Daily Mashriq

اب یہ سب آسان نہیں

اب یہ سب آسان نہیں

لکھنے کا وقت لد گیا۔ آہ زاریاں سب ہوا میں تحلیل ہوگئیں کیونکہ کسی پر ان کا کوئی اثر نہ ہوا۔ اب عمل کا وقت ہے، وہ اپنی چال چل چکے اور ان کی اس چال کی پہلے بھی کئی بار آواز فضاؤں نے سنی، صرف ہم نے کبھی یقین نہیں کیا کہ وہ معاملات کو کبھی اس قدر اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کریں گے۔ وہ ظلم ڈھاتے رہے اور ہم خاموش رہے کہ ظلم تو ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے لیکن ظلم نہ مٹ سکا اور ہمارے مٹا دینے کی تمام تیاریاں مکمل کرلی گئیں۔ اگر آنسو بچھو بن سکتے تو شاید بھارت میں بی جے پی کا ماننے والا ایک بھی شخص باقی نہ رہتا۔ کشمیر میں اتنا خون اور اتنے آنسو بہے کہ اس سب کا حساب ممکن نہیں۔ اگر آہوں سے بھالے بن سکتے تو بھارت میں راشٹریہ سیوک سنگ سے ذرا رابطہ رکھنے والوں کے بھی سینے چھلنی ہوگئے ہوتے لیکن ایسا ہوتا ہی نہیں، سو آج بھی بھارت میں مودی سرکار کی حکومت ہے اور وہ اپنے ہی آئین کے آرٹیکل370 کو ایک صدارتی حکم نامے سے ختم کر چکے ہیں۔ اب بھارتی مقبوضہ کشمیر جو پہلے بھی بھارتی آئین کے مطابق بھارت کا حصہ تھا اس کا خصوصی درجہ ختم ہو چکا یعنی پہلے کشمیر کو اس آرٹیکل370 کے تحت اپنا آئین بنانے‘ اپنا ایک علیحدہ جھنڈا رکھنے اور لہرانے اور اپنے داخلی انتظامی امور کو چلانے کا نظام بنانے کی اجازت تھی۔ اب یہ سب ختم ہوچکا اور اسی آرٹیکل کو اگر بھارتی آئین کے آرٹیکل 35(A) کیساتھ ملا کر پڑھا جاتا تو کشمیر میں رہنے والوں کے علیحدہ شہریت کے قوانین بھی تھے۔ ان کے بنیادی حقوق اور ان کے جائیداد کے ملکیتی قوانین بھی الگ تھے۔ انہی قوانین کے باعث کشمیر کی ریاست کے مستقل شہریوں کے علاوہ اس علاقے میں کوئی شخص زمین نہ خرید سکتا تھا۔ یہی وہ قانون تھا جس کے تسلسل میں Daughter's Billبھی پیش کیا گیا تھا جس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ اگر کوئی کشمیری شہریت والی خاتون کسی باہر کے آدمی سے شادی کرے یعنی اس شخص کی بنیادی شہریت کشمیر کی نہ ہو تو وہ خاتون کشمیر میں شہریت سے وابستہ خصوصی درجہ کھودے گی۔ اس بل کی بہت مخالفت کی گئی اور اسے کشمیری خواتین کے بنیادی حقوق کے منافی سمجھا گیا لیکن اس بل کی حمایت کرنے والوں کا مقصد بالکل واضح تھا۔ وہ کشمیر میں غیرکشمیریوں کی مستقل آمد‘ سکونت اور موجودگی کا راستہ روکنا چاہتے تھے جس میں بہرحال کوئی حرج نہ تھا‘ لیکن اب یہ معاملہ ایک انتہائی پریشان کن اور اندوہناک رخ اختیار کرچکا ہے۔ 5اگست 2019ء کو بھارتی صدر رام ناتھ کووند نے ایک صدارتی صدر سے 1954ء کے معاملات اور فیصلوں کو ختم کر دیا۔ 6اگست کو بھارتی آئین کے آرٹیکل370 کو غیرفعال قرار دیدیا گیا چنانچہ اب بھارتی مقبوضہ کشمیر نہ صرف باقاعدہ بھارت کی ایک ریاست بن چکا ہے بلکہ اب بھارت کے باشندوں کیلئے کھول دیا گیا ہے۔ اب بھارت کے لوگ یہاں زمین خرید سکتے ہیں‘ شادی کے نتیجے میں بھی انہیں کسی قسم کا نقصان کا احتمال نہیں۔ اب کشمیر کو نہ اپنا علیحدہ جھنڈا رکھنے کی اجازت ہوگی نہ ہی اپنا آئین بنانے کی آزادی ہوگی۔ اب بھارت کشمیر کو اپنا ایک صوبہ قرار دے چکا ہے۔

اسی صدارتی حکم کے زیراثر جموں اور کشمیر کی تنظیم نو ایکٹ (Jammu & Kashmir Reorganisation Act) کو 31اکتوبر2019ء تک مکمل کیا جانا ہے جس کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر کے علاقے کو دو یونینوں یا صوبوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ ایک علاقے کو جموں کشمیر کہا جائے گا جبکہ دوسرا علاقہ لداخ کا ہوگا۔ کشمیریوں کی نسل کشی کا باقاعدہ آغاز اسی سے ہوگا۔ بھارت کی جانب سے کشمیر میں مظالم کی داستان کا یہ سب سے تاریک باب ہے۔ مودی سرکار نے کشمیر میں مسلسل ظلم وستم کا بازار گرم کر رکھا ہے اور ان مظالم کی زد سے بچے اور عورتیں بھی محفوظ نہیں لیکن اب تک کشمیر کو کہیں سے اصل مدد نہیں ملی۔ کشمیر میں ہوئے مظالم کو تصویروں کی بکری کیلئے تو بہت استعمال کیا گیا لیکن دنیا بالعموم مسلمان ممالک اور پاکستان نے بالخصوص ان کے دکھوں کے مداوا کیلئے کچھ نہیں کیا۔ پاکستان میں بھی کشمیر کو اب کچھ عرصے سے معمول کی بات تصور کیا جانے لگا تھا۔ وہی معمول کا کشمیر ڈے، وہی معمول کی تقاریر اور باتیں‘ وہی معمول کا پانچ فروری۔

اب دشمن نے ایک بار پھر ہمیں للکارا ہے‘ ہمیں جھنجھوڑا ہے کہ ہمارے بھائی بہت تکلیف میں ہیں‘ ہمیں ان کیلئے کچھ کرنا ہوگا۔ اتفاقاً اس وقت ایک غیرت مند حکومت بھی ہے جو کشمیر کے حل کے حوالے سے سنجیدہ بھی دکھائی دیتی ہے۔ تبھی تو پاکستان کے احتجاج پر‘ پریشانی کے اظہار پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس محض کشمیر کے حوالے سے بلایا گیا ہے۔ پچاس سالوں بعد یہ پہلی بار ہو رہا ہے۔ تبھی پاکستان میں اتنے بڑے پیمانے پر لوگ احتجاج کر رہے ہیں۔ گورنر پنجاب خود ایک ریلی کو لیکر نکلے ہیں‘ تبھی دوسرے ممالک پاکستان کے موقف کی‘ کشمیر کے موقف کی حمایت کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ روس نے بھی پاکستان کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر بھارت کا داخلی معاملہ نہیں۔ تبھی پاکستان جنگ کاحمایتی نہ ہوتے ہوئے بھی جنگ کیلئے تیار ہونے کی شنید دے رہا ہے۔ یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں لیکن ہم جاگے ہوئے دکھائی دیتے ہیں‘ اسی لئے بھارت پریشان ہے اور ابھی یہ اس کی پریشانی کا آغاز ہے‘ اس حوالے سے کچھ باتیں کل ہوں گی۔

متعلقہ خبریں