Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

نوالہ منہ میںڈالا تو کڑوا زہر تھا۔ کوئی اور ہوتا تو نوالہ تھوک دیتا کلیوں پر کلیاں کرتا۔پھر پکانے والے کی خبر لیتا ایسی کہ اسے چھٹی کا دودھ یاد آجاتا لیکن اس اللہ کے بندے نے کچھ نہ کہا بلکہ جتنا کچھ کھایا گیا کھا کر ہاتھ دھویا اور اللہ کا شکر ادا کرکے ٹوپیاں بننے میں لگ گیا۔ اشارتاً کنایتاً بھی کسی سے کچھ نہ کہا۔ دوسرا دن آیا تو یہ اللہ کا بندہ پھر کھانے پر بیٹھا۔ آج بھی کھچڑی پکی تھی‘ نوالہ اٹھایا اللہ کا نام لے کر منہ میں ڈالا تو آج اور ہی حال تھا۔ نام کو نمک نہ تھا۔ پہلے ایک دم کڑوا پھر بالکل پھیکا‘ کھانے والے کے لئے وہ کڑوا پن بھی ناقابل برداشت تھا اور یہ پھیکا پن بھی لیکن نہ جب زبان سے کچھ نکلا نہ اب۔ سننے والے سنیں گے تو تعجب کریں گے کہ یہ جس شخص کاذکر ہے وہ ایک بادشاہ تھا اور بہت بڑا بادشاہ۔ اس کی سلطنت خلیج بنگالہ سے بحیرہ عرب تک اور راس کماری سے کوہ ہمالیہ تک تھی۔

وہ تخت طائوس پر بیٹھتا اور کوہ نور جیسے ہیرے کا مالک تھا۔ ایک کوہ نور ہی کیا جواہرات کے ڈھیر کے ڈھیر اس کے خزانہ عامرہ میں موجود تھے ۔مگر حال یہ تھا کہ بھرا خزانہ رعایا کے لئے چھوڑ کر خود ہاتھوں سے کام کرتا یعنی تاج و تخت کے کام نمٹا کر ٹوپیاں بننے میں لگا رہتا۔ ان ٹوپیوں کو بیچ کر جو کچھ کماتا اس سے اپنا پیٹ بھرتا اور شاہی خزانے کو عوام کی امانت سمجھتا۔ دور دور سے خانساماں اور شاہی رکابدار اس کا نام سن کر آتے اور شاہی محل میں ملازمت اختیار کرتے۔ شاہی باورچی کہلانا کوئی معمولی بات نہ تھی لیکن یہ لوگ کچھ دن کام کرتے تو جی چھوڑ بیٹھتے اور کوئی نہ کوئی بہانہ کرکے نوکری سے الگ ہو جاتے۔ ان کی یہ بات کچھ ایسی غلط بھی نہ تھی۔ جب وہ شاہی باورچی خانے میں گھستے تو پتہ لگتا یہاں نپا تلا چاول‘ چلو بھردال اور ساگ کی دو گڈیاں ملتی ہیں۔ باقی اللہ اللہ خیر سلا۔

جس باورچی کا یہ قصہ ہے وہ آیا تو بادشاہ نے کہا نوکری ایک صورت میں مل سکتی ہے۔ اس نے ادب سے پوچھا۔ وہ کیا؟ بادشاہ سلامت نے فرمایا۔ وہ یہ کہ تم وعدہ کرو کہ کم از کم ایک سال ٹک کر رہو گے۔ اس نے فوراً ہاں کردی۔

جب ہانڈی چولہا سنبھالا تو بھید کھلا کہ بریانی و متنجن خیالی پلائو ہیں یہاں تو ڈھاک کے تین پات ہیں۔ نوکری چھوڑ بھی نہ سکتا تھا آخر اس نے طے کیا کہ ایسی حرکتیں کرو کہ بادشاہ سلامت ناراض ہو کر خود ہی نکال دیں۔ چنانچہ پہلے اس نے یہ کیا کہ کھچڑی پکائی تو نمک ہنڈیا میں انڈیل دیا۔ دیکھا نتیجہ کچھ نہ نکلا تو دوسری بار پھیکے چاول کھلادئیے۔ بادشاہ نے اس پر بھی کچھ نہ کہا تو تیسری مرتبہ نمک مناسب ڈالا۔ آج شہنشاہ عالی مرتبت نے سر اٹھا کر اپنے خدمت گار کو دیکھا اور بڑے صبر و تحمل سے فرمایا۔ میاں صاحبزادے! ایک ڈھنگ اختیار کرو۔ روز روز مزہ نہ بدلا کرو! اپنے ملازم کے ساتھ صبر کا یہ برتائو کرنے والا اللہ کا بندہ مغلیہ سلطنت کا سب سے بڑا شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر تھا۔(روشنی)

متعلقہ خبریں