Daily Mashriq

دوقومی نظریہ‘ کشمیر اور پاکستان

دوقومی نظریہ‘ کشمیر اور پاکستان

ایک بار پھر دوقومی نظرئیے کے ناقدین کی دلیلیں تاریخ کے کوڑے دان میں پڑی ہیں۔ ہندوستانی مسلمانوں کو متحدہ قومیت کا درس دینے والوں نے جو خواب دکھائے وہ آہستہ آہستہ اور ایک ایک کرکے بکھر گئے۔ ابتداء ہی میں گاندھی جی کے آدرش ان کی ناگہانی موت کیساتھ اپنے انجام کو پہنچے‘ بعد کا ہندوستان مذہبی امتیاز روا رکھنے والا ہندوستان ثابت ہوا۔

من موہن سنگھ کی قائم کردہ ’’سچر کمیٹی‘‘ کی رپورٹ ہندوستانی مسلمانوں کی ہر میدان میں پستی کی کہانی تفصیل سے بیان کرتی ہے۔ تازہ ترین اعتراف مفتی سعید کی بیٹی محبوبہ مفتی نے کیا ہے۔ بھارتی حکومت نے آئین کا آرٹیکل370 منسوخ کیا تو انہوں نے ٹویٹ کیا ’’1947ء میں جموں وکشمیر کی قیادت کا دوقومی نظرئیے کو مسترد کرنے اور ہندوستان سے الحاق کرنے کا فیصلہ غلط ثابت ہوا‘‘۔ یہ بات حضرت قائداعظمؒ نے شیخ عبداللہ کو سمجھانے کی کوشش کی تھی مگر وہ نہ سمجھے‘ آج قائداعظم کی پیش گوئی کے عین مطابق ان کی نسلیں اپنے آباؤاجداد کے غلط فیصلے کا خمیازہ بھگت رہی ہیں۔ الحاق ہندوستان کا ایندھن بننے والے شیخ عبداللہ جن کو ریاستی عوام کو گمراہ کرنے کیلئے 30اکتوبر1947ء کو کشمیر کا ’’ناظم اعلیٰ‘‘ مقرر کیا گیا اور جن کی وجہ سے ہندوستانی فوج کے قدم جموں وکشمیر کی سرزمین پر ٹکے اور کشمیر پر بھارتی تلسط کی راہ ہموار ہوئی نے ابتدائی سالوں میں ہی برتے جانے والے مذہبی امتیازی سلوک کی روداد ’’آتش چنار‘‘ میں بیان کی ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ان کے علم میں وزارت داخلہ کا وہ خفیہ سرکلر آیا جس میں بھرتی کرنے والے افسروں کو ہدایت کی گئی تھی کہ مسلمانوں کو فوج میں بھرتی نہ کریں۔

کشمیری ملیشیا کی تنظیم جدید ہوئی تو شیخ عبداللہ نے فوج کے کمانڈر انچیف سے شکایت کی کہ ضلع لداغ کی ملیشیا میں کارگل کے مسلمانوں کو بھرتی نہیں کیا جا رہا ہے۔ شیخ عبداللہ کے بقول معاملہ محکمہ دفاع تک ہی محدود نہ تھا بلکہ آوے کا آوے بگڑا ہوا تھا۔ تمام مرکزی محکمہ جات اس چھوت چھات کی آماجگاہ بن چکے تھے۔ یہ ہندوستانی سیکولرازم کی ایک ہلکی سی تصویر ہے۔ اگر مسلمانوں کو لبھانے کی کوشش کی جاتی تو ممکن ہے کشمیر میں آج صورتحال مختلف ہوتی مگر وادی کشمیر میں حالات یونہی تو نہیں بگڑے۔ ہندوستانی یونین کی واحد مسلمان ریاست کو زور اور جبر سے مطیع رکھنے کی کوشش کی گئی۔ وہ کشمیر جس کے بارے میں پنڈت کلہن نے ’’راج ترنگنی‘‘ میں لکھا کہ کشمیر کو روحانی طاقت کے بل بوتے پر تو فتح کیا جاسکتا ہے لیکن سامان جنگ کی قوت سے نہیں۔ وہ دھرتی جس کے بارے میں علامہ اقبالؒ کا مشاہدہ بروئے کار آیا تو انہوں نے اسے اشعار کے قالب میں یوں ڈالا۔

