Daily Mashriq

سونے کا انڈا دینے والی مرغی

سونے کا انڈا دینے والی مرغی

کسے معلوم تھا کہ تحریک انصاف کو حکومت دیے جانے کی اتنی مختصر مدت کے بعدہی ہر طرف سے ایک ’’ری سیٹ‘‘ کی ضرورت محسوس کی جانے لگے گی۔ ہمارے ہاں ایک دفعہ پھرصدارتی نظام کے نفاذ کی ضرورت کی باز گشت ہر طرف سے سنائی دی جا رہی ہے۔ تبدیلی سرکار کی حکومت کے محض چند ہی مہینوں بعد یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ آیا نا اہلی اور کرپشن میں سے زیادہ ناقابل برداشت کیا شے ہے۔

یوں معلوم ہوتا ہے کہ حکومت چلانا اور اختیار استعمال کرنا اب ان کے لیے مشکل ہوتا جا رہا ہے، جب اختیار اور طاقت ہونے کے باوجود کوئی ڈلیور ہی نہ کر سکے تو ایسے میں کیا کیا جا سکتا ہے۔ اس تمام شور و غل میں ایک صدا، جو کہ نئی نہیں، پھر سے سنائی دی جانے لگی ہے۔ اور وہ ہے ملک میں صدارتی نظام کے نفاذ کی۔ ماضی میں بھی یہ تجربہ ناکام رہا ہے اور اس کی وجہ یہ نہیں کہ اس نظام میں کوئی سقم موجود ہیں بلکہ اس لیے کہ اس نظام پر صحیح طرح سے عملدرآمد ہی نہیں کیا جا سکا۔ صدارتی نظام کا خیال پیش کرنے والے عقل مندوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس وقت تین ایسے مسائل ہیں جنہیں فی الفور حل کرنے کی ضرورت ہے وہ یہ کہ کرپشن کے بارے ہمارا نظریہ ہے کیا؟ اہلیت اور قابلیت ہمارے لیے کیا حیثیت رکھتی ہے اور یہ کہ ہمیں استحکام سے اس قدر خار کیوں ہے؟ یہ تینوں مسائل ایک دوسرے سے منسلک ہیں اور ان کی بابت اپنے نظریات اور مطمح نظر بدلے بغیر ہم جتنے بھی تجربات کر لیں، پاکستان کو چنداں کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ کرپشن اور مالی امور سے متعلق تو ہمارے ہاں بر سر اقتدار لوگوں کا یہ خیال تھا کہ پاکستانی عوام سے لوٹی گئی دولت کے انبار بیرون ملک چھپائے گئے ہیں جو لوٹنے والے لوگوں کے لیے ماحول تنگ کر کے با آسانی واپس منگوائے جا سکتے ہیں ۔ مزید بر آں یہ خیال کیا جاتا تھا کہ ایک ایسا سلیبرٹی وزیراعظم جس کی مالی امور کے بارے ذاتی شہرت بے داغ ہے، بیرون ملک پاکستانیوں اور دنیا بھر کے سرمایہ داروں کے لیے ایک مقناطیس کا کردار ادا کرے گا۔ یہ دونوں خیالات بعیدازعقل معلوم ہوتے ہیں۔

