Daily Mashriq


تڑپ اے دل ، تڑپنے سے ذرا تسکین ہوتی ہے

تڑپ اے دل ، تڑپنے سے ذرا تسکین ہوتی ہے

کبھی آپ نے کسی اخبار کی دو خبروں کی سرخیوں کو آپس میںطعنے دیتا ، یا ایک دوسری کے منہ کو چڑاتا دیکھا ہے۔ اگر نہیں دیکھا تو آپ ابھی12 اپریل 2019 کے اخبارات دیکھ لیں جس میں پاکستان مسلم لیگ نون کے لیڈر حنیف عباسی کی عمر قید کی سزا کو معطل کرنے کے عدالتی فیصلہ کواس دن کی سب سے بڑی خبر قرار دیکر اخبار کی ہیڈ لائن بنایا گیا ہے۔ حنیف عباسی کو مبینہ طور پر ایفی ڈرین فروخت کرنے کے الزام میں عدالت عظمی نے عمر قید کا حکم دیا تھا ، جسے حال ہی میں لاہور ہائی کورٹ کی جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے معطل کردیا اور ان کو ضمانت پر رہا کرنے کا فیصلہ سنا دیا ۔ جس وقت آپ یہ سطور پڑھ رہے ہونگے اس وقت تک حنیف عباسی جیل کی سلاخوں سے باہر نکل کر نواز شریف کے ہر اس شیر کی طرح دھاڑ رہے ہونگے جو پنجرے میں بند ہونے سے پہلے دھاڑتے رہے تھے اور پنجروں میں بند ہوتے ہی یوں خاموش ہوگئے جیسے وہ کبھی کچھ بول ہی نہ پائے نواز شریف کی سیاسی پارٹی کا انتخابی نشان شیر تھا جبھی نہ صرف وہ بلکہ ان کی بہت پیاری بیٹی مریم نواز تک اپنی پارٹی کے ہر رکن کو سدھایا ہوا شیر سمجھ کر خطاب کرتے ہوئے پوچھا کرتی تھیں کہ’ کیا تم نواز شریف کو ووٹ دوگے؟ کیا تم انہیں بھاری اکثریت سے کامیاب کرو گے؟ کیا تم ان پر لگائے گئے چوری کے الزام جھوٹ قرار دو گے؟ یہ اور اس قسم کے کتنے سوالوں کی بوچھاڑ ہوجاتی سدھائے ہوئے شیروں کے جم غفیر پر اور وہ ان سب سوالوں کا رٹا رٹایا جواب دینے کے لئے اپنے ہاتھوں کو نون لیگ کے شیر چھاپ جھنڈے بنا کر لہرانے لگتے۔ اور مریم نواز کی ہاں میں ہاں ملا کر ثابت کر دیتے کہ وہ شیر ہی نہیں ، جملے رٹنے والے بہت قیمتی طوطے بھی ہیں۔ اور ان کی مثال اس قیمتی طوطے جیسی ہے جسے بھولا باچھا یہ سمجھ کر خرید لایا تھا کہ وہ ہر بات کا معقول جواب یا مشورہ دے سکتا ہے۔ جب وہ اسے خریدنے کے لئے بازار گیا تو اس نے دکاندار سے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس ایسا طوطا ہے جو ہر زبان سمجھتا ہو اور ہر بات کا معقول جواب دے سکتا ہو۔ جی ہاں ایسا طوطا ہے میرے پاس، یہ رہا ، دکاندار ایک طوطے کا پنجرہ اٹھا کر بھولے باچھا کو تھماتے ہوئے کہنے لگا۔ کیا قیمت ہے اس کی بھولے باچھا نے پوچھا۔ جس کے جواب میں دکان دار نے اس کی قیمت اتنی زیادہ بتائی کہ بھولا باچھا چکرا کرکہنے لگا ، ’’ ہائیں ، اتنی زیادہ قیمت؟؟