Daily Mashriq

جنگوں کے معیشت پر منفی اثرات

جنگوں کے معیشت پر منفی اثرات

امریکہ میں پاکستان کے سفیر اسد مجید نے لائن آف کنٹرول پر پاک بھارت کشیدگی کے پیش نظر عندیہ دیا ہے کہ اگر صورتحال یہی رہی تو مجبوراً پاکستان کو افغان سرحد سے فوج بھارتی سرحد منتقل کرنی پڑے گی۔ اگرچہ پاکستان نے اب تک بہت تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کیا ہے لیکن ہندوستان کی جارحانہ پالیسی سے دونوں ممالک پر جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ دونوں ممالک ایٹمی طاقت ہیں اور کسی جنگ کی صورت میں جو تباہی پھیلے گی اسے تصور کی آنکھ سے بھی نہیں دیکھا جاسکتا، جنگ کی صورت میں انسان اور ماحول کی تباہی لازم وملزوم ہے۔ اس خطے سے شاید انسان اور حیوان کا وجود ہی مٹ جائے۔ اس وقت موسمیاتی تغیر جس طرح کرۂ ارض کی تباہی کے درپے ہیں اور پاکستان جس طرح اس خطرے سے دوچار ممالک میں سرفہرست ہے اور ہندوستان کے عوام جس غربت اور بدحالی سے دوچار ہیں، اسے دیکھتے ہوئے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ دونوں اچھے پڑوسیوں کی طرح ہاتھ میں ہاتھ دئیے غربت، بدحالی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نبردآزما ہوتے لیکن ہو اس کے برعکس رہا ہے۔ کسی بڑی یا چھوٹی جنگ کا خمیازہ دونوں طرف کے عوام مزید بدحالی، غربت اور موسمیاتی خطرات کی صورت میں بھگتیں گے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ ماضی قریب کی جنگوں میں انسانیت اور قدرتی ماحول کو کیا کیا نقصانات پہنچتے رہے ہیں۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ21ویں صدی میں جنگوں کا مقصد سیاسی بالادستی نہیں بلکہ صرف اور صرف دوسرے ممالک کے وسائل پر تصرف حاصل کرنا ہے۔ یہ وسائل زرخیز زمینوں کی صورت ہوں یا تیل اور پانی کی صورت۔ ماضی قریب اور موجود میں تمام جنگیں وسائل کے حصول کیلئے ہوئی تھیں اور آئندہ بھی ہوسکتی ہیں۔ بڑے ممالک چھوٹے ممالک کو ترنوالہ سمجھ کر نگل لینا چاہتے ہیں۔ عسکری ماہرین کے مطابق اکتوبر1999میں امریکا کی تمام تر توجہ وسط ایشیا پر مرکوز تھی۔ عام لوگ اسے خطے میں روس کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ کا ردعمل سمجھتے ہیں، لیکن درحقیقت یہ ان تیل وگیس کے ذخائر کی کشش تھی جو بحیرہ خزر اور اس کے اطراف میں موجود ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ سب سے زیادہ تیل کے ذخائر آذربائیجان میں ہیں جن کا اندازہ 3.7ملین بیرل لگایا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ قازقستان، ترکمانستان اور ازبکستان میں بھی ذخائر موجود ہیں۔ وسائل کے اسی تناظر میں عرب اسرائیل جنگ کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اس جھگڑے کی گہرائی میں تیل کیساتھ ساتھ پانی بھی موجیں مارتا نظر آئے گا۔

نہرسوئز پر اجارہ داری کیلئے مصر اور اسرائیل، فرانس، برطانیہ برسرپیکار رہے اور یہ تنازعہ ہزارہا افراد کی جان لیکر رہا۔ چیچنیا کی جنگ کے دوران جو قتل وغارت گری ہوئی امریکا اسے روس کا اندرونی معاملہ قرار دیکر خاموش تماشائی بنا رہا لیکن جب امریکا نے افغانستان میں کشت وخون کا بازار گرم کیا تو روس نے امریکا کا بھرپور ساتھ دیا۔ یہ مسلم ممالک کو تباہ کرنے اور ان کے وسائل پر تصرف حاصل کرنے کی کوششوں کا تسلسل ہے۔ اگر ہم انسانی تاریخ کے 3000سالوں پر نظر دوڑائیں تو صرف300سال ایسے ملیں گے جن میں انسانوں نے جنگ سے شوق نہیں فرمایا اور ان تین ہزار سالوں میں سب سے خطرناک بیسویں صدی تھی جس نے انسان وحیوان سمیت ماحول کو بری طرح سے متاثر کیا۔ اسی صدی میں انسان نے ایٹم بم کا تجربہ کیا اور قیامت تک کیلئے اپنے اعمال میں سیاہ کاری لکھوالی۔ ایک رپورٹ کے مطابق ایک ہیوی بم گرانے سے وہاں کا درجہ حرارت3ہزار سینٹی گریڈ ہو جاتا ہے جس سے نہ صرف اطراف کا تنوع تباہ وبرباد ہوجاتا ہے بلکہ وہاں کی زرخیز مٹی بھی تباہ ہوجاتی ہے، جسے دوبارہ زرخیز ہونے میں سینکڑوں اور بعض اوقات ہزار سال سے زائد کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق عراق اور پھر افغانستان کی جنگ کے نتیجے میں ہونے والی ماحولیاتی تباہی صرف ان دو ملکوں تک محدود نہیں بلکہ اس کے نقصانات کا دائرہ پڑوسی ممالک پاکستان، ایران، قراقرم اور ہمالیہ کے پہاڑوں سے لیکر جنوبی ایشیا میں بنگلادیش تک پھیلا ہوا ہے۔ افغانستان میں امریکا کی کارپٹ بمباری کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ کارپٹ بمباری سے مراد انتہائی اعلیٰ قوت کے حامل ایسے روایتی اور بغیر گائیڈ گولے برسانا ہے جن کا بنیادی مقصد ایک تا ڈیڑھ کلومیٹر چوڑے اور14 سے18کلومیٹر لمبے رقبے پر ہر چیز کو تہس نہس کر دینا ہوتا ہے، جس سے لامحالہ انسانی جانوں کیساتھ ساتھ ماحولیاتی نقصانات بھی وسیع پیمانے پر ہوتے ہیں۔ اس بمباری سے دھوئیں اور گرد کے پہاڑ بن جاتے ہیں۔ گرد کا بڑا حصہ تو کچھ دیر بعد بیٹھ جاتا ہے لیکن باریک گرد اور دھواں کافی عرصے تک فضا میں رہنے کے بعد ہواؤں کے ذریعے دوردراز علاقوں میں جاپہنچتا ہے۔ اس بمباری سے زمین کی اتھاہ گہرائیوں میں واقع ارضیاتی پرتوں میں تبدیلی سے تیل کی موجودگی والے علاقے متاثر ہوسکتے ہیں کیونکہ ان بم زدہ علاقوں کی کیمیائی ساخت میں تبدیلی ہوچکی ہے۔ عالمی طاقتیں جنگوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات سے باخبر ہونے کے باوجود خاموش تماشائی بنی رہتی ہیں۔ ہمارے ہاں جذباتی ٹولہ مسلسل جنگ کی باتیں کر رہا ہے، سوشل میڈیا کے ذریعے حکومت پر دباؤ ڈال کر اشتعال انگیزی کی کوشش کر رہا ہے، ایسے لوگوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئے اور سوچنا چاہئے کہ کیا مذاکرات کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں اورکیا جنگیں ہی کشیدگی کے خاتمے کا واحد حل ہیں؟

متعلقہ خبریں