اس بارے میں تو کوئی ابہام نہیں کہ اس وقت ہماری ریاست شدید مالی بحران کا شکار ہے۔ ہمارے ہاں شہریوں کی تعلیم، صحت ، انصاف اور جان و مال کے تحفظ جیسے بنیادی حقوق کو تو چند لمحوں کے لیے ایک طرف کر دیں، ہمارے پاس اپنے دفاع اور بیرونی قرضوں اور ان پر سود کی ادائیگیوں کے بعد اتنی رقم بھی نہیں بچتی کہ ریاست کے روز مرہ کے اخراجات چلائے جا سکیں۔ اس صورتحال میںادا ئیگیوں کا توازن برقرار رکھنے کے لیے ریاست کے پاس ایک ہی حل نظر آتا ہے اور وہ یہ کہ اٹھارہویں ترمیم کو ختم کر کے وفاق وہ تمام مالی وسائل ایک دفعہ پھر اپنے ہاتھ میں لے لے جن کا ایک بڑا حصہ اس ترمیم کے بعد صوبوں کے پاس چلا جاتا ہے۔ ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کی مخالفت کے باوجودایک لمحے کو تصور کریں ایسا ہو بھی جاتا ہے، تو کیا یہ ہمارے مسائل کا ایک دیر پا حل ہوگا؟کیا یہ ہمیں اس دلدل سے نکال کے استحکام کی راہ پر گامزن کرسکے گا؟ ہمارے ہاں معیشت کی ناکامی کی وجہ کے پیچھے اس بیانیے کو تقویت دی جاتی ہے کہ ہمارا نظام ایک کرپٹ نظام ہے جس میں بد عنوان لوگ ملک سے ناجائز پیسہ لوٹ کر ملک سے باہر لے جاتے ہیں اور اگر ہمیں اس نظام اور معیشت کو ٹھیک کرنا ہے تو ہمیں ان کرپٹ لوگوں پر ہاتھ ڈال کر انہیں کڑی سزا دینا ہو گی۔یہ ایک عجیب و غریب بیانیہ ہے۔ملک کے تمام دولت مند افراد کو کرپٹ سمجھنا اور ان کے پاس تمام تر دولت کے ناجائز ہونے کا دعویٰ کر کے انہیں سزا دینے کا نتیجہ صرف یہی نکلے گا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے دروازے بند ہو جائیں گے۔ ایک ایسا نظام جہاں دولت مندوں اور کامیاب کاروباری لوگوں کو شک اور مجرم کے طور پر دیکھا جائے وہ ان افراد کی حوصلہ شکنی کا سبب بنتا ہے۔

یہ صرف زرداری یا نواز شریف خاندان کی بات نہیں، پاکستان میں موجود ہر بڑے کاروباری شخص کو کبھی نہ کبھی ریاست کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا ہی پڑا ہے۔ جب ریاست نئے کاروبار کرنے والے افرادکو اپنے اس ناقص نظریے کے تحت نشانہ بنائے گی تو ملک کا نجی کاروباری شعبہ کیسے ترقی کر پائے گا؟کیا اس نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کیے بغیر ملکی معیشت مستحکم ہو سکتی ہے؟اہلیت سے متعلق بھی ہماری ریاستی اپروچ خاصی ناقص ہے۔ ہمارے ہاں اہلیت اور قابلیت سے زیادہ ذاتی وفاداری کو فوقیت دی جاتی ہے۔ ہم یہاں مفتاح اسماعیل کی مثال لیتے ہیں۔سیاسی وابستگی ایک طرف، سابق وزیرخزانہ کی قابلیت کے ان کے مخالفین بھی معترف ہیںالبتہ اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنے خاندان کی مرضی کے خلاف،سیاست میں آنے اور حکومتی عہدوں پر خدمات سر انجام دینے کے فیصلے پر پچھتا رہے ہوں گے کیونکہ اب ان کا بیشتر وقت ضمانتیں منظور کروا نے اور احتساب کا سامنا کرتے گزر رہا ہے۔ ہمارے نظام کی ایک اور بڑی خامی قابلیت اور نئے فیصلے لینے کی روش کی حوصلہ شکنی ہے۔ بھلا ایسے میں کوئی بھی فرد جسے اپنی ساکھ اور عزت پیاری ہے، کیونکر ریاست کی خدمت کرنے کے لیے قدم بڑھائے گا؟ ہماری بیوروکریسی کے بابو بھی پکڑے جانے کے ڈر سے کوئی بھی نیا قدم اُٹھانے یا فیصلہ کرنے سے کتراتے ہیں۔یہاں عدالتی نظام کو بھی ریاست آپ کی عقل ٹھکانے لگانے کے لیے استعمال کرتی ہے ۔ (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں