Daily Mashriq

شب جائے کہ من بودم

شب جائے کہ من بودم

رمضان المبارک1363ہجری کی ستائیسویں رات تھی، رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق رات، ایسی رات، جب اُمت مسلمہ کی ہدایت اور رہنمائی کیلئے کلام مجید فرقان حمید کا نزول ہوا تھا، ایسی رات جس پر شب قدر ہونے کا گمان کیا جاسکتا ہے،13اور14اگست1947ء کی درمیانی رات گھڑی کی ٹک ٹک کرتی سوئیوں کی آواز کیساتھ لمحہ بہ لمحہ آگے بڑھ رہی تھی، گھڑی کی سوئیوں نے جیسے ہی رات کے بارہ بجائے، آل انڈیا ریڈیو لاہور سے ’’یہ ریڈیو پاکستان لاہور ہے‘‘ کی آواز اُبھری، جسے سن کر ’’پاکستان بنانے والو، پاکستان مبارک ہو‘‘ کے نعرے لگاتے لوگ گلیوں اور بازاروں میں نکل آئے۔ ہم فرنگی راج کے کیلنڈر کی تقلید کرنے والوں کے ہاں ہر سال یہ رات13اور14اگست کی درمیانی رات بن کر آتی ہے، ہر سال گھڑی کی سوئیاں رات کے بارہ بجنے کا اعلان کرتی ہیں، لیکن خواب غفلت میں پڑے قدر ناشناس معاشرے کے لوگوں کے سر سے پانی کی طرح گزر جاتی ہے اور کسی کو کانوں کان تک خبر نہیں ہو پاتی، اسے ہم اپنی خوش بختی کہہ لیں کہ

تھا یقیں کہ آئے گی یہ راتاں کبھی

تم سے ہو وے گی ملاقاتاں کبھی

کے مصداق جب ہم کشمیر کے مظلوم عوام کیساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کا72واں جشن آزادی منانے لگے تو ہم نے اس رات کو بھی شایان شان طریقہ سے منانے کی سعادت حاصل کر لی۔ جسے ہم شب قیام پاکستان کے جشن سے یاد کرسکتے ہیں۔13اور 14 اگست 2019ء کو شب قیام پاکستان کا یہ جشن صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ کی حدود میں زیرتعمیر وترقی، واپڈا ٹاؤن کی نودمیدہ بستی کے رہائشیوں کی آرگنائزیشن نے نہایت طمطراق سے منایا، راقم السطور کو شب جشن آزادی کی اس تقریب میں شرکت کی دعوت اسلئے دی گئی تھی کہ وہ ضلع نوشہرہ اور ضلع پشاور کے سنگم پر واقع اس ٹاؤن کے رہائشیوں میں سے ایک تھا، عیدالاضحی کے دوسرے روز راقم السطور سنت ابراہیمی ادا کرنے میں مگن تھا کہ ایسے میں اسے جشن آزادی پاکستان کی تقریب میں شمولیت کی دعوت ملی۔ اس تقریب کو رات کے9بجے شروع ہونا تھا اور رات گئے تک جاری رہنا تھا۔ تقریب کی پہلی نشست میں مقررین نے جشن آزادی پاکستان کی اس مبارک رات کی اہمیت کو اُجاگر کرنا تھا جو پاکستان کی آزادی کا پیغام لیکر تاریخ کے اوراق پر سنہری حروف سے آزاد مملکت پاکستان کے وجود میں آنے کی یادداشت درج کرنے کیلئے معرض وجود میں آئی تھی۔ تقریب کے دوسرے حصے میں رات کے ٹھیک بارہ بجے آتش بازی کا شاندار مظاہرہ کرنا مقصود تھا جبکہ آتش بازی کے مظاہرہ کے فوراً بعد گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر سوار محبان پاکستان کی سبز ہلالی پرچم لہراتی ریلی نکالی جانی تھی۔ ننھے منے نونہالوں کے سروں پر پاکستانی پرچم چھاپ ٹوپیاں تھیں اور ان کے معصوم چہروں پر جشن آزادی پاکستان کی خوشیاں ان کی بے پناہ سج دھج میں اضافہ کر رہی تھیں۔ ہم جب پہنچے تو ڈی جے سسٹم پر ملی نغمے گونج رہے تھے اور پاکستان کے مستقبل کے ننھے منے امین، ان نغموں کی دھن پر نہ صرف خود جھوم رہے تھے بلکہ اپنے ہاتھوں میں تھامے پاکستان اور کشمیر کے جھنڈے بھی بڑے جوش اور جذبے بھرے انداز سے لہرا رہے تھے۔ ان میں سے بہتوں کے ہاتھوں پاکستانی جھنڈے کے سے سبز اور سفید رنگوں کے بھونپوں، باجے یا بگل بھی تھے جو ان کی پھونک کے زیراثر اس قدر شور مچاتے کہ وہ ڈی جے سسٹم کی موسیقی پر غالب آجاتا اور کبھی یوں ہوتا کہ موسیقی کا شور بچوں کے ہاتھوں میں تھامے بھونپوؤں سے نکلنے والے شور پر غالب ہو جاتا۔ مگر اس سارے شورشرابے پر ’غالب علیٰ کل غالب‘‘ بن کر فضاؤں میں گونجنے والی شاہد ولی خٹک کی جوشیلی آواز تھی جو ہاتھ میں مائیک تھامے چیخ چیخ کر تقریب میں شمولیت کیلئے آنے والے مہمانوں کو خوش آمدید کہہ رہے تھے۔ وہ اس تقریب کا مرکزی کردار تھے اور بڑے جوش اور جذبے سے تقریب کے سٹیج سیکرٹری کے فرائض نبھا رہے تھے۔ انہوں نے تلاوت کلام مجید فرقان حمید کی سعادت کے بعد افواج پاکستان کے ریٹائرڈ کرنل نور کو خطاب کرنے کی دعوت دی جن کے بعد افواج پاکستان کے گبرو جوان میجر عمر حاضرین جلسہ سے مخاطب ہوئے۔ تقریب کے مقررین میں راقم السطور بھی شامل تھا۔ رکن صوبائی اسمبلی محترمہ فلک نیاز سومی پاکستان کے سبز ہلالی پرچم کی خلعت زیب تن کئے مسند صدارت پر تشریف رکھتی تھیں۔ جن کی تقریر کے بعد تقریب کے مہمان خصوصی ناظم اعلیٰ ضلع نوشہرہ اشفاق احمد وطن سے محبتوں کا قرض چکانے آئے اور ان کے ارشادات کے بعد، رات کے بارہ بجتے ہی جملہ حاضرین اپنی اپنی جگہ کھڑے ہوگئے اور اس رات کی ساری فضا آتش بازی کے رنگ اور نور کی برسات سے جمگانے لگی۔ آتش بازی کے عالی شان مظاہرے کے فوراً بعد یہ وجدآفریں سماں سبز ہلالی پرچم موٹر گاڑیوں، موٹر سائیکلوں کے سواروں اور پیدل چلنے والوں کے پُرجوش جلوس میں ڈھل گیا جس کی قیادت ایم پی اے فلک نیاز سومی کر رہی تھیں۔

13 اور14 اگست کی درمیانی رات ہر سال آتی ہے لیکن اب کے جو آئی تو اپنے ساتھ کشمیر بنے گا پاکستان کا دل دوز اور فلک شگاف نعرہ بھی لائی جس کو سن کر کہنا پڑا کہ

ہم امن چاہتے ہیں مگر ظلم کے خلاف

گر جنگ لازمی ہے تو پھر جنگ ہی سہی

متعلقہ خبریں