Daily Mashriq


اسرائیلی حکام نے مسجد کو نائٹ کلب میں تبدیل کردیا

اسرائیلی حکام نے مسجد کو نائٹ کلب میں تبدیل کردیا

قاہرہ: اسرائیلی حکام نے مقبوضہ فلسطین کے علاقے میں قائم تاریخی مسجد کو نائٹ کلب میں تبدیل کردیا۔

عربی اخبار گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق ایک مقامی مسلمان عہدیدار نے بتایا کہ شمالی فلسطین کے علاقے صفد کی مقامی انتظامیہ نے 13 ویں صدی میں تعمیر کی جانے والی الاحمر (سرخ) مسجد کو شراب خانے اور شادی ہال میں بدل دیا۔

اس بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فلسطینی اسلامی وقف کے سیکریٹری خیر طباری نے بتایا کہ ’جب میں نے مسجد کے اندر اس تخریب کاری کے پہلوؤں کو دیکھا تو میں صدمے کا شکار ہوگیا‘۔

رپورٹ کے مطابق خیر طباری نے کئی سال پہلے ناصرہ کی ایک عدالت میں مقدمہ دائر کیا تھا جس میں اس مسجد کو اسلامی وقف کے حوالے کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔

لیکن عدالت کی جانب سے ابھی تک اس مقدمے پر فیصلہ نہیں دیا گیا۔

خیر طباری نے بتایا کہ انہوں نے اپنی درخواست کے ساتھ اس مسجد کی ملکیت کے اصل دستاویزات اور یہاں فراہم کی جانے والی خدمات کے معاوضوں کی فہرست بھی جمع کروائی تھی۔

اور اب مذکورہ مقام کا نام تبدیل کر کے ’خان الاحمر‘رکھ دیا گیا تا کہ بطور مسجد اس کی حرمت کی طرف سے توجہ ہٹائی جاسکے۔

اس سے قبل 1948 میں اسرائیلی ریاست کے قیام کے بعد متعدد مرتبہ اس مسجد کی بے حرمتی کی جا چکی ہے اور ابتدا میں اسے یہودی عبادت گاہ میں تبدیل کیا گیا تھا۔

بعدازاں 2006 میں کپڑوں کے ویئر ہاؤس میں تبدیل کرنے سے پہلے اسے اسرائیلی سیاسی جماعت کادیما کے الیکشن آفس کی شکل دے دی گئی تھی۔

اس بارے میں صفد کے رہائشی اور تاریخ دان مصطفیٰ عباس نے بتایا کہ ’الاحمر مسجد کا نام اس میں استعمال ہونے والی سرخ اینٹوں کی وجہ سے رکھا گیا تھا اور آج اسے مسلمانوں کی جائے عبادت کے علاوہ متعدد طریقوں سے استعمال کیا جارہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ’اس مقام پر آنے والے مسلمانوں کو یہودی آبادکاروں کی جانب سے حملے کا نشانہ بنایا جاتا ہے‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ مسجد تاریخی اور ثقافتی اعتبار سے خاصی اہمیت کی حامل ہے کیوں کہ اسے 1223-1277 عیسوی میں مملوک سلطان الداہر نےتعمیر کروایا تھا۔

اور مسجد کے داخلی مقام پر نصب کتبہ 1276 عیسوی میں مسجد کی تعمیر کا پتا دیتا ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیلی حکام پر فلسطینی مقبوضہ علاقوں میں مسلمانوں کی شناخت کو مسخ کرنے کے لیے اسلامی مقامات پر منظم طریقے سے قبضہ کرنے کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ اسرائیلی یہودی اور فوجی بھی مقبوضہ علاقے میں قائم مسجدِ اقصیٰ پر بھی باربار کارروائی کرتے ہیں جو مسلمانوں کے لیے تیسرا مقدس مقام ہے۔

اس حوالے سے فلسطینی وزیر اوقاف و مذہبی امور یوسف ادائیس کا کہنا تھا کہ ’یہودیوں نے اکثر فلسطینی اوقاف کے مقام اور مسجدیں بدل دیں ہیں اور ایسا زیادہ تر ان علاقوں میں کیا گیا ہے جہاں کے مقامی لوگوں کو جبری طور پر بے دخل کر کے یہودیوں نے قبضہ کرلیا ہے۔‘۔

انہوں نے بتایا کہ ’یہودیوں نے اس مقامات کی بڑی تعداد کو نائٹ کلبس اور یہودی عبادت گاہوں میں تبدیل کیا ہے جبکہ کچھ کو تباہ بھی کردیا ہے۔

متعلقہ خبریں