قریب سے گزری تو اس کا شکریہ ادا کرنے کے لیے رک گئی اور اس کی مدد کے عوض اسے لیلا پیش کردیا ۔ بہرہ آدمی اس کی بات نہ سمجھ سکا جب عورت نے لیلا اس کی طرف دھکیلا تو وہ یہ سمجھا کہ عورت اسے بکری کے بچے کی بدقسمتی کا ذمہ دار قرار دے رہی ہے وہ ناراض ہوگیا میں اس کا ذمہ دار نہیں ہوں۔ اس نے واویلا کیا لیکن عورت نے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے میرے ساتھ بہت بڑی نیکی کی ہے آپ نے مجھے راستہ دکھایا تھا۔آدمی تو بہرہ تھا وہ کہنے لگا کہ بکریوں کے ساتھ ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے لیکن یہ مجھے ادھر ہی سے ملی ہیں جہاںتم نے بتایا تھا ۔ آدمی غصے سے بولا یہاں سے چلی جائو اور مجھے اکیلا چھوڑ دواس بکری کے بچے کو میں نے زندگی میں پہلی بار دیکھا ہے ۔ لوگ اکٹھے ہوگئے اور ان کے دلائل سننے لگے عورت نے انہیں بتایا کہ میں بکریوں کی تلاش میں تھی اس نے دریا کی طرف میری رہنمائی کی جہاں سے مجھے اپنی بکریاں مل گئیں اب میں اسے یہ لیلا دینا چاہتی ہوں ۔ آدمی غصے سے چیخا تم میری توہین نہ کرو میں نے اس کی ٹانگ نہیں توڑی اور ساتھ ہی عورت کو تھپڑ رسید کردیا ۔آپ دیکھ رہے ہیں اس نے مجھے مارا ہے وہ مجمع سے مخاطب ہوئی میں اسے جج کے پاس لے کر جائوں گی۔ اس طرح وہ عورت اپنے بازئوں پر لیلا اٹھائے، بہرہ آدمی اور تماشبین جج کی طرف چل پڑے ۔ جج ان کی شکایت سننے گھر سے باہر آگیا ۔پہلے عورت نے اپنا مقدمہ پیش کیا پھر آدمی نے اپنی داستان سنائی پھر آخر میں مجمع نے جج کو ساری صورتحال بتائی جج اپنا سر ہلاتا رہا۔ بہرے آدمی کی طرح وہ بھی کچھ نہ سمجھ سکا اس کی نظر بھی کمزور تھی آخر اس نے اپنا ہاتھ کھڑا کیا تو لوگ خاموش ہوگئے ۔ اس نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے گھریلو جھگڑے بادشاہ اور کلیسا کے لیے بے عزتی کا باعث ہیں پھر اس نے اپنا رخ آدمی کی طرف کیا اور کہا اپنی بیوی سے براسلوک کرنا چھوڑ دو ۔ اب وہ عورت سے مخاطب ہوا : تم سست ہوگئی ہو اپنے میاں کو وقت پر کھانا دیا کرو ۔اس کے بعد اس نے پیار سے بکری کے بچے کی طرف دیکھا خدا اسے لمبی عمر دے اور آپ دونوں کے لیے خوشی کا باعث ہو ۔ مجمع تتر بتر ہوگیا اور لوگ اپنے گھروں کو روانہ ہوگئے وہ ایک دوسرے کو کہہ رہے تھے واہ کیا فیصلہ ہے اور یہ فیصلہ حاصل کرنے کے لیے ہمیں کتنا فاصلہ طے کرنا پڑا ہے ۔

متعلقہ خبریں