Daily Mashriq

کشمیر کی پکار

کشمیر کی پکار

عمران خان نے مقبوضہ کشمیر کی حالیہ صورتحال کو سربرانیکا (بوسنیا)اور بھارتی گجرات سے تشبیہ دیتے ہوئے ایک مرتبہ پھر مسلمانوں کی نسل کشی کے خدشے کا اظہارحقیقت حال کی درست ترجمانی ضرور ہے لیکن اس صورتحال میں پاکستان عالمی برادری کو دہائی دینے کے علاوہ کوئی قدم اُٹھانے کو تیار نظر نہیں آتا۔ وزیراعظم پاکستان نے بھارت کے کسی جارحانہ اقدام کا جواب دینے کے عزم کا تواظہار کیا ہے لیکن اس سے بڑھ کر کوئی قدم اُٹھانے کی ضرورت پر کوئی بات ہی نہیں ہورہی۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے’’یوم سیاہ ‘‘کے موقع پر خطاب میں پاکستان کو کوئی براہ راست دھمکی دینا تو درکنار نام لیکر بھی خلاف روایت کوئی بات نہ کی۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ12روز سے کرفیو نافذ ہے، وہاں فوج کی اضافی نفری تعینات ہے، رابطوں کے تمام ذرائع پر پابندی ہے۔مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد وہاں مزاحمتی تحریک کو دبانے کیلئے جاری بھارتی حکومت کے کریک ڈاؤن کے دوران1300سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔بھارتی فوج کی تعیناتی اور اقدامات کے باعث مقبوضہ کشمیر کے شہروں کا حلیہ تک بد ل گیا ہے۔ اب وہ اپنے شہر کو پہچان بھی نہیں سکتے۔ جب سے حکومت نے کشمیر کو اس کی خودمختاری سے محروم کیا ہے پورا شہر ہی خاردار تاروں کی ایک رکاوٹ میں تبدیل ہو چکا ہے۔ تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ بھارت نواز جماعتوں کی تمام قیادت اور سابقہ تین وزراء اعلیٰ کو بھی نظربند کیا گیاہو۔مقبوضہ کشمیر1989سے ہی پرتشدد شورش کا شکار ہے جس میں اندازاً 70 ہزار افرادجاں بحق ہو چکے ہیں۔ بھارتی حکومت کے حالیہ اقدامات کے بعد پوری وادی میں عوام کشمیر کی خود مختاری کیلئے متحد ہو چکی ہے۔جس قسم کی صورتحال مقبوضہ کشمیر میں جاری ہے ملکی اور بین الاقوامی حالات اور اختیار کردہ حکمت عملی سے تو اس امر کا شبہ ہونے لگتا ہے کہ گویا اس صورتحال کو قبول کرلیا گیا ہو ۔دنیا اور خصوصاً مسلم دنیا اگر مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں بلکہ اب تو مقبوضہ کشمیر کے عوام کو اکیلا چھوڑے گی اور عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کو کھیل کھیلنے کا موقع دے گی تو عالمی تاریخ میں ظلم کا ایک نیا خونریز وخونخوار باب رقم ہوگا۔ افسوس کہ آج کی مہذب دنیا کو مقبوضہ کشمیر میں ظلم وبربریت کی فکر نہیں۔ پاکستان کا عالمی برادری کا دروازہ کھٹکھٹانے کا سفارتی طریقہ کار اپنی جگہ، پاکستان کا جنگ سے گریز کی پالیسی بھی قابل فہم لیکن سمجھ سے بالاتر امر یہ ہے کہ پاکستان میں عوامی سطح پر وہ جوش وجذبہ اور جنون کیوں نظر نہیں آتا جو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کیخلاف ہمیشہ سے رہا ہے۔ یکایک ہمارے اکابرین، علمائے کرام اور کشمیری مسلمانوں سے جذباتی وابستگی رکھنے والے لوگوں کو سانپ کیوں سونگھ گیا ہے، کسی ایک طرف سے بھی کشمیری مسلمانوں اور مقبوضہ کشمیر کے عوام پر بھارت مظالم کیخلاف آواز سامنے نہ آنے سے بھارت کو موقع ملے گا کہ وہ مقبوضہ کشمیر پر اپنی عملداری کو مضبوط بنائے اور اپنا قبضہ مستحکم کرے۔ مقبوضہ کشمیر میں صورتحال کشیدہ ضرور ہے جسے بزور قوت اور ظلم وتعدی کے ذریعے بھارتی سرکار دبانے میں مصروف ہے۔ کشمیر مسلمانوں کی بالخصوص اور کشمیری عوام کو بالعموم جب تک باہر کی دنیا سے مدد نہیں ملے گی ان کی جدوجہد کی ہر سطح پر حمایت نہیں کی جائے گی تو بھارت کو اپنے منصوبے میں آسانی ہوگی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج عالمی برادری عالم اسلام اور پاکستانی عوام کیا بالواسطہ اس منصوبے کو اپنی لا تعلقی کے ذریعے تقویت تو نہیں پہنچا رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کو پنجے گاڑنے میں خدانخواستہ کامیابی ملے تو اس کے بعد جنونی ہندو آزاد کشمیر کی طرف متوجہ ہوسکتے ہیں جس کا مجبوراً جواب دینا پاکستان کی مجبوری ہوگی۔ کیا ہماری قیادت کی حکمت عملی یہ ہے کہ دشمن کواس حد تک موقع دیا جائے کہ وہ خدانخواستہ ہماری گریبان کی طرف بھی ہاتھ بڑھائے۔بھارت کیخلاف جتنا جلد ممکن ہوسکے عالمی سطح پر رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش کی جائے اور دنیا کے مہذب ممالک کے شہریوں کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی حقیقت سے آگاہ کیا جائے۔ دنیا بھر میں پاکستانی سفارتخانوں اور وہاں پر موجود پاکستانیوں کو جگہ جگہ مظاہروں اور احتجاج کیلئے متحرک کیا جائے۔ جو سیاسی جماعتیں اپنے بل بوتے پر بیرون ملک اجتماعات اور مظاہرہ کروانے کی سکت اور حمایت رکھتی ہیں ان سیاسی جماعتوں کو چاہئے کہ وہ سیاسی وابستگیاں اور حمایت بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے حامیوں کو اکٹھا کرکے اور خالصتاً پاکستانی کا کردار ادا کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے دفاتر کے سامنے وہائٹ ہائوس اور دنیا کے تمام دارالحکومتوں میں مقبوضہ کشمیر میں مظالم کیخلاف احتجاج کرنے پر آمادہ کریں۔ اس سعی میں انہیں سکھوں اور بھارت میں مظالم اورناانصافی کا شکار دیگر شہریوں کی حمایت بھی میسر آنا فطری امر ہوگا جس سے عالمی برادری کو اس امر کا احساس ہوگا اور وہ مقبوضہ کشمیر میں ظلم وستم بند کروانے کیلئے اپنا کردار ادا کرنے پر آمادہ ہوں گے۔

متعلقہ خبریں