Daily Mashriq

حکومت کا سرکاری ملازمین کو یکم ستمبر تک اثاثے ظاہر کرنے کا حکم

حکومت کا سرکاری ملازمین کو یکم ستمبر تک اثاثے ظاہر کرنے کا حکم

اسلام آباد: حکومت نے تمام وفاقی وزارتوں، اداروں، چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی حکومتوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ 30 جون 2019 کو اختتام پذیر ہونے والے مالی سال کے لیے اپنے ملازمین کے اثاثوں کی تفصیلات یکم ستمبر تک حاصل کرلیں۔

ایک علیحدہ میمورنڈم میں حکومت نے مینیجمنٹ گریڈ کے افسران کے لیے 15 فیصد ایڈ ہاک ریلیف فنڈ الاؤنس اور اس کے ساتھ منتخب کارپوریشنز اور خودمختار اداروں کے لیے 5 سے 10 فیصد ایڈہاک ریلیف فنڈ کا بھی اعلان کیا۔

اس سلسلے میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے تمام وفاقی وزارتوں اور محکموں کے سیکریٹریز، چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے چیف سیکریٹریز، چیئرمین قومی احتساب بیورو، وفاقی محتسب، وفاقی ٹیکس محتسب، الیکشن کمیشن آف پاکستان، انٹیلی جنس بیورو اور آڈیٹر جنرل پاکستان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے دائرہ اختیار میں کام کرنے والے ملازمین کی جانب سے اثاثے ظاہر کرنے کے عمل کو یقینی بنائیں۔

خیال رہے کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس، پولیس سروس، سیکریٹریٹ گروپ اور آفس مینجمنٹ گروپ کے ڈیکلریشن کا ریکارڈ رکھتا ہے۔

دوسری جانب تمام سروسز گروپس جس میں امور خارجہ اور عدالتی امور بھی شامل ہیں، کے اثاثوں کے اعلامیے کا ریکارڈ ان کی متعلقہ وزارتیں، محکمے اور شعبے رکھتے ہیں۔

اس کے ساتھ ہر سرکاری ملازم کے لیے آمدنی کا سالانہ ڈکلریشن، اثاثے اور 30 جون کو اختتام پذیر ہونے والے مالی سال کے اخراجات، گزشتہ برس جمع کروائے گئے اثاثوں میں کوئی کمی یا اضافے کا بھی بتانا ہوگا۔

ایک دوسرے حکم نامے میں حکومت نے مینجمنٹ گریڈ (ایم 1 سے ایم3) کے لیے بنیادی تنخواہ پر 10 فیصد ایڈ ہاک ریلیف کا بھی اعلان کیا، جس کا اطلاق یکم جولائی 2018 سے ہوگا جبکہ (ایم 3 کے لیے) 5 فیصد ایڈہاک ریلیف کا اطلاق یکم جولائی 2019 سے ہوگا۔

یہ ایڈ ہاک چھٹیوں کے دوران قابلِ عمل ہوگا البتہ خصوصی چھٹیوں کے لیے نہیں اور اس پر بھی انکم ٹیکس کا اطلاق ہوگا تاہم اسے پینشن، گریجویٹی، مکان کے کرایے کی مد میں ادائیگی نہیں سمجھا جائے گا۔

اس کے ساتھ یہ بھی اعلان کیا گیا کہ ایڈہاک ریلیف مالی سال 20-2019 کے بجٹ میں اعلان کردہ بنیادی تنخواہ پر گریڈ 1 سے 16 کے سول سرونٹس کے لیے 10 فیصد، اورگریڈ 17 سے 20 تک کے لیے 5 فیصد ہوگا۔

علاوہ ازیں اس کا اطلاق خودمختار، نیم خودمختار اداروں اور کارپوریشنز پر بھی ہوگا جو وفاقی حکومت کے بنیادوں تنخواہ کے اسکیل پر عمل کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں