Daily Mashriq

ملک کے مختلف علاقوں میں بارش اور گرد آلود طوفان، ہلاکتیں 25 ہوگئیں

ملک کے مختلف علاقوں میں بارش اور گرد آلود طوفان، ہلاکتیں 25 ہوگئیں

کراچی: ملک کے مختلف حصوں میں جاری بارشوں اور گرد آلود طوفان کے نتیجے میں ہلاکتیں 25 تک پہنچ گئیں جبکہ درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

مغرب سے آنے والی ہواؤں کے نظام کے باعث ملک کے مختلف علاقوں میں ہونے والی بارشوں اور گرد کے طوفان سے انسانی جانوں کے ساتھ ساتھ املاک کو بھی نقصان پہنچا۔

تیز ہواؤں اور بارشوں کے باعث خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے کچھ علاقوں میں سیلاب اور دریاؤں میں طغیانی بھی آئی ہے جس سے ان کے اطراف کے علاقے شدید متاثر ہوئے، صوبہ پنجاب کے مختلف علاقوں میں چلنے والی گرد آلود ہواؤں کے باعث متعدد مکانات کو نقصان پہنچا اور 9 افراد جاں بحق ہوگئے۔

علاوہ ازیں گزشتہ روز کراچی میں گرد آلود ہوائیں چلنے سے ایک بچے سمیت 4 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ ریسکیو حکام کے مطابق تیز ہواؤں کی وجہ سے متعدد ماہی گیر سمندر میں لاپتہ ہوئے جبکہ درجنوں زخمی ہوئے۔

کراچی میں گرد آلود ہوائیں چلنے سے متعدد درخت اور بجلی کے کھمبے اُکھڑ گئے جبکہ متعدد عمارتوں کی چھتیں گرنے کی بھی اطلاعات ہیں، جن میں مکان، اسکول اور مدرسہ شامل ہے۔

جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جی پی ایم سی) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈایٹر سیمی جمالی کا کہنا تھا کہ 'ہسپتال میں 2 لاشیں لائی گئیں جبکہ ایک شخص دوران علاج دم توڑ گیا'۔

انہوں نے مزید بتایا کہ 58 سے زائد زخمی افراد کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، جن میں سے 2 کو سر میں زخم تھے جبکہ دیگر کیسز فریکچرز کے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں میں بیشتر کنکریٹ کی دیواروں اور چھت کے گرنے کے نتیجے میں زخمی ہوئے تھے۔

دوسری جانب پولیس سرجن ڈاکٹر قرار احمد عباسی کا کہنا تھا کہ ایک لاش کو سول ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، یہ شخص پیپلز چورنگی پر درخت کے گرنے سے جاں بحق ہوا تھا۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق گزشتہ روز کراچی میں تیز ہواؤں کے باعث پیش آنے والے حادثات کی زد میں آکر ہلاک ہونے والوں کی شناخت، 5 سالہ تنزیلہ، 7 سالہ مہک فیصل، 18 سالہ کاشف کے نام سے ہوئی۔

علاوہ ازیں ٹیپو سلطان ٹریفک سگنل کے قریب ایک اسکول کی دیوار گرنے سے 5 طلبا زخمی ہوئے جبکہ لیاری کلاکوٹ کے علاقے میں ایک مدرسے کی دیوار گرنے سے 6 طالبات زخمی ہوگئیں اور دیگر 3 زخمیوں کو سرسید اور سرجانی ٹاؤن کے علاقوں سے طبی امداد کے لیے عباسی شہید ہسپتال منتقل کیا گیا۔

دوسری جانب سٹی کورٹ میں قیدیوں کی ایک وین پر درخت گر گیا تاہم تمام قیدی محفوظ رہے، تیز ہواؤں کی وجہ سے کراچی کے مختلف علاقوں میں سڑکوں پر درخت اور پول گرنے سے ٹریفک کا نظام بھی متاثر ہوا۔

حکام نے بتایا کہ تیز ہواؤں کی وجہ سے ماہی گیروں کی ایک کشتی سمندر میں لاپتہ ہوگی، پاکستان فشر فولک فورم کے چیئرمین محمد علی شاہ نے بتایا کہ میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی نے 5 ماہی گیروں کو بچا لیا جبکہ 4 تا حال لاپتہ ہیں۔

تیز ہواؤں اور گرد وغبار کے باعث پنجاب میں ہونے والی ہلاکتوں کے حوالے سے ریسکیو حکام نے بتایا کہ 4 افراد ضلع خانیوال، 3 ضلع بہاولپور کے علاقے حاصل پور اور 2 افراد ضلع لودھراں کی تحصیل دنیاپور میں جاں بحق ہوئے۔

اس کے علاوہ چترال میں ایک مکان کی چھت گرنے سے ایک خاتوں سمیت 3 افراد جاں بحق ہوگئے، خیال رہے کہ گزشتہ کئی روز سے جاری بارشوں کے باعث چترال میں متعدد مکانات متاثر ہوئے ہیں جب کے باعث علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی موجود ہے۔

متعلقہ خبریں