مشرقیات

مشرقیات

امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب ؓ کا دور حکومت ہے ۔ اسلام تیزی کے ساتھ دنیا میں پھیل رہا ہے ۔ جس سے اس وقت کی ایک سپرپاور رومی سلطنت انتہائی خوفزد ہ ہے ۔ جبکہ دوسری سپر پاورسلطنت کسریٰ کے بیشتر حصے اسلامی حکومت کا حصہ بن چکے ہیں ۔ رومی بادشاہ کافی سوچ بچار کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ مسلمانوں کے بادشاہ (حضرت عمر ؓ ) کو قتل کردیا جائے تو اسلامی لشکر کی پیش قدمی رک سکتی ہے ۔ اس لئے شاہ روم نے اپنے ایک انتہائی تربیت یافتہ جاسوس کو حضرت عمر ؓ کو شہید کرنے کے لئے مدینہ منورہ روانہ کردیا ۔
بادشاہ روم کا بھیجا ہوا یہ عجمی کا فر مدینہ منورہ پہنچا اور لوگوں سے حضرت عمر فاروق ؓ کا پتہ پوچھا ۔ لوگوں نے بتایا کہ وہ دوپہر کو کھجور کے باغوں میں شہر سے کچھ دور قیلولہ فرماتے ہوئے تم کو ملیں گے ۔ یہ رومی جاسوس ڈھونڈتے ڈھونڈتے آپ ؓ کے پاس پہنچ گیا اور دیکھا کہ آپ اپنا چمڑے کا درہ اپنے سر کے نیچے رکھ کر زمین پر گہری نیند سو رہے ہیں ۔ رومی جاسوس اس ارادے سے تلوار کو نیام سے نکال کر آگے بڑھا کہ امیر المومنین حضرت عمر فاروقؓ کو قتل کر کے بھاگ جائے مگر وہ جیسے ہی آگے بڑھا ، بالکل ہی اچانک اس نے یہ دیکھا کہ دوشیر منہ پھاڑے ہوئے اس پر حملہ کرنے والے ہیں ۔ یہ خوفناک منظر دیکھ کر وہ دہشت سے بلبلا کر چیخ پڑا اور اس کی چیخ کی آواز سے امیر المومنین حضرت عمر فاروقؓ بیدار ہوگئے اور یہ دیکھا کہ ایک کافر ننگی تلوار ہاتھ میں لئے ہوئے تھر تھر کانپ رہا ہے ۔ آپؓ نے اس کی چیخ اور دہشت کا سبب دریافت فرمایا تو اس نے سچ سچ ساراواقعہ بیان کردیا اورپھر بلند آواز سے کلمہ پڑھ کر مشرف بہ اسلام ہو گیا ۔ امیرا لمونین حضرت فاروق اعظم ؓ نے اسے کوئی سزا نہیں دی ، بلکہ اس کے ساتھ نہایت مشفقانہ برتائو فرما کر اس کے قصور کو معاف کردیا ۔
(ازالۃالخفاء مقصد 2ص172وتفسیر کبیرج 5ص 478)
حضرت ابراہیم بن المہلب ؒ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے ایک شخص کو جنگل میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ۔ جب وہ نماز پڑھ چکا تو میں نے پوچھا کہ یہاں تمہارے ساتھ اور کوئی بھی رہتا ہے یا اکیلے ہی رہتے ہو ؟ اس نے جواب دیا کہ ہاں دوسرا بھی ہے ۔ میں نے کہا تمہارے پاس زاد سفر بھی ہے ؟ اس نے کہا ہاں ، میرا دل نہ مانا ، میں نے کہا ، کہاں ہے ؟ اس نے جواب دیا : میرا زاد سفر خدا کے ساتھ اخلاص اور وحدانیت اور نبی کریم ؐ کا اقرار ہے ، میں نے پھر سوال کیا کہ اس ویران جنگل میں تم گھبراتے نہیں ہو ؟ اس نے بڑا ہی عارفانہ جواب دیا کہ خدا کے ساتھ انس و محبت نے تمام وحشتوں کو دور کردیا ہے ۔ اگر میں درندوں کے درمیان بھی رہوں تو مجھ کو کوئی خطرہ وپریشانی نہیں ہوتی ۔ ابراہیم بن مہلب فرماتے ہیں کہ اس شخص کے جوابات نے مجھ کو حیران کردیا ۔
(کچھ دیر اہل حق کے ساتھ صفحہ ، 27)

اداریہ