Daily Mashriq


معاشرے سے متعلق علوم کی اہمیت

معاشرے سے متعلق علوم کی اہمیت

انسانی زندگی میں ارتقا اور نشو ونما ایک فطری عمل ہے۔ بچے پانچ چھ برس کی عمر میں سکول میں داخل ہو جاتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے دس برسوں کے اندر اندر میٹرک کا امتحان پاس کر لیتے ہیں۔ عام طور پر پاکستان میں پانچ برس پرائمری سکول اور پانچ برس مڈل ومیٹرک میں لگتے ہیں۔ میٹرک کے بعد بچے سکول کے ذرا سخت اور پابند شیڈول سے نجات پاکر کالجوں میں داخلہ لیتے ہیں۔ تقریباً سارے طلبہ اپنے روشن مستقبل کی تلاش اور کالجوں کے نئے ماحول کی وجہ سے بہت ذوق وشوق سے ایک قسم کی نئی زندگی کا آغاز کرتے ہیں۔ آج کل سائنس میں بی ایس کرنے کی کئی لحاظ سے بہت زیادہ اہمیت ہے۔ ایک تو پاکستان کو ٹیکنالوجیکلی (Technologically) ترقی کیلئے اچھے سائنسدانوں کی ضرورت ہے اور پاکستان اٹامک انرجی کمیشن ہر سال اچھے اور قابل نوجوان سائنسدانوں کی تلاش میں ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ سکولوں اور کالجوں میں نئی نسلوں کو سائنس کے مضامین صحیح انداز میں پڑھانے کیلئے یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل نوجوان اساتذہ کی بڑی ضرورت ہوتی ہے۔ پختونخوا کے دوردراز اضلاع کے دیہاتی سکول کالجز میں عموماً سائنس کے مستند اساتذہ کا فقدان ہوتا ہے جس کی وجہ سے ہماری نئی نسل کے وہ طلبہ جو اس قسم کے سکولوں سے پڑھ کر آتے ہیں سائنس کے مضامین میں کمزور ہوتے ہیں۔ لہٰذا جامعات میں داخلہ پانے والے سائنس کے یہ خوش نصیب طلبہ کوشش یہ کریں کہ اپنی چار سالہ جامعاتی زندگی کے ایک ایک لمحے کو قیمتی بنا کر ماہرین اساتذہ سے استفادہ کریں اور شعبہ کی لیبارٹریوں میں زیادہ وقت گزارتے ہوئے جو کچھ کلاس میں تھیوری کی صورت میں پڑھاتے ہیں اسے پریکٹیکل میں سیکھنے کے عمل سے گزریں تاکہ کالجوں میں نئی نسل کو صحیح انداز میں یہ علوم منتقل کرتے ہوئے پاکستان میں سائنسی علوم کی بنیادوں کو مضبوط کرسکیں۔ مغرب کی موجودہ ترقی کا راز اسی بات میں مضمر ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان یورپ نہ جاتے تو پاکستان شاید ہی ایٹمی طاقت بنتا۔ میٹریولاجیکل سائنس ہی کسی صنعتی ترقی کیلئے اساس مہیا کرتی ہے۔ اس کیساتھ کسی بھی ملک کی ترقی میں سوشل سائنسز اور ہیومینٹیز گروپ کے مضامین کا بھی بہت بڑا کردار ہوتا ہے اور یہ سائنس سے کسی طرح بھی کم نہیں ہوتا کیونکہ کسی بھی ملک کیلئے ڈاکٹرز‘ انجینئرز اور سائنسدانوں کی ایک خاص تعداد میں ضرورت ہوتی ہے لیکن سوشل سائنسز کا شعبہ اس کے مقابلے میں بہت وسیع ہوتا ہے کیونکہ ان مضامین کا تعلق معاشرے سے منسلک مختلف مضامین وموضوعات اور ضروریات سے ہوتا ہے۔

اسلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ذہین اور قابل طلبہ سوشل سائنسز کو بھرپور توجہ دیں۔ اردو‘ پشتو‘ تاریخ‘ پولیٹیکل سائنس‘ انٹرنیشنل ریلشنز‘ لاء‘ سائیکالوجی‘ فلسفہ‘ منطق‘ ریاضیات اور بہت سارے نئے مضامین کے شعبے جامعات میں آج کے ذہین طلبہ کا انتظار کر رہے ہیں۔ آج کل تو گلوبل ویلج کے تقاضوں اور ضروریات کے پیش نظر سوشل سائنسز کے مضامین کی اہمیت بعض حوالوں سے نیچرل سائنسز کے مضامین سے بھی بڑھ گئی ہے۔ عالمی نشریاتی اداروں کیلئے بہترین اور ماہر صحافیوں کی ہر وقت ضرورت ہوتی ہے۔ دہشتگردی کے عوامل نے ہر ملک میں تھنک ٹینکس کی اہمیت دو چند کردی ہے۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے جامعات ایسے طلبہ پیدا کریں جو نہ صرف ملک کے اندر وطن عزیز کی بہترین خدمت کریں بلکہ بیرونی دنیا میں بہترین انداز میں پاکستان کی نمائندگی کریں۔

ایریا سٹڈیز اور فزیکل ایجوکیشن دو ایسے مضامین ہیں جس کے ماہرین ہمارے ہاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ آج دنیا کے مختلف کھیلوں بالخصوص فٹ بال‘ سکواش‘ کرکٹ‘ ٹینس اور دیگر مشہور ومعروف کھیلوں میں بائیس کروڑ آبادی والے ملک کے کتنے ججز اور ایمپائرز پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ سی این این‘ بی بی سی‘ فاکس‘ الجزائر اور دیگر عالمی ٹی وی چینلز پر پاکستان کی نمائندگی ہے ہی نہیں۔ افغان امور کے ماہرین تو ہمارے پاس تھوک کے حساب سے ہونے چاہئے تھے۔ جامعہ پشاور‘ کابل اور جلال آباد کے پہلو میں واقع ہے لیکن بی بی سی والے افغانستان اور طالبان کے حوالے سے ایک ایسے صحافی سے رائے لیتے ہیں جو ایم اے انگریزی ہے حالانکہ یہ کام ایریا سٹڈی سنٹر شعبہ تاریخ اور پاکستان سٹڈی سنٹر کے اساتذہ ومحققین کا ہے لیکن چونکہ طلبہ جامعات میں ان مضامین میں وہ جان نہیں کھپاتے جو اس کا تقاضا ہے لہٰذا ہمارے ہاں عالمی معیار کے سوشل سائنٹسٹ پیدا ہی نہیں ہوتے۔ پاکستان کے اندر ہمارے سیاستدانوں کی کمزوری کی وجہ بھی یہی ہے کہ ان میں سے بہت کم سیاسیات اور شہریت اور قانون تاریخ وغیرہ کے مضامین میں ماسٹر ڈگری ہولڈرز ہیں لہٰذا طلبہ کو چاہئے کہ جامعات میں چار سال کی طویل مدت کو ایسے انداز میں لگائیں کہ آگے جا کر ان اہم شعبہ ہائے زندگی کو مناسب ماہرین دستیاب ہوں اور وطن عزیز زندگی کے ہر شعبے میں ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔ یہی جامعات اور طلبہ کا کردار ہوتا ہے جو طلبہ کیلئے جامعاتی زندگی کو پوری زندگی کا بہترین حصہ شمار کرواتا ہے۔

متعلقہ خبریں