Daily Mashriq

وزیراعظم کو مزید تاخیر نہیں کرنی چاہیئے

وزیراعظم کو مزید تاخیر نہیں کرنی چاہیئے

بلوچستان میں ہزار گنجی کی سبزی منڈی میں دھماکہ کے خلاف ہزارہ برادری کے بطور احتجاج لگائے گئے کیمپ کے عمائدین نے صوبائی حکومت کو بے اختیار قرار دے کر ان سے مذاکرات سے انکار کردیا ہے۔جمعہ کو کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی کی سبزی منڈی میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں ہزارہ برادری کے7افراد سمیت20افراد ہلاک اور48زخمی ہو گئے تھے۔ہزارہ برادری اپنے تحفظ اور نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کا مطالبہ کر رہی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ جب تک وزیر اعظم عمران خان آ کر یقین دہانی نہیں کرائیں گے، اس وقت تک وہ دھرنا ختم نہیں کریں گے۔مظاہرین کی نمائندگی کرنے والے ایڈووکیٹ طاہر ہزارہ نے وفاقی حکومت کے رویے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سانحے کے بعد وزیر اعظم کے پاس کوئٹہ کا دورہ کر کے متاثرین سے ملنے کا کوئی وقت نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان کو پارلیمنٹ میں سب کی مشاورت سے تیار کیا گیا تھا لیکن اس کے بہت سے نکات پر عمل نہیں کیا گیا، اسی وجہ سے دہشت گردوں کی جانب سے ہزارہ برادری کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کے حوالے سے یقین دہانی کرائیں۔ادھر مجلس وحدت مسلمین کے مزید کارکنان بھی احتجاج کا حصہ بن گئے ہیں اور انہوں نے ہزارہ برادری کے لیے اپنی مکمل سپورٹ کا اعلان کردیا ہے۔زیادہ عرصہ نہیں ہوا کہ نیوزی لینڈ میں دومساجد پر حملہ کر کے مسلمانوں کے قتل خلاف نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کی قیادت میں وہاں کے عوام نے مسلم برادری سے جس یکجہتی اور پیارومحبت کا اظہار کیا تھا اس سے نیوزی لینڈ کی وزیراعظم مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن بنی ہوئی ہیں۔ مسلمانوں کے تحفظ میں ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے انہوں نے جس طرح اپنے ملک میں مسلمانوں کو تحفظ کا احساس دلانے کیلئے اقدامات کئے اور عملی طور پر جو یکجہتی کی گئی اسے نہ سراہے کی کوئی وجہ نہیں ۔نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کو اسلام آباد میں پیغام اسلام کانفرنس میں امن پیغام کا ایوارڈ دے کر ان کی خدمات کا اعتراف کیا گیا جو یقیناً احسن قدم ہے۔ وطن عزیز میں ہرسطح پر نیوزی لینڈ کی خاتون وزیراعظم کے کردار وعمل کی تعریف کی گئی لیکن کیا وجہ ہے کہ کوئٹہ میں اپنے ہم وطنوں کے تحفظ میں ناکامی کی ذمہ داری کا اعتراف کرتے ہوئے ان کی دلجوئی کیلئے وزیراعظم کوئٹہ پہنچتے اور متاثرہ خاندانوں کو دلاسہ دیتے ان کے مطالبات سنتے اور ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا جاتا۔ نیوزی لینڈ میں خاتون وزیراعظم مسلمانوں کی طرح کا لباس زیب تن کر کے اوروہاں کے عوام وزیراعظم سمیت جمعہ کے اجتماع کے موقع پر نمازیوں کے ارد گرد موجود رہ کر ان کو تحفظ ہمدردی اور یگانگت کا اظہار کرسکتے ہیں۔ مگر ہمارے ملک میں ایسا نہیں کیا جاتا۔ کہنے کو تو ہم کفار کی مثال دیتے ہیں لیکن اگر ان کا قول وعمل قابل مثال بن جائے اور خود ہمارے مسلم حکمرانوں کا کردار وعمل برعکس ہو تو پھر ملک میں عدم اطمینان کی فضا کا ہونا فطری امر ہوگا۔ ہزارہ برادری کا بلوچستان حکومت کے نمائندوں سے مذاکرات سے انکار بلاوجہ اس لئے نہیں کہ یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ ہزارہ برادری کو منظم طریقے سے نشانہ بنانے کا سلسلہ عرصے سے جاری ہے جس کی روک تھام نہ صرف بلوچستان کی صوبائی حکومت بلکہ مرکزی حکومت اور مقتدرین کی جانب سے یقین دہانی کرانے کے باوجود ممکن نہ ہوسکی ہے۔ہزارہ برادری کی طرف سے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہ ہونے اور اس پر عملدرآمد یقینی بنانے کے مطالبے سے حکومت کے ان دعوئوں کی نفی ہوتی ہے جو اس سلسلے میں ہوتے رہے ہیں۔ کوئٹہ کا واقعہ ا ورہزارہ برادری کے مطالبے کے بعد ہم دنیا کو ان عناصر کے خلاف کارروائی کا یقین دلانے میں کس طرح کامیاب ہوسکتے ہیں جو پہلے ہی اس ضمن میں اذہان میں شکوک رکھتے ہیں۔ دنیا کو باور کرانے کے اقدام کا آغاز ہمیں اپنے لوگوں کو یقین دلانے سے کرنا ہوگا۔ ہزارہ برادری کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کا کوئٹہ آکر ان کی معروضات سننے اور یقین دہانی کرانے کے مطالبے کی نوبت آنی چاہیئے تھی ۔وزیراعظم کو ہزارہ برادری کے زخموں پر مرہم رکھنے اور ان سے ہمدردی کا اظہار کرنے کیلئے متاثرین سے ملاقات میں تاخیر نہیں کرنی چاہیئے۔ اب ان کے مطالبے پر جانے سے اگر چہ وہ تاثر تو نہ ہوگا جواز خود احساس اور دورہ کا ہوتا بہرحال وزیراعظم کو جلد سے جلد کوئٹہ جاکر متاثرین کو دلاسہ دینے کا قومی فریضہ سر انجام دینا چاہیئے۔ اس میں تاخیر محرومیوں اور بد گمانیوں کا سبب بنے گا۔وزیراعظم کو اپنے ممکنہ دورہ کے موقع پر بلوچستان کی صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ساتھ ہزارہ برادری کے عمائدین سے مشاورت کے بعد اُن کے تحفظ کے اقدامات کو یقینی بنوانے کی ذمہ داری پوری کرنے میں مزید تاخیر کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیئے۔ جب تک ملک میں تمام طبقوں اور فرقوںکو یکساں طور پر تحفظ کا احساس نہیں دلایا جاتا اس وقت تک عدم تحفظ کا احساس اور نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کا سوال باقی رہے گا۔

متعلقہ خبریں