Daily Mashriq

کرپشن کیسز میں چیف جسٹس کا سخت نقطہ نظر، سینئر وکلا کا اختلاف

کرپشن کیسز میں چیف جسٹس کا سخت نقطہ نظر، سینئر وکلا کا اختلاف

 اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کرپشن کے کیسوں میں نرمی برتنے کے قائل نظر نہیں آتے اور حال ہی میں کرپشن کے کیسوں میں انھوں نے جو رولنگز دی ہیں وہ ثابت کرتی ہیں کہ کرپشن کے معاملے میں ان کا نقطہ نظر بہت سخت ہے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کیسوں کی سماعت کے دوران بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ ان کیسوں میں کسی کوبخشنے کو تیار نہیں وہ کہ چکے ہیں کہ کرپشن میں ملوث کوئی شخص اگر مر بھی جاتا ہے تو اس کے ذمہ رقم اس کے لواحقین سے وصول کی جائے۔ وہ ایک فیصلے میں یہ بھی قراردے چکے ہیں کہ نیب آرڈیننس 1999کے سیکشن 5(a) کے تحت کسی مجرم کی 10 سال تک نااہلی کی سزا اس وقت مکمل ہوگی جب وہ جرمانے کی ادائیگی سمیت اپنی تمام سزائیں پوری کر لے گا، اس کی رو سے وہ شخص جرمانے کی ادائیگی کے بعد ہی کوئی سرکاری عہدہ قبول کرسکے گا۔

ایک کیس میں وہ یہ بھی قراردے چکے ہیں کہ جرمانے کی عدم ادائیگی پر سزا کی مدت مکمل کرنے کے بعد بھی جرمانے کی سزا برقرار رہتی ہے کیونکہ جو اس نے سزا کاٹی ہے وہ تو عدم ادائیگی کے ضمن میں آئیگی۔جرمانے کی اس سے وصولی پھر بھی کرناہوگی، گزشتہ سال نیب کیسوں میں ضمانت کے معاملے پر بھی وہ وضاحت کرچکے ہیں کہ ہائیکورٹ غیرمعمولی حالات میں ہی ضمانت لے سکتی ہے۔

عام کیسوں میں ضمانت نہیں لی جاسکتی، کرمنل کیسوں میں قبل ازگرفتاری ضمانت کے معاملے میں بھی چیف جسٹس کا نقطہ نظر کافی سخت ہے ۔ایون فیلڈ کیس میں وہ اس حوالے سے سزا اور ضمانت کے بارے میں گائیڈ لائنز دے چکے ہیں، پاناما کیٹ کیس کے 192صفحات پر مشتمل اقلیتی فیصلے میں بھی وہ کرپشن سے نمٹنے کے بارے میں اپنا نقطہ نظر دے چکے ہیں، اس میں ان کا کہنا ہے کہ اعلیٰ سطح کی کرپشن نئی بات نہیں لیکن اس وقت ڈرامائی طور پر اس کے طریقے بدل گئے ہیں، انھوں نے بعض کیسوں میں انٹرنیشنل ٹربیونلز کے کیسوں کے حوالے دیتے ہوئے واقعاتی شہادتوں کے ثبوتوں کے معیارکا بھی ذکرکیا ہے۔

سابق صدر سپریم کورٹ بار رشید اے رضوی نے چیف جسٹس کے ان فیصلوں سے اختلاف کیا ہے کہ اگر کرپشن میں ملوث کوئی شخص انتقال کر جاتا ہے تو اس کے لواحقین اس کے ذمے جرمانے کی رقم کیوں ادا کریں؟، ان کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس نے ہائیکورٹ کی طرف سے ملزموں کی ضمانت کا اختیار بھی محدود کردیاہے ،یوں نیب کو کسی بھی شخص کی گرفتار کے لامحدود اختیارات دیدیے گئے ہیں۔

ایک اور سینئروکیل کا کہنا ہے کہ یوں لگتا ہے کرپشن کیسوں میں عدلیہ اور انتظامیہ ایک پیج پر آگئے ہیں، نیب کی طرف کی طرف سے دوران تفتیش سیاسی رہنماؤں کی گرفتاری پر اعلیٰ عدلیہ نے بھی کوئی اعتراض نہیں کیا۔

سینئر وکلا کا کہناہے کہ سپریم کورٹ کو نیب آرڈیننس کے سیکشن 24-d کا جائزہ لینا چاہیے جو جیئرمین نیب کو دوران تفتیش ہی کسی بھی شخص کو گرفتارکرنے کا اختیاردیتا ہے، متاثرہ فریق کو داد رسی کیلیے کوئی فورم دستیاب نہیں، اپوزیشن پارٹیاں بھی اس قانون کے غلط استعمال کی شکایت کررہی ہیں کیونکہ ان کے لیڈر جرم ثابت ہوئے بغیر ہی پابند سلاسل ہیں،عدلیہ اس معاملے میں خاموش ہے۔

عدلیہ کو درپیش چیلنج کے بارے میں ایک سینئر وکیل کاکہنا تھا کہ اعتماد کا بحران اور ڈی پولرائزیشن سب سے بڑا چیلنج ہے،اس وقت عدلیہ ایک کیمپ میں کھڑی ہے، اس کا رجحان ایک فریق کی طرف نظر نہیں آنا چاہیے بلکہ اسے غیرجانبدارہونا چاہیے۔

متعلقہ خبریں