Daily Mashriq

ادویات کی قیمتوں میں کمی لانے میں ناکامی

ادویات کی قیمتوں میں کمی لانے میں ناکامی

72 گھنٹے سے زائد کاوقت گزرنے کے بعد بھی پشاورسمیت خیبرپختونخوا بھرمیں ادویات کی قیمتوں میں کمی سے متعلق وزیراعظم عمران خان کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونا لمحہ فکریہ ہے۔ستم بالائے ستم یہ کہ بجائے اس کے کہ ادویات کی قیمتوں میں کمی لائی جاتی الٹا ادویات کی ناپید گی کی صورتحال پیدا کر کے مہنگی کرنے کے خدشات ہیں۔ گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران ادویات کی قیمتوں میں تین مرتبہ اضافہ کیا گیا ہے ۔ادویات مہنگی ہونے کے باعث بیشتر لوگ خود تشخیصی نظام اپنا رہے ہیں۔ادویات کی قیمتوںکا وزیراعظم کی سطح پر نوٹس لینے اور قیمتوں کو معمول پر لانے کی سختی سے ہدایت پر بھی اگر متعلقہ حکام عملدرآمد کرواسکیں اور اس سطح کا حکمنا مہ بھی غیر موثر ثابت ہو تو حکومت کو سوچنا چاہیئے کہ آخر عوام کے پاس کیا چارہ کار باقی رہ جائے گا کہ وہ ادویہ ساز کمپنیوں کی لوٹ مار کے ساتھ ساتھ حکومت کے خلاف بھی سڑکوں پر نکل کر احتجاج کریں۔جس دور حکومت میں اس قسم کی ناکامی سامنے آئے اور لوگ بے بس ہوجائیں۔ ان حکمرانوں کو سوچنا چاہیئے کہ کیا وہ حکمرانی کا حق رکھتے ہیں۔وزیر اعظم عمران خان کو اپنے احکامات کی دھجیاں اڑانے والے ادویہ فروشوں ہی کے خلاف سخت قدم نہیں اٹھنا چاہیئے بلکہ وزارت صحت اور اس سے متعلقہ اداروں کی ناکامی پر ان کے سربراہوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔ جتنا جلد ممکن ہو سکے ادویات کی قیمتوں کو اعتدال پر لایا جائے اور کئی کئی گنا اضافہ کی حامل ادویات کی سپلائی اور فروخت اس وقت تک روک دی جائے جب تک وہ قیمتوں پر نظر ثانی نہیں کرتے حکومت کو متبادل ادویات کی مارکیٹ میں رسائی اور ادویات کی دکانوں میں موجودگی یقینی بنانے کے عمل کی نگرانی کرنی چاہیئے تاکہ عوام کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ادویات کے تیار کنندگان سپلائر اور سٹاکٹ تعاون نہ کریں تو ان سے سختی سے نمٹا جائے۔

بشرط اثر احسن اقدام

خیبر پختونخوا حکومت کا تمام محکموں ، مقامی حکومتوں اور اداروں کی کارکردگی جانچنے کیلئے اقدامات کی افادیت سے انکار ممکن نہیں لیکن ان اقدامات کا موثر ہونا وہ سوال ہے جس کا جواب سنجیدگی سے دینا ممکن نہیں اور نہ ہی حکومت اس سلسلے میں تسلی بخش عملی اقدامات کی ضمانت دے سکتی ہے۔ بہر حال یہ ایک اچھی کاوش ضرور ہے جسے ناکام نہیں ہونا چاہیئے۔حکام کے مطابق حکومتی پالیسی کو 5حصوںمیں تقسیم کیا گیا ہے جس میں شفافیت ا حتساب، شہریوںکو سہولیات کی فراہمی، شہریوںکوحکومتی اقدامات میں شامل کرنے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مدد سے حکومتی اقدامات میں جدت لانا ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے پی ایم آ ر یو کو صوبائی سطح سے اب محکمانہ اور ضلعی سطح پر بھی متعارف کرایا جائیگا۔ آئندہ 15روز کے اندر ان اعشاریوں سے متعلق سرکاری افسران کی تربیت بھی شروع کر دی جائیگی۔ اصولی طور پر حکومت کے اصلاحاتی اقدامات پر تنقید کی گنجائش نہیں لیکن گزشتہ دور حکومت سے اب تک مانیٹرنگ کانظام جن محکموں میں رائج کیا گیا ہے وہ کسی طور بھی محکمانہ بہتری اور کارکردگی میں اضافے کے نتائج نہ دے سکے بلکہ الٹا خزانے پر بوجھ ثابت ہوئے اصلاحات متعارف کرانا اور فعالیت کیلئے اقدامات کرنا حکومت کا حق اور ذمہ داری ہے۔ اس قسم کے اقدامات کی منصوبہ بندی ٹھوس بنیادوں پر اور پوری طرح تیاری کے ساتھ ہونی چاہیئے کہ ناکامی کا امکان باقی نہ رہے ۔ وزیراعلیٰ کو تین ماہ بعد جو رپورٹ پیش ہوں۔ وہ صرف کاغذی نہ ہو بلکہ حکومتی محکموں کی کارکردگی کا فیصلہ ان لوگوں کی آراء کے مطابق ہونا چاہیئے جن کا اس مدت کے دوران متعلقہ محکموں سے واسطہ پڑا ہو۔

صفائی کمپنیوں کی ناکامی

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی طرف سے پشاور سمیت صوبے کی تمام واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسز کمپنیوں کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ان کے تنظیمی ڈھانچے میں تبدیلی کے احکامات کا اجراء اپنی جگہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ متعلقہ کمپنیوں اور بلدیاتی عملے کی کارکردگی میں زیادہ فرق کا نہ ہونا کیا بھاری رقم کا ضیاع اور صوبائی خزانے پر بوجھ نہیں۔ حکومت نے صفائی ونکاسی آب کا نظام کمپنیاںبنا کر اس لئے سونپ دیا تھا کہ عوام کی شکایات میں کمی آئے مگر یہاں تو پرنالہ وہیں کا وہیںگرتا ہے۔جہاں تک کمپنیوں کی مالی مشکلات اور فنڈز وخاص طور پر تنخواہوں کی ادائیگی میں مشکلات کا سوال ہے یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ فنڈز کی فراہمی یقینی بنائے۔ کمپنیوں کی جانب سے بھاری اخراجات اور فنڈز کی وصولی کے باوجود ناکامی اور عوامی شکایات کاجوں کا توں رہنا اس امر کا متقاضی ہے کہ یاتو کمپنیاں اپنی کارکردگی بہتر بنائیں اور عوام کو مطمئن کیا جائے یا پھر حکومت کم وسائل کے حامل اور کم لاگت واخراجات کا پرانا طریقہ کار بحال کرے۔

متعلقہ خبریں