Daily Mashriq


صدر مملکت کے ارشادات اور انتخابات

صدر مملکت کے ارشادات اور انتخابات

صدر مملکت نے یہ کہہ کر بال الیکشن کمیشن کے کورٹ میں اس زور سے دے مارا ہے کہ اب الیکشن کمیشن یقینا بغلیں جھانکنے پر مجبور ہو رہا ہوگا، اس سے پہلے صدر نے ملک میں کرپشن کے حوالے سے بھی اسی طرح ایک تقریب میں کچھ ریمارکس دیئے تھے جنہیں آج تک کچھ حلقے بار بار دوہرا کر صدر مملکت کے ایک ممدوح سابق حکمران پر طنز کے تیر برساتے رہتے ہیں، اُمید ہے وہی حلقے اب صدر کے تازہ بیان پر ادھر ادھر جھانکنے اور بغلی گلی سے فرار کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے اس تازہ ارشاد کو بھی وہی اہمیت، وقعت اور حیثیت دیں گے جیسا کہ ان کے محولہ سابقہ ارشادات کو ابھی تک دے کر ان کی تقریر کا ریکارڈ بار بار بجا کر اپنی تشفی کرتے رہتے ہیں۔ اب ان لوگوں کی حالت دیدنی ہوگی۔یوم آزادی کے حوالے سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدرمملکت نے جو باتیں کی ہیں وہ چشم کشا کے زمرے میں آتی ہیں، انہوں نے کہا کہ قومی معاملات اور خصوصاً انتخابی عمل کو باقاعدہ، منظم اور شفاف بنانے کے سلسلے میں قوم میں مکمل اتفاق ہے، پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر انتخابی اصلاحات تیار کیں، الیکشن کمیشن کو وسیع اختیارات تفویض کئے گئے لیکن اس کے باوجود مختلف حلقوں کی جانب سے کوئی بے اطمینانی محسوس کی جائے تو پھر یہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ انہیں مطمئن کرے۔صدر مملکت کے بیان کو اتنی آسانی سے نظرانداز نہیںکیا جا سکتا بلکہ ان الفاظ کو ہمیں اپنے ماضی کے تناظر میں دیکھنا اور پرکھنا پڑے گا، بین السطور انہوں نے ماضی میں انتخابات کے حوالے سے پیش آنے والے ’’واقعات وحادثات‘‘ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان حقائق سے پردہ سرکانے کی کوشش کی ہے جو آج بھی من حیث القوم ہمارے لئے باعث فکر ہیں، پاکستان کی تاریخ میں صرف 1970ء کے انتخابات ہی کو مجموعی طور پر (بعض تحفظات کے باوجود) صاف شفاف اور غیرجانبدارانہ اور آزادانہ کا سند عطا کیا جاتا ہے، اس سے پہلے اور بعد میں ہر انتخابی معرکے پر کسی نہ کسی حلقے کی جانب سے اعتراضات سامنے آتے رہے ہیں، کبھی اداروں پر انجینئرڈ انتخابات کے الزامات تو کبھی دوسری قسم کی دھاندلی کی شکایات عام رہی ہیں اور دھاندلی میں سول انتظامیہ پر بھی کیچڑ اُچھالا جاتا رہا ہے، 2013ء میں ہونے والے انتخابات پر دیگر سیاسی جماعتوں کے تحفظات اپنی جگہ جبکہ تحریک انصاف کے سربراہ نے 35پنکچر کے الزامات لگا کر چار حلقے کھولنے کے مطالبات کئے اور اسے اس حد تک آگے بڑھایا کہ اسلام آباد میں 126دن کے طویل دھرنے کی نوبت آئی، اس دوران ان کی جانب سے سول نافرمانی کی تحریک بھی شروع کی گئی جبکہ اسی دھرنے کی وجہ سے چین کے صدر کا دورہ بھی منسوخ ہوا جس نے پاکستان کی معیشت پر شدید منفی اثرات مرتب کئے۔ بعد میں 35پنکچر والے بیان کو سیاسی قرار دے کر یوٹرن لیا گیا مگر سیاسی فضا کو ان الزامات نے جس قدر مکدر کرنا تھا اس کے اثرات ہم آج بھی بھگت رہے ہیں۔ غرض یہ کہ انتخابات پر جو سوالات اٹھائے گئے ان کی وجہ سے سیاسی فضا میں تلخیوں نے ایسا گھر کر رکھا ہے کہ شاید اگلے کئی سال تک یہ تلخیاں اسی طرح سیاسی محاذ آرائی میں اضافہ کرتی رہیں گی۔ حالیہ انتخابات سے پہلے ملک میں جس قسم کی سیاسی فضا چھائی رہی اور بعض سیاسی رہنما پری پول رگنگ کے جو الزامات عائد کرتے رہے ہیں جبکہ نہ تو نگران حکومت، نہ ہی الیکشن کمیشن نے ان الزامات کو سنجیدگی کیساتھ لینے کی ضرورت محسوس کی، یہاں تک کہ انتخابات کے بعد الیکشن کمیشن کے سیکرٹری نے ہارنے (یا ہروائے جانے والے؟) سیاسی رہنماؤں، اُمیدواروں کو جس طرح طنز واستہزا کا نشانہ بناتے ہوئے اپنی ہار تسلیم کرنے اور الزامات لگانے پر تنقید کی سان پر رکھا اس سے الیکشن کمیشن کی نیک نامی میں تو کیا اضافہ ہوتا، الٹا موصوف کے بیان نے الیکشن کمیشن کو معترضین کے مقابلے میں فریق بنانے کی غلط روایت ڈالی۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن کو نہ تو قانونی، نہ ہی اخلاقی طور پر یہ استحقاق حاصل تھا کہ وہ معترضین پر منفی انداز اور نامناسب الفاظ کیساتھ وار کرکے ایک فریق کی حیثیت اختیار کرتا بلکہ انہیں ضرورت تھی تو الیکشن کمیشن کے مؤقف کی وضاحت، وہ بھی شائستہ انداز میں، کرکے اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہئے تھی، سیکرٹری الیکشن کمیشن کے محولہ بیان کے بعد تو انہیں یہی مشورہ دیا جا سکتا ہے کہ وہ خود ایک امیدوار کی حیثیت سے میدان انتخاب میں اترتے، اس کے بعد معترضین کو جس لب ولہجے میں انہوں نے جواب دیا اس کا جواز بھی بن جاتا۔ مرحوم نیاز سواتی نے غالباً ایسے ہی مواقع کیلئے کہا تھا

میرا بیٹا بات سچی کوئی بھی کرتا نہیں

میرے بیٹے کو سیاستدان ہونا چاہئے

بہرحال صدر مملکت کے محولہ خطاب کے بعد اب الیکشن کمیشن کا فرض ہے کہ وہ حالیہ انتخابات کے حوالے سے اٹھنے والے اعتراضات کا عوام کو مسکت جواب دینے کی کوشش کرے اور اداروں کو بھی صدر مملکت کے ان الفاظ پر ضرور غور کرنا چاہئے جن میں انہوں نے کہا ہے قیام پاکستان کا مقصد انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نجات دلانا تھا، گویا بہ الفاظ دیگر ان کے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ انگریزوں کی غلامی سے نجات حاصل کرنے کے بعد اگر اداروں کی غلامی قبول کرنا مقصود تھا تو بانیان پاکستان نے ایسا کبھی نہیں سوچا تھا۔ وما علینا الالبلاغ

متعلقہ خبریں