Daily Mashriq


صدر مملکت کا خطاب

صدر مملکت کا خطاب

صدر مملکت ممنون حسین نے 72ویں یوم آزادی کی پرچم کشائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قوم کو مبارک باد دی اور کہا کہ نئی نسل کو آزادی کی قدر کرنا ہو گی۔ انہوں نے اس بار یوم آزادی اور عام انتخابات میں قرب زمانی کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے جس طرح پاکستان عوام کی مرضی سے وجود میں آیا تھا اسی طرح عوام کی قسمت کے فیصلے بھی ووٹ کی پرچی سے ہوں گے اور عوام کے نمائندے وہی کہلائیں گے جو منتخب ہو کر آئیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم نے 25جولائی کو ایک بار پھر اس اصول پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے اجتماعی فیصلوں اور قوم کے بہتر مستقبل کے لیے اداروں کو اسی طرح با اختیار بنانا ناگزیر ہے۔ اس کے باوجود مختلف حلقوں کی طرف سے بے اطمینانی کا اظہار کیا جائے تو الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کو مطمئن کرے۔ اور ایسے انتظامات کو یقینی بنائے جن کے نتیجے میں رائے دہندگان میں یہ اعتماد پیدا ہو سکے کہ امور مملکت میں ان کے فیصلوں پر کبھی آنچ نہیں آئے گی۔ صدر مملکت کے خطاب میں اس جملہ کے بعد کہ ہمیں کھلے دل سے یہ اعتراف کرنا چاہیے کہ ہم ابھی تک منزل تک نہیں پہنچے ‘ عام انتخابات کے نتائج پر بعض حلقوں کی بحث سے عدم اطمینان کے اظہار کے ذکر سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدر مملکت نے انتخابی عمل کو اس لائق قرار نہیں دیا کہ وہ پاکستان کو اس منزل تک پہنچا سکے‘ بظاہر یہ اظہار عدم اطمینان عمومی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے حالیہ عام انتخابات کے حوالے سے بعض حلقوں کی طرف سے بے اطمینانی کا ذکر کر کے اس اظہارِ عدم اطمینان کو حالیہ عام انتخابات سے مخصوص کر دیا ہے۔ اور یہ ذمہ داری الیکشن کمیشن پر ڈالی ہے کہ وہ ان حلقوں کی بے اطمینانی ختم کرے۔ ایک طرف الیکشن کمیشن کو اختیارات تفویض کرنے کے حوالے سے انہوں نے کہا ہے کہ اسی طرح اداروں کو مضبوط کیا جانا چاہیے۔ دوسری طرف انہوں نے اپنی رائے کا وزن ان حلقوں کی رائے کے ساتھ منسلک کر دیا ہے جو عام انتخابات کے نتائج پر بے اطمینانی کا اظہار کر رہے ہیں۔ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ نہ صرف انتخابی اصلاحات کی تیاری میں حکومت اور اپوزیشن کا اشتراک عمل تھا بلکہ چیف الیکشن کمشنر کا انتخاب بھی آئین کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے اتفاقِ رائے سے طے پایا تھا۔ اس طرح سابقہ حکومت بھی چیف الیکشن کمشنر کے انتخاب میں نہ صرف شریک تھی بلکہ حکومت ہونے کے حوالے سے بھی مقتدر شریک تھی۔ فریقین نے چیف الیکشن کمشنر پر اظہار عدم اطمینان کیا تھا کہ وہ آزادانہ منصفانہ اور شفاف الیکشن کرائیں گے۔ اور عوام نے بھی ، جن کے بارے صدر مملکت نے کہا ہے کہ انہوں نے 25جولائی کو جمہوریت کے اصول پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔ عام انتخابات کے نتائج پر بے اطمینانی کا اظہار بالعموم وہ سیاسی پارٹیاں کر رہی ہیں جنہیں گزشتہ عام انتخابات کی نسبت کم ووٹ پڑے۔