جس خاک کے ضمیر میں ہو آتش چنار

ممکن نہیں کہ سرد ہو وہ خاک ارجمند

آج اس شیخ عبداللہ کا پوتا عمر فاروق عبداللہ بھی کہتا ہے کہ ’’ہمیں دھوکا دیا گیا ہے‘‘ کہ جس نے گاندھی جی کو کشمیر میں یہ کہہ کر فوج بھیجنے پر رضامند کیا کہ کشمیر کی لڑائی ’’زمین کے حصول کیلئے نہیں بلکہ یہ آدرشوں کی لڑائی ہے‘‘۔ آج وہ آدرش کہاں ہیں؟ جواہر لال نہرو اور تمام کانگریسی قیادت کا وعدہ تھا کہ کشمیر میں امن بحال ہوتے ہی کشمیریوں کو استصواب رائے کا حق دیا جائے گا۔

آج 72برس گزرنے کے بعد بھی کشمیری اس وعدے کی تکمیل کے منتظر ہیں۔ مہاراجہ کشمیر نے الحاق ہندوستان کی درخواست کی تو لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے ہندوستان کے گورنر جنرل کی حیثیت سے یہ الحاق اس شرط پر منظور کیا کہ کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق الحاق کا فیصلہ کیا جائے گا۔ یہ آزادی ہند ایکٹ کا طے شدہ بنیادی اصول تھا مگر کشمیر کے معاملے میں اس اصول کی صریحاً خلاف ورزی کی گئی۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس اصول کے پیش نظر 13اگست 1948ء اور 5جنوری1949ء کی قراردادوں میں کشمیریوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کیا اور استصواب رائے کی بات کی۔ کانگریسی رہنما لیکن اول دن سے بدنیت تھے چنانچہ تاریخ کے اوراق بدنیتی پر مبنی ان کے فیصلوں سے بھرے پڑے ہیں۔ استصواب رائے کی بجائے 1952ء کا معاہدہ دہلی‘ اس معاہدے کی بنیاد پر 1954ء کا آئینی حکم نامہ اور اس حکم نامے کی بنیاد پر آئین میں آرٹیکل370 کے تحت کشمیر کی نام نہاد خودمختار حیثیت کے ڈرامہ سمیت سب اقدامات صریحاً بدنیتی پر مبنی تھے۔ آج مودی کے ہندوستان سے خودمختار حیثیت کے اس نام نہاد ڈرامے کا بھی خاتمہ ہوگیا ہے کیونکہ آرٹیکل370 کی منسوخی سے جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرکے اسے باضابطہ ہندوستان میں ضم کرنے کی مذموم کوشش کی گئی جو انشاء اللہ ناکامی سے دوچار ہوگی اور ہمیں خوشی ہے کہ 14اگست 1947ء کی فیصلہ کن گھڑی میں جس کشمیری قیادت کو بانیان پاکستان کا نظریہ سمجھ نہیں آیا تھا ان کی نسلوں کو آج دوقومی نظرئیے کی افادیت سمجھ آگئی ہے کہ یہی نظریہ مسلمانان ہند کی بقا‘ سلامتی‘ فلاح اور خوشحالی کا ضامن بنا۔ کشمیر کے ہمارے مسلمان بہن بھائی بھارتی جبر واستبداد کا نشانہ بنتے ہیں تو ہمیں تکلیف ہوتی ہے کیونکہ ہمارا ان کیساتھ جسد واحد کا رشتہ ہے۔ ’’المسلمون کالجسد الواحد‘‘ کے تعلق کے ناطے ہماری جان اور ہمارا مال کشمیر کی تحریک آزادی پر نچھاور ہوتا رہا ہے اور آج بھی اپنے یوم آزادی کے دن ہم عہد کرتے ہیں کہ کشمیر کی آزادی اور اس کے الحاق پاکستان تک کبھی چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ کشمیر ہمارے ایمان کا حصہ ہے اور تقسیم برصغیر کا نامکمل ایجنڈا ہے۔ اس ایجنڈے کی تکمیل کشمیر کا پاکستان سے الحاق ہے۔

کشمیر بنے گا پاکستان، اس پار بھی‘ اس پار بھی

متعلقہ خبریں