Daily Mashriq

مسئلہ کشمیر اور زبان خلق

مسئلہ کشمیر اور زبان خلق

کشمیر کو مسئلہ بنے ستر بہتر سال ہوگئے ۔ اچھا بھلا خوبصورت ترین علاقہ اور سیدھے سادے لوگوں کا مسکن، تقسیم ہند کیساتھ ہی آگ وخون کی نذر ہوگیا۔ کیوں؟ اس لئے کہ ہندو قیادت (پنڈت نہرو) کی کہہ مکرنیاں پاکستانی قیادت سمجھ نہ سکی اور جو سمجھنے والے اور ہندو قیادت اور سیاسی رہنماؤں کو سر تاپا ایک ایک ذرہ تک سمجھنے والے تھے وہ رخصت ہو چکے تھے۔ قائداعظم محمد علی جناح زندہ ہوتے تو کیا کشمیر مسئلہ بنتا؟ کبھی نہیں! وہ دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے دوٹوک فیصلہ کر چکے ہوتے۔ ایک زمانے تک نہرو مسلم اتحاد کے سفیر کہلانے والے محمد علی جناح کس طرح ہندوؤں کی اصلیت جان کر واپس لندن سدھارے، علامہ محمد اقبال کس طرح ہندوستان کی منافقانہ اور انگریزوں کی پٹھو سیاستدانوں سے بددل ہوئے، محمد علی جناح کو دوبارہ ہندوستان آنے اور مسلمانان ہند کی قیادت کو سنبھالنے پر آمادہ کیا۔ علامہ کو معلوم تھا کہ اُس زمانے میں نوجوان بیرسٹر محمدعلی جناح کے سوا انگریزوں اور ہندوؤں کیساتھ اُن کی زبان واصطلاحات میں بات کرنے کی صلاحیت کا حامل کوئی اور نہیں۔ آپ کے بعد لیاقت علی خان نے کشمیر پر ہندوستان کو جس کیفیت اور کمیت کا مُکا دکھایا تھا وہ آج بھی تاریخ میں محفوظ ہے لیکن شہید ملت کے بعد ان چراغوں میں تیل ہی نہیں رہا جو وادی کشمیر کے برف پوش پہاڑوں میں حدت پیدا کرتا۔ پاکستان میں سیاست اتنی تیز ہوگئی کہ زبانی جمع خرچ میں تو مسئلہ کشمیر چلتا رہا لیکن حقیقت یہی ہے کہ کشمیر پر دو تین جنگین لڑنے کے باوجود ہم (ہماری حکومتوں) نے کبھی بھی کشمیر کے حوالے سے کوئی ٹھوس حکمت عملی، منصوبہ بندی اور خارجہ پالیسی ایسی نہیں بنائی جو عالمی برادری کو اسی طرح مجبور کرے جس طرح ایسٹ تیمور اور جنوبی سوڈان وغیرہ نے اقوام متحدہ اور عالمی قوتوں کو اس حد تک متاثر کیا کہ اُن کو اچھے بھلے ملکوں سے الگ کروا کر آزاد ممالک کی صف میں لاکھڑا کیا۔ مانتا ہوں کہ اقوام متحدہ میں ویٹو کے حامل سپرپاور سب کے سب غیر مسلم ہیں وہ مسلمانوں کے مسائل پر اُس طرح کا مؤقف اور کردار نہیں اپناتے جس طرح غیرمسلم اقوام کے حوالے سے اپناتے ہیں لیکن ہم نے کم ازکم او آئی سی کی سطح پر مسلمان ممالک کو تو اپنا ہمنوا بنا لیا ہوتا۔ یہ سب ہماری نالائقیاں، کوتاہیاں اور عیاشیاں ہیں جس کا خمیازہ گزشتہ بہتر برسوں سے کشمیری بھگت رہے ہیں۔ یہی حال اہل فلسطین کا ہے، فلسطین میں جب اسرائیل کا قیام برطانوی سامراج کی ملی بھگت اور سازش کے سے جیمس بالفور کے اعلان کے ذریعے ہوگیا تو دنیا بھر سے امیر یہودیوں نے فلسطین کی بنجر زمینوں کو فلسطینیوں سے خریدنا شروع کیا۔ اُس وقت فلسطین کے اندر ایسے مفت خورے موجود تھے اور اب بھی بہت سے ہیں کہ بنجر زمینوں کے بدلے برطانوی پاؤنڈ کو مال غنیمت سمجھ کر کھانے لگے تھے اور یوں دنیا بھر سے صاحب ثروت یہودیوں نے فلسطین کی سرزمین پر ملکیت کے حقوق حاصل کئے اور آج تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ ورنہ اسرائیل کے قیام کے وقت اس کا کل رقبہ اور آج کا رقبہ ملاحظہ کیجئے اس میں بیسیوں گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ اور اس کا ایک بڑا حصہ وہ بھی ہے جو عرب تین جنگوں میں ہار چکے ہیں اور اب حال یہ ہے کہ بیت المقدس کو امریکہ کے صدر نے اسرائیل کے دارالخلافہ کے طور پر تسلیم کر لیا ہے اور شام کے علاقے جولان (گولان) کی پہاڑیوں پر اسرائیل کا قبضہ تسلیم کیا جا چکا ہے۔