حالیہ انتخابات کے نتائج کی رو سے عوام نے ن لیگ کو اعتماد کے لائق نہیں سمجھا۔ لیکن ن لیگ کے صدر کا دعویٰ ہے کہ انتخابات میں وسیع پیمانے پر دھاندلی ہوئی ہے جس کی بدولت ان کی متوقع اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کیاگیا ہے۔ ایسا ہی الزام حالیہ انتخابات میں قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل کرنے والی تحریک انصاف نے بھی 2013ء کے عام انتخابات کے بارے میں لگایا تھا اور 126دن کے دھرنے میں احتجاج کیا تھا۔ قومی اسمبلی میں ن لیگ اور اس کی حامی جماعتوں نے اگرچہ کہا تھا کہ 2013ء کے عام انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے ‘ تاہم تحریک انصا ف کے مطالبات کو تسلیم نہیں کیا تھا۔ آخر معاملہ عدالت میں گیا فیصلہ میں کہا گیا کہ اگرچہ دھاندلی ہوئی تاہم اس قدر نہیں جس سے انتخابات کے نتائج بنیادی طور پر متاثر ہوئے ہوں۔ آج ن لیگ کے صدر میاں شہباز شریف کہہ رہے ہیں کہ انتخابات میں بھاری پیمانے پر دھاندلی ہوئی ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ نتائج کا کمپیوٹرائزڈ سسٹم دو گھنٹے میں فیل ہو گیا۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شکست کھانے والی پارٹیوں کے پولنگ ایجنٹس کو گنتی کے وقت نکال دیا گیا۔ اس میں ایک عنصر کمپیوٹرائزڈ نظام کے فیل ہونے کا ہے جس کے باوجود پولنگ جاری رکھی گئی۔ ایک تحقیق طلب بات یہ ہے کہ سسٹم کی خرابی کے باعث کسی ایک یا چند جماعتوں کے ووٹوں میں کمی آئی یا نہیں۔ دوسرا الزام یہ ہے کہ پولنگ ایجنٹس کو گنتی کے وقت شامل نہیں کیا گیا ۔ پولنگ سٹیشنوں کی تعداد پچاسی ہزار تھی۔ ہر پولنگ سٹیشن پر مختلف پارٹیوں کے پولنگ ایجنٹوں کی تعداد چار پانچ یا دس تک ہو سکتی ہے۔ کیا 25 جولائی کی شام کو تمام پولنگ سٹیشنوں سے پولنگ ایجنٹوں کو نکال دیا گیا تھا۔ یا صرف ایک دو پارٹیوں کے پولنگ ایجنٹوں کو نکال دیا گیا تھا؟ اگر ایسا ہوتا تو ملک بھر میں شور مچ جاتا لیکن ایسا کوئی منظر سامنے نہیں آیا۔ میاں شہباز شریف جب دھاندلی کا دعویٰ کرتے ہیں تو انہیں اعداد و شمار اور پکے ثبوتوں کے ساتھ اپنا دعویٰ پیش کرنا چاہیے۔ ایک طریقہ سڑکوں پر احتجاج کا ہے جو تحریک انصاف نے 2013ء کے عام انتخابات کے حوالے سے اختیار کیا تھا اور جس کی مذمت ن لیگ اور حکومت میں شامل دیگر پارٹیوں نے کی تھی۔ دوسرا طریقہ عدالتوں کی طرف رجوع کرنے کا ہے۔ صدر مملکت سے یہ امید ہونی چاہیے کہ جب وہ سیاسی جماعتوں کے انتخابی اصلاحات کی تیاری کے لیے مل بیٹھ کر مشاورت کی تعریف کرتے ہیں تو وہ اہلِ سیاست کو آئین اور قانون کی پاسداری کا مشورہ بھی دیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایسے لوگوںکو مطمئن کرے جو انتخابات کے نتائج پر بے اطمینانی کا اظہار کر رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے سارے فارم 45اپنی ویب سائٹ پر ڈال دیے ہیں ۔ اگر اب بھی بے اطمینانی باقی ہے تو غیر مطمئن لوگوں کو عدالتوں سے رجوع کرنا چاہیے۔ جب قانون میں تنازعات کے حل کا طریقہ کار موجود ہے تو اس کے مطابق عمل کا مشورہ دیا جانا چاہیے تھا۔

متعلقہ خبریں