Daily Mashriq


پاکستان میں اوبر کے حالیہ اقدام سے ڈرائیورز پریشان

پاکستان میں اوبر کے حالیہ اقدام سے ڈرائیورز پریشان

کراچی: آن لائن سفری سہولیات فراہم کرنے والی کمپنی اوبر کے حالیہ فیصلے نے پاکستان بھر میں کام کرنے والے ہزاروں ڈرائیوروں کو کشمکش میں مبتلا کردیا۔

اوبر کی جانب سے کلٹس گاڑی کو ’گو‘ سے ’منی‘ گٹیگری میں شامل کرنے کے اقدام سے ڈرائیور غصے کا شکار ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ اس اقدام سے انہیں بری طرح مالی نقصان ہوا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے ڈرائیوروں کو کمپنی کی جانب سے بذریعہ ایک پیغام آگاہ کیا گیا تھا کہ بہت سے وجوہات کی بنا پر 2017 اور اس کے بعد کی گاڑیوں کو چھوڑ کر تمام کلٹس گاڑیاں گو سے منی کٹیگری میں شامل کی جارہی ہیں۔

اس حوالے سے متعدد اوبر ڈرائیورز نے ڈان کو بتایا کہ کمپنی کے اس فیصلے نے انہیں حیران کردیا۔

61 سالہ ریٹائر محمد اسماعیل کہتے ہیں کہ انہوں نے 14 ماہ میں 3 ہزار سے زائد رائڈ (سواریاں) مکمل کرچکا ہوں اور ’میں نے ایک اچھی رقم بنائی ہے تاہم گزشتہ ایک ہفتے سے مجھے اپنی کمائی کم ہوتی دکھ رہی ہے‘۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں کام کے حساب سے سست دن میں بھی 16سو روپے بنا لیا کرتا تھا لیکن اب زیادہ سے زیادہ میں 900 روپے بنا رہا ہوں‘۔

اوبر کے فیصلے کو ’ناانصافی‘ قرار دیتے ہوئے انہوں نے شکایت کی کہ ’منی رائڈ حاصل کرنے سے قبل مجھے کم سے کم 5 سے 6 کلو میٹر کا فیصلہ کور کرنا پڑ رہا ہے جبکہ جب میں گو میں تھا تو عموماً سواری 3 کلو میٹر کی حدود میں ہی ہوتی تھی، جس کا مطلب یہ ہے کہ مجھے زیادہ ایندھن خرچ کرنا پڑ رہا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ہفتے نوٹیفکیشن موصول ہونے کے بعد سے میں اوبر کے دفتر گیا لیکن کسی قسم کا جواب نہیں دیا گیا۔

علاوہ ازیں اوبر کے ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ صارفین کی رائے پر مبنی ہے، کمپنی اپنی منی پروڈکٹ کو صارفین کے لیے قابل اطمینان بنانا چاہتی ہے، تاہم انہوں نے گاڑیوں کا درجہ کم کرنے کی کوئی خاص وجہ شیئر نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ ’صارفین کی جانب سے پروڈکٹ کی سب سے زیادہ قدر کی بنیاد پر صرف کچھ گاڑیوں کو منی میں منتقل کیا گیا‘۔

کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق 2001 کے بعد کی ایسی گاڑیاں جس میں ایئر کنڈیشن ہو وہ ’گو‘ کٹیگری میں شامل ہوتی ہیں جبکہ اس رپورٹ کی اشاعت تک اوبر کی ویب سائٹ پر کلٹس بھی گو کٹیگری میں ہی شامل تھی۔

ادھر ڈان سے رابطہ کرنے والے مختلف ڈارئیوروں نے ایک جیسی ہی کہانیاں بتائیں جبکہ اس اقدام سے سب سے زیادہ ان نوجوان طلبا کو متاثر کیا جو اپنی ڈگری مکمل کرنے کے دوران اپنے اہل خانہ کو سپورٹ کرنے کے لیے (اپنی مرضی کے اوقات) میں اوبر چلاتے ہیں۔

اس بارے میں جب کمپنی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے ان کے پاس رجسٹرڈ ڈرائیوروں اور گاڑیوں کی ٹھیک تعداد شیئر نہیں کی، تاہم ستمبر 2018 کی میڈیا رپورٹ اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ کمپنی نے ایک لاکھ سے زائد لچکدار اقتصادی مواقع پیدا کیے۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ ماڈل/برانڈ کی کم از کم 10 ہزار گاڑیاں پورے پاکستان میں رجسٹرڈ ہیں، جس میں سے صرف 3 ہزار کراچی میں ہی ہیں۔

متعلقہ خبریں