‘ دکانداربھولے باچھا کی یہ بات سن کر مسکرایا، اور کہنے لگا کہ آپ کی اس بات کا جواب پنجرے میں بند طوطاہی دیگا، یہ بات سنتے ہی بھولا باچھا طوطے سے مخاطب ہوکر کہنے لگا کہ ’’ اے مٹھو میاں ، کیا تمہاری قیمت یہی ہے جو دکاندار نے بتائی ہے ‘‘ طوطے نے بھولے باچھا کی بات سننی تھی اور فوراً بول اٹھا کہ ’’ دریں شک نیست‘‘ ارے یہ تو فارسی بھی جانتا ہے ، بھولے باچھا نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور یوں طوطا فروش دکاندار کو اسکی منہ مانگی قیمت دے کر پنجرے میں بند طوطے کو اپنے گھر لے آیا ، لیکن بھولا باچھا کو اپنی حماقت کا اس وقت احساس ہوا جب اسے معلوم ہوا کہ مٹھو میاں اس کی ہر بات کے جواب میں ’ دریں شک نیست ‘ کا ایک ہی رٹا رٹایا جملہ دہرا دیتا ہے ، ۔ مٹھو میں نے سیر کے لئے جانا ہے، دریں شک نیست، مٹھو میں کھانا کھانا چاہتا ہوں ، دریں شک نیست، مٹھومیں تھوڑا سا آرام کر لوں ، دریں شک نیست، جس وقت بھولے باچھا کو اس بات کا علم ہوگیا کہ مٹھو میاں نے ایک ہی جملہ یاد کر رکھا ہے تو وہ اس سے مخاطب ہوکر کہنے لگا ’ مٹھو میاں میں نہایت نامعقول ، بھونڈا اور پرلے درجے کا بے وقوف ہوں جو تجھے خریدلایا ، جس کے جواب میں مٹھو میاں وہی ایک رٹا رٹایا جملہ دہراتے ہوئے کہنے لگا کہ ’’ دریں شک نیست‘‘ میں نے مسلم لیگ ن کے شیروں کو جملے رٹنے والے شیر کہہ دیا ، کہتے ہیں کہ کسی نے کسی سے پوچھا کہ شیر انڈے دیتا ہے یا بچے ، جس کے جواب میں اسے بتایا گیا کہ یہ شیر کی مرضی پر منحصر ہے کہ وہ انڈے دے یا بچے کیونکہ وہ شیر ہے اور شیر تو جنگل کا بادشاہ ہوتا ہے ، حنیف عباسی کے حوالہ سے عدالت کے شیر دلانہ فیصلہ کو چیلنج کرنے کی بھلا کون جرات کرسکتا ہے ، لیکن جس روز عدالت کا یہ فیصلہ اخبار کی ہیڈ لائن بن کر ہمارے سامنے آیا عین اسی روز کے اخبار کے اس ہی صفحہ پر سعودی عرب میں ایک پاکستانی میاں بیوی کا سر قلم کرنے کی دلخراش خبر چھپی ہوئی تھی ، جس کے متن کے مطابق سعودی عرب میں منشیات کی سمگلنگ کے جرم میں پاکستانی میاں بیوی محمد مصطفی اور اس کی اہلیہ فاطمہ اعجاز کو ہیروئین لے کر سعودی عرب جانے کا جرم ثابت ہونے پر عدالت نے ان کے سر تن سے جدا کر نے کا حکم دیا ، جس کو سعودی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ، لیکن عدالت عالیہ نے اس سزا کی توثیق کردی ، اور یوں وہ دونوں میاں بیوی نشان عبرت بن کر دنیا والوں کے سامنے سعودی قانون کا بول بالا کرگئے ، اور پھر ہم نے اگلے رو ز کے اخبار کے صفحہ اول پر چھپنے والی اس خبر کو حنیف عباسی کی خبر کا منہ چڑاتے دیکھا تو ہم چپ سادھ کر بھی چپ نہ رہ سکے کہ ہماری خاموشی چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی

خموشی سے مصیبت اور بھی سنگین ہوتی ہے

تڑپ اے دل ، تڑپنے سے ذرا تسکین ہوتی ہے

متعلقہ خبریں