Daily Mashriq

کچھ کر دکھا یا جا ئے

کچھ کر دکھا یا جا ئے

اسلام آباد میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات فواد چودھری نے کہا شریف خاندان نے ملک میں کرپشن کی بنیاد رکھی اور سابق صدر زر داری نے کرپشن کو جدت بخشی،اسحاق ڈار نے جعلی اکائونٹس بنائے اور منی لانڈرنگ کو متعارف کرایا، زر داری نے سندھ میں جعلی اکائونٹس کا نیٹ ورک بنایا۔ انہوں نے کہا حدیبیہ پیپرملز کے حوالے سے تحقیقات میں اہم انکشافات ہوئے۔ جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے پیسہ ملک سے باہر بھجوایا جاتا رہا۔ اسحاق ڈارنے 2000 ء میں اپنے جرم کا اعتراف بھی کیا تھا۔ مشرف دور میں نوازشریف کواین آر او دیا گیااور تحقیقات آگے نہ بڑھ سکیں۔ حدیبیہ پیپر ملز کیس کے فیصلے کو کرپشن چھپانے کیلئے رول ماڈل کے طور پر لیاگیا۔حدیبیہ کی طرح ہل میٹلز کوبھی منی لانڈرنگ کیلئے استعمال کیا گیا۔ 9 کروڑ روپے مالیت کی حدیبیہ ملزکے اکاؤنٹ میں اچانک 81کروڑروپے آنے پر تحقیقات کا آغاز ہوا تو معلوم ہوا کہ حدیبیہ پیپرز ملز کے مالک نوازشریف ہیں اور ان کی والدہ شمیم اختر کمپنی کی ڈائریکٹرتھیں، میاں عباس شریف، مریم صفدر، صبیحہ عباس، حسین نواز، حمزہ شہباز شریف اور مریم نواز شریف کمپنی کے ڈائریکٹرز تھے۔ ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ میں بھی ایسا ہی ہوا جیسا حدیبیہ پیپرز میں ہوا اور حسین نواز نے مجموعی طورپر 1 ارب 16 کروڑ 56 لاکھ روپے بذریعہ ٹی ٹی نواز شریف کو ارسال کیے۔ نواز شریف نے 82 کروڑ روپے مریم نواز کو دیئے جس سے انہوں نے زرعی زمین خریدی۔ پنڈدادن خان کے منظور پاپڑ والے نے ایک ملین ڈالر کی ٹی ٹی لگوائی۔ محبوب علی صادق پلازہ کے سامنے ریڑھی لگاتا ہے اس کی 7 لاکھ کی ٹی ٹی لگوائی گئی۔ اس کے علاوہ رفیق نامی شخص کا شناختی کارڈ بھی استعمال ہوا جو کئی سال پہلے مر چکا ہے۔ پیسے بھجوانے والوں میں سے 14 ایسے لوگ ہیں جن کا وجود ہی نہیں ہے۔200سوئفٹ پیغامات میں 70لوگوں کی شناخت کی گئی ہے جنہوں نے شہباز شریف خاندان کو پیسے بھیجے۔شہباز شریف کے خاندان کے نام 2کروڑ 60 لاکھ ڈالر منتقل کئے گئے،اس عرصے کے دوران شہباز شریف کی بطور وزیراعلیٰ تنخواہ کے علاوہ کوئی آمدن نہیں تھی،اسی عرصے کے دوران شہبازشریف نے اپنی اہلیہ تہمینہ درانی کیلئے 3 اپارٹمنٹ خریدے۔ ٹی ٹی سے شہبازشریف نے ڈی ایچ اے اسلام آباد، ماڈل ٹاؤن اور ڈی ایچ اے لاہور میں اثاثے بنائے۔ وزیر اطلاعات نے کہا زرداری نے سندھ میں جعلی اکاؤنٹس کا نیٹ ورک بنایا،مالی، ڈرائیورز اور گارڈزکے نام جعلی اکاؤنٹس کیلئے استعمال کئے گئے۔ایف آئی اے نے 5ہزار میں 32 اکاؤنٹس کی نشاندہی کی۔ زرداری کے بچوں اور بلاول ہاؤس کے اخراجات بھی جعلی اکاؤنٹس سے پورے کئے گئے۔ بلاول اور ایان علی کے ٹکٹ اور بختاور کی سالگرہ کا خرچہ بھی انہی اکاؤنٹس سے کیا گیا۔ کرپشن کے خلاف جنگ پوری قوم کا فرض ہے۔ شریف خاندان کے خلا ف تحقیقات شفاف انداز میں کی جارہی ہیں۔ کسی سے سیاسی انتقام نہیں لیا جارہا۔ اس موقع پر وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر نے کہا کرپشن کرنے والے عناصر سے قانونی پوچھ گچھ نیب کی ذمہ داری ہے،نیب تحقیقات کرکے اپنے فرائض انجام دے رہی ہے۔ چند روز پہلے کی بات ہے کہ شہباز شریف فیملی کے خلاف نیب نے 85ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا کیس ٹھوس شواہد کے ساتھ پکڑا۔ جس کی خوب دھوم مچی کہ محب وطن اینکرز نے جوش و عقیدت کے ساتھ پروگرام کئے اور بتایا کہ نیب نے رعایت کی ہے‘ منی لانڈرنگ کی اصل مالیت سو ارب روپے ہے۔وزیر اطلاعات کے بیان نے بھی محب وطن اینکرز کی تائید کر دی۔ فرمایا منی لانڈرنگ 85اور سو ارب روپے کے درمیان ہوئی۔ صرف دو روز بعد پی ٹی آئی نے ایک دستاویز جاری کی جس میں بتایا گیا کہ شہباز شریف فیملی نے 3ارب 69کروڑ روپے کی منی لانڈرنگ کی۔ یعنی 48گھنٹوں میں ساڑھے 81ارب کی کمی واقع ہو گئی۔ حیرت انگیزطور پر رقم میں سکڑاؤ پیدا ہوتا چلا جا رہا ہے ، یہ دستاویز 11اپریل کو جاری ہوئی۔ اگلے روز نیب میں حمزہ شہباز کی پیشی ہوئی۔ اخباری رپورٹ کے مطابق اس میں جو سوال جواب ہوئے‘ وہ تین کروڑ 90لاکھ روپے کی منی لانڈرنگ کے حوالے سے تھے۔ یعنی 85ارب کی کرپشن سکڑ کر ساڑھے تین ارب رہ گئے اور پھر مزید سکڑے تو چار کروڑ سے بھی کم رہ گئے۔ عوام ہکا بکا ہیںکہ ان کو صحیح طور پر علم ہی نہیں ہو پا رہا ہے کہ کتنی لو ٹ ما ر ہوئی ہے ۔ پر یس کا نفرنس میں دستاویزی ثبوت کے پھریرے تو لہر ائے جا تے ہیں مگر ان کو اب تک عدالت کے سامنے کیو ں نہیں پیش کیا جاتا ۔دھر نا تحریک میںجو الزامات کی بو چھا ڑ تھی وہی اب بھی جا ری ہے ۔ اب جب کہ حکومت کے پاس ثبوت ہیں تو وہ کیو ں عدالت میں مقدما ت دائر نہیں کر رہی ہے ۔صرف میڈیا ٹرائل پر اکتفا کیے ہوئے جب کہ قومی دولت لوٹنے والو ں کی عبرت ناک سزا کے لیے عوام منتظر ہیں ۔ وفاقی وزیر اطلا عات نے پریس کانفرنس کے مو قعہ پر نیب کی تعریف کی جبکہ وہ دو تین روز قبل علیم خان کی جیل منتقلی پر برہم ہوئے تھے جس پر نیب کی جانب سے ایک تنبیہی پریس ریلزجاری ہوئی تھی ، فواد چودھری نے پریس کا نفرنس میں یہ نہیں بتایا کہ حکومت کے کس ادارے نے یہ ثبوت اکٹھے کیے ہیں اگر نیب نے تحقیق کی ہے تو پھر یہ سوال اٹھتا ہے،

(باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں