Daily Mashriq


سپیکر قومی اسمبلی کا انتخاب

سپیکر قومی اسمبلی کا انتخاب

اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں سپیکر وڈپٹی سپیکر کے عہدوں کیلئے انتخاب کی تکمیل کے بعد حکومت سازی وزیراعظم کے انتخاب کا حتمی مرحلہ باقی رہ گیا ہے۔ نئے وزیراعظم کے انتخاب کیساتھ ہی کابینہ کی تشکیل ہوگی اور نئی حکومت کا باقاعدہ قیام عمل میں آئے گا۔ عوام کی نئی حکومت سے توقعات کی وابستگی فطری امر ہے جبکہ حکمرانوں کا عوامی توقعات پر پورا اترتے ہوئے ان کے مسائل کا حل فریضہ بھی ہے، ذمہ داری بھی اور امتحان بھی۔ تحریک انصاف کے سپیکر قومی اسمبلی کے امیدواراسد قیصر کے منتخب ہونے کے بعد قومی اسمبلی میں تحریک انصاف اور ان کی اتحادی جماعتوں کو عملی طور پر ایوان میں عددی بالادستی حاصل ہوگئی ہے۔ملک میں حکومت بنانے کے لئے تحریک انصاف کی پوزیشن مضبوط ہے اور قومی اسمبلی میں جنرل نشستوں کیساتھ خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں ملا کر پی ٹی آئی151نشستوں کیساتھ سرفہرست ہے۔ تاہم 172ارکان کی مطلوبہ تعداد تک پہنچنے کیلئے تحریک انصاف کو اپنے اتحادیوں کی ضرورت تھی، جس کے لئے وہ پہلے ہی متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم)کے7، مسلم لیگ ق اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے)کے3-3، بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) اور بی این پی کے5-5، عوامی مسلم لیگ اور جمہوری وطن پارٹی کا ایک ایک رکن جبکہ4آزاد ارکان اسمبلی کی حمایت حاصل کر چکی ہے۔ جن کی تعداد ایک سو اٹھتر بنتی ہے۔ اگرچہ تحریک انصاف ایک سو اکیاسی اراکین کی حمایت کی دعویدار تھی تاہم ان کو 176ووٹ ملے جبکہ اصولی طور پر ان کو 178ووٹ ملنے تھے۔ اس امر کا امکان ہے کہ ان کے مسترد ہونے والے آٹھ میں سے ممکنہ طور پر دو ووٹ تھے۔ اسد قیصر کے سپیکر منتخب ہونے سے ان تمام خدشات اور پس پردہ ہونے والی سازشوں اورچہ میگوئیوں کا بھی خاتمہ ہوگیا ہے جن کے باعث پیپلز پارٹی کے امیدوارکی کامیابی کا امکان ظاہر کیا جا رہا تھا۔ سپیکر اسد قیصر کے 176ووٹوں سے انتخاب کے بعد تحریک انصاف کے قائد عمران خان بھی قائد ایوان ثابت ہوگئے ہیں اور ان کی اکثریت واضح ہے۔ آج عدالت عالیہ اسلام آباد میں ان کی نااہلیت کے مقدمے کی سماعت کے بعد صورتحال پوری طرح واضح ہوگی۔ قطع نظر اس کے کہ عدالت عالیہ اسلام آباد کے دو رکنی بنچ کا فیصلہ کیا آتا ہے تحریک انصاف اور ان کی اتحادی جماعتوں کے ووٹوں کی تعداد کے تناظر میں وہ قائد ایوان بن گئے ہیں، جہاں تک سپیکر کے انتخاب کے بعد ایوان میں حزب اختلاف کے احتجاج کا سوال ہے اگر دیکھا جائے تو حزب اختلاف پہلے ہی دن تقسیم اور دو عملی کا شکار دکھائی دی۔ مسلم لیگ (ن) اور ایم ایم اے کے اراکین نے شدید احتجاج کیا جبکہ پیپلز پارٹی کے اراکین نے رسمی حزب اختلاف کا رویہ اپنایا گوکہ مسلم لیگ (ن) نے احتجاج ضرور کیا لیکن اس احتجاج کی شدت اتنی نہیں تھی جتنا اس قسم کے مواقع پر دیکھنے کو ملتا تھا۔ تجزیہ نگاروں کا یہ خیال درست ثابت ہوا کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے ان کے سیاسی کردار سے واضح ہو جائے گا کہ وہ احتجاج کو اس حد تک نہیں لے جانا چاہتے جس سے نظام کو دھچکا لگے۔ پہلے ہی سے اس امر کا اندازہ لگایا جا رہا تھا کہ اپوزیشن کی جانب سے اسمبلی میں چھوٹے پیمانے پر شور وغل تو ضرور ہوگا لیکن کوئی بڑا ہنگامہ نظر نہیں آئے گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میںحزب اختلاف حزب محاسبہ کا کردار پوری شدت سے ضرور ادا کرے لیکن اس کا انداز مہذب اور مدلل ہونا چاہئے، شور شرابا اور ایوان کا ماحول خراب کرنے کی ماضی کی روایات کا اعادہ پہلے بھی ناپسند یدہ تھی اب بھی ہے۔ اس کردار کا اب مظاہرہ نہیں ہونا چاہئے۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کے درمیان پہلے ہی دن کی تقسیم کو دیکھ کر اس امر کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ مشکلات میں گھری حزب اختلاف کے اپنے اپنے پاؤں کی بیٹریاں ہوتی ہیں اگر ایک جانب مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت مشکل میں ہے تو دوسری جانب پیپلز پارٹی کی قیادت بھی کم مشکل میں نہیں۔ اس قسم کے حالات سے مصلحت پسندی اور مصالحت کا رویہ اپنانے پر مجبور ہونا فطری امر ہوگا، باوجود اس کے کہ حزب اختلاف میں جہاندیدہ اور تجربہ کار اراکین کی موجودگی تحریک انصاف کیلئے کسی بڑے چیلنج سے کم نہیں ہوگا۔ تحریک انصاف کو قومی اسمبلی میں کسی ایک بڑی جماعت کی ضرورت رہے گی جبکہ سینیٹ میں تحریک انصاف کو سخت حالات کا سامنا ہوگا اور اپنے ایجنڈے کی تکمیل کی طرف بڑھنا مشکل تو ہے مگر ناممکن نہیں۔ تحریک انصاف کی صفوں میں موجود زیرک سیاستدانوں پر خاص طور پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مفاہمت ومصالحت اور زیادہ سے زیادہ ذمہ دارانہ کردار اور تحمل کا مظاہرہ کر کے نہ صرف حالات کا مقابلہ کرے بلکہ مشکلات کے باوجود بہتر حکومت اور تبدیلی بھی لا کر دکھانی ہے۔

متعلقہ خبریں