نریندر مودی کو بھی آرٹیکل370ختم کرنے اور جموں وسرینگر کو ہندوستان کا صوبہ ڈیکلیئر کرنے کا مشورہ نیتن یاہو نے دیا ہے کیونکہ یہ دونوں ذہن وفکر اور پالیسیوں کے حوالے سے جنم جنم کے ساتھی ہیں اور اوپر سے ان کو تڑکا ہٹلر کا بھی لگا ہے اگرچہ یہودی خود ہٹلر کے ہاتھوں بدترین مظالم سے گزرے ہیں لیکن نیتن یاہو اور مودی کے ہاتھ جس طرح بے گناہ فلسطینیوں اور کشمیریوں کے خون سے رنگے ہیں صاف پتہ چلتا ہے کہ ہٹلر کی روح ان میں حلول کر گئی ہے۔اس وقت مقبوضہ جموں وکشمیر کا جو حال ہے اُس حوالے سے پاکستان میں سخت بے چینی پھیلی ہوئی ہے۔ عمران خان کے اخلاص اور مودی کو ٹھیک ٹھاک پیغام دینے میں کوئی شک وشبہ نہیں لیکن پاکستان کے اندر سیاست جاری ہے۔

اپوزیشن کی سیاسی جماعتیں عمران خان کے بغض میں وہ کردار ادا کرنے کیلئے تیار نظر نہیں آئیں جس کی ضرورت ہے۔ سعودی عرب، امارات وغیرہ کو ہندوستان میں اپنی سرمایہ کاری وغیرہ کی فکر ہے، عالمی طاقتیں سوا ارب بھارتی مارکیٹ کیلئے للچائے ہوئے ہیں، چین کو اپنی پڑی ہے، لے دے کر ایک ہی باوفا باصفا اور مرد مؤمن طیب اردوان ہی ہے جو کشمیریوں کیساتھ کھڑا ہے۔ سیاسی، سفارتی اور اخلاقی سطح کی مالا ہم بہتر سال سے جپ رہے ہیں۔ جہاد کا راستہ 1948-49ء میں ممکن اور کارگر تھا وہ ہم کھو چکے ہیں۔ لہٰذا ایک ہی راستہ باقی ہے کہ مسلمانان عالم (عوام، حکومتیں نہیں) کو مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ضروری معلومات بہم پہنچائی جائیں تاکہ اگر کہیں جہاد کا راستہ دوبارہ سامنے آیا تو عالم اسلام سے اُسی طرح مجاہدین اُمڈ کر آسکیں جس طرح روس کیخلاف آئے تھے اور یہی شاید غزوہ ہند کی ابتدا ہو۔ واللہ اعلم

متعلقہ خبریں