Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

لوگوں اور بزرگوں سے تعلق رکھنا فائدہ کثیر کاموجب ہے ، اسی لیے قرآن کریم میں ایمان کو اس طرح حکم دیا گیا ہے :ترجمہ:’’عباس دوریؒ کہتے ہیں : ’’میرے پڑوسی علی بن حزارہ نے مجھے اپنی والدہ کا ایک قصہ بیان کیا ، ان ہی کی زبانی ملاخطہ کیجئے !‘‘

علی بن حزارہ کہتے ہیں :’’میری والدہ کو دونوں پیروں میں فالج ہوگیا ، جس کی وجہ سے بالکل معذور ہوگئیں ، اس حال میں تقریباً بیس سال گزرگئے ‘‘۔

محتاجی اور معذوری ایسی چیزیں ہیں ، جن سے ہرانسان پناہ مانگتا ہے ،محتاجی اور ذلت سے پناہ مانگنے کے لیے حضوراقدسؐ یہ دعا پڑھا کرتے تھے : ترجمہ:’’خدایا! میں تیری پناہ چاہتاہوں فقر ، مال کی کمی اور ذلت سے اور تیری پناہ چاہتا ہوں ، اس سے کہ میں کسی پر ظلم کروں یا کوئی مجھ پر ظلم کرے ‘‘۔

ایک دن وہ مجھ سے کہنے لگیں : ’’اگر تم امام احمد بن حنبلؒ کی خدمت میں حاضر ہو جائو! اور ان سے جا کر درخواست کرو کہ وہ میرے حق میں دعا کردیں تو امید ہے کہ میری یہ معذوری دور ہو جائے ‘‘۔

والدہ کا دل رکھنے کے لیے میں چل پڑا ۔ اور دریاپار کر کے دوسرے کنارے پہنچا اور پھر حضرت امام احمد بن حنبلؒ کے گھر پر آیا اور دروازہ کھٹکھٹایا ۔

اندر سے آواز آئی : ’’کون ؟‘‘۔

میں نے کہا :’’ابو عبداللہ !(یہ امام احمدؒ کی کنیت ہے ) آپ کا ایک دینی بھائی جو بڑی دور سے آیا ہے ‘‘۔

حضرت امامؒ نے مجھے اندر بلایا اور پوچھا : ’’کیا ہو ا، خیریت تو ہے ؟‘‘

میں نے کہا: ’’میری والدہ پائوں سے معذور ہیں ۔ انہوں نے مجھے دعائوں کی درخواست کرنے کے لیے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ آپ ان کے حق میں دعا فرمادیں !‘‘

فرمانے لگے : ’’اور ہمارے لیے کون دعا کرے گا؟‘‘

مسلسل وہ یہ بات دہراتے رہے ۔ اس کے بعد مجھے اصرار کرتے ہوئے شرم آئی اور انہیں سلام کرکے جانے لگا تو ایک بوڑھی خاتون ان کے گھر سے باہر آئی اور کہنے لگی : ’’میں ان کے ہونٹوں کی جنبش کرتے دیکھا ہے ، لگتا ہے کہ وہ آپ ہی کے لیے کوئی دعا فرمارہے تھے ‘‘۔

بہرحال میں چلا آیا اور گھر پہنچنے پر دروازہ کھٹکٹھایا تو میر حیرت کی انتہا نہ رہی کہ میری والدہ خود چل کر آئیں اور دروازہ کھولا۔

میں نے کہا : یہ کیسے ہوگیا ؟‘‘

کہنے لگی : ’’مجھے خود نہیں معلوم ،مگر بس اچانک میں کھڑی ہوگئی ‘‘۔

یہ میری زندگی کا ایک ایسا مشاہدہ اور معجزہ تھا ، جسے میں کبھی بھی فراموش نہیں کرسکتا ۔ میں نے خدا تعالیٰ کا شکریہ ادا کیا اور اس نے بیس سال کے بعد اپنے ایک ولی کی طرف سفر کرنے اور ان کی دعائوں کی برکت سے میری والدہ کو شفاء عطا فرمادی ۔

(راحت پانے والے )

متعلقہ خبریں