Daily Mashriq

غیرقانونی تعمیرشدہ عمارتوں کیخلاف کارروائی کی ضرورت

غیرقانونی تعمیرشدہ عمارتوں کیخلاف کارروائی کی ضرورت

یونیورسٹی ٹاؤن پشاور میں بلند وبالا عمارتوں کی تعمیر پر قومی احتساب بیورو کا اقدام، تعمیرات کے ذیلی قوانین کی خلاف ورزی کرنیوالے اداروں کی نشاندہی، ان کیخلاف کارروائی کرنے اور مستقبل میں قوانین پر عمل درآمد یقینی بنانے کیلئے سفارشات ارسال کرنے کا عمل سنجیدہ ضرور ہے لیکن اصل بات اس پر عملدرآمد کرانے میں پوری دلچسپی اور متعلقہ حکام کی جانب سے تساہل وغفلت پر ذمہ دار عناصر کیخلاف کارروائی یقینی بنانا یا بنوانا ہے۔ صوبائی دارالحکومت میں ہر قسم کے عمارتوں کی تعمیر میں قوانین کی دھجیاں اُڑانا کوئی راز کی بات نہیں جس کی تحقیقات کے بعد ذمہ داری کا تعین کرنے اور ذمہ دار عناصر کیخلاف تحقیقات کی ضرورت ہے۔ بہرحال یونیورسٹی روڈ کی مرکزی حیثیت اور یہاں پر بے شمار عمارتوں کی خلاف قانون تعمیر کا معاملہ خاص طور پر توجہ طلب معاملہ تھا جس کی نیب نے تحقیقات کے بعد ذمہ دار عناصر کیخلاف کارروائی کی سفارش کی ہے۔ معروضی حالات میں اس امر کا امکان نظر نہیں آتا کہ نیب کی ہدایت کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جائے گا اسلئے کہ یونیورسٹی روڈ سمیت شہر بھر میں اس قسم کی عمارتیں راتوں رات نہیں بنیں ان کے مالکان بااثر لوگ ہیں ممکن ہے حکومتی صفوں میں بھی بہت سے لوگ ہوں ایسے میں ان کیخلاف کارروائی کیلئے جس طرح کے اقدامات کی ضرورت ہے ان پر عملدرآمد مشکل امر ہوگا۔ بہرحال نیب کی نشاندہی کے بعد ان کی سفارشات وہدایات پر عملدرآمد سے روگردانی کی گنجائش نہیں۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کو بطور خاص اس معاملے کا سنجیدگی سے جائزہ لینے اور نیب کی سفارشات پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ صرف یہی کافی نہ ہوگا بلکہ صوبہ بھر میں اس قسم کی ملی بھگت اور خلاف ورزیوں سمیت رہائشی علاقوں میں کاروباری سرگرمیوں کی روک تھام کیلئے بھی سنجیدہ احکامات دینے اور ان پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔

سرکاری گاڑیوں کا غیرقانونی استعمال

خیبر پختونخوا حکومت کی تمام انتظامی محکموں کے پاس موجود اضافی گاڑیوں کو فی الفور واپس کرنے کی ہدایت اور محکمہ کے پاس موجود دیگر گاڑیوں اور افسران کو فراہم کی جانیوالی گاڑیوں کی تفصیلات کی طلبی بشرط سنجیدہ عملدرآمد احسن قدم ہے۔ محکمہ انتظامیہ کی جانب سے خیبر پختونخوا کے تمام محکموںکی گاڑیاں جن افسران کے استعمال میں ہیں اور کب سے وہ انہیں استعمال کر رہے ہیں وہ تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔ سرکاری گاڑیوں کا غلط اور ناجائز استعمال کوئی راز کی بات نہیں صوبائی حکومت نے اگر ناجائز اور غیرقانونی طور پر گاڑیوں کے استعمال کا جائزہ لینے، اس کی روک تھام اور ناجائز اور غیرمجاز افراد کے زیراستعمال گاڑیوں کی تعداد معلوم کرنے اور ان کیخلاف ممکنہ تادیبی کارروائی کی غرض سے تفصیلات مانگی ہیں تو احسن ہیں اور اگر یہ معمول کی کارروائی ہے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ صوبے میں سرکاری گاڑیوں کی بڑے پیمانے پر غیرمجاز افراد کی طرف سے استعمال اور سرکاری گاڑیوں کو سرکاری امور کے علاوہ استعمال کی روک تھام سے پٹرول سمیت جو بچت ممکن ہے اسے یقینی بنانے میں تساہل نہ کیا جائے۔ سرکاری گاڑیوں کے غلط استعمال کی روک تھام کیلئے ان گاڑیوں پر متعلقہ محکمے کا نام واضح طور پر لکھا جائے اور اسے مخصوص رنگ دیا جائے تاکہ متعلقہ محکمے کی نشاندہی ہو اور ہر کسی کو نظر آئے کہ سرکاری گاڑی کا کہاں استعمال ہو رہا ہے۔ ساتھ ساتھ ان کی مانیٹرنگ کا بھی بندوبست کیا جائے۔ صوبائی حکومت کے اقدام کے بعد گاڑیوں کے غلط استعمال اور اس کے ذمہ دارروں کیخلاف کارروائی سے عوام کو آگاہ کیا جائے اور غیرقانونی استعمال پر متعلقہ افسران اور اس کی اجازت دینے یا چشم پوشی کرنے والوں سے وصولی بھی کی جائے۔

حکمرانوں اور عمال کا اصل چہرہ

خیبر پختونخوا میں تین دہائیوں کے دوران سات حکومتوں کی عدم دلچسپی کے باعث ضلع سوات میں تیس سال قبل بنائی گئی ڈسپنسری کا تاحال فعال نہ ہونا ہمارے عوامی نمائندوں اور حکومتی مشینری کا اصل چہرہ عیاں کرنے کیلئے کافی ہے۔ وجوہات جو بھی ہوں اور اس کی ذمہ داری جس پر بھی عائد ہوتی ہو سرکاری رقم سے تعمیرشدہ مرکزصحت کو عوام کیلئے علاج گاہ کی بجائے باڑہ بنا دینا اور ہر حکومت میں اس حوالے سے ایک ہی طرح کی غفلت کا ارتکاب ازخود اس امر کی وضاحت کیلئے کافی ہے کہ ہمارے غمخواروں کو عوام کا غم کس حد تک ہے اور ان کو ان کی ذمہ داریوں کا کس حد تک احساس ہے اور سرکاری وسائل کے استعمال پر ان کا دل کس قدر دکھتا ہے۔

متعلقہ خبریں