Daily Mashriq

لیوائز، رینگلر برانڈ کا خواتین کی عزت کے تحفظ کے لیے معاہدہ

لیوائز، رینگلر برانڈ کا خواتین کی عزت کے تحفظ کے لیے معاہدہ

گارمینٹس کے حوالے سے امریکا کے 3 معروف برانڈز نے ایک تحقیق میں خواتین کو نوکری پر رہنے کے لیے جنسی روابط قائم کرنے کے انکشافات کے بعد متاثرہ جینز بنانے والے لیسوتھو فیکٹریز میں جنسی استحصال کے خلاف کریک ڈاؤن پر زور دیا ہے۔

لیوائی اسٹراس اینڈ کمپنی، کونتور برانڈز جو رینگلر اور لی جینز کی بھی مالک ہیں اور دی چلڈرنز پلیس نے جنوبی افریقہ کے چھوٹے سے ملک میں 5 فیکٹریاں، جہاں 10 ہزار خواتین ان کے لیے کپڑے تیار کرتی ہیں، سے جنسی ہراسانی کے خاتمے کے لیے معاہدہ کرلیا۔

ورکر رائٹز کنزورشیم (ڈبلیو آر سی) کی سینئر پروگرام ڈائریکٹر رولا ابی مورچڈ کا کہنا تھا کہ 'یہ معاہدے دیگر کپڑوں کا کاروبار کرنے والے اداروں کے لیے ہراساں اور تشدد کے مسائل کو حل کرنے کے لیے مثالی ہیں'۔

جنوبی افریقہ میں گارمنٹس کی پیداوار میں گزشتہ 3 دہائیوں میں واضح اضافہ دیکھا گیا ہے جس سے تقریباً 40 ہزار افراد روزگار حاصل کر رہے ہیں۔

ڈبلیو آر سی کی تحقیقات کے مطابق تائیوان کی عالمی جینز بنانے والی کمپنی نیئن ہسنگ ٹیکسٹائل کی ملکیت میں امریکی برانڈز کے لیے جینز بنانے والی 3 فیکٹریوں میں خواتین کو اپنے سپروائزرز سے روزانہ جنسی روابط قائم کرنے کے لیے مجبور کیا جاتا تھا تاکہ ان کی نوکری برقرار رہے۔

اس کمپنی میں افریقی ملک میں گارمنٹ کے شعبے میں وابستہ مزدوروں کی ایک تہائی تعداد موجود ہے۔

ڈبلیو آر سی نے ایک خاتون کے حوالے سے بتایا کہ 'میرے ڈپارٹمنٹ میں تمام خواتین کے ساتھ سپر وائزر نے جنسی روابط قائم کیے ہیں، خواتین کے لیے یہ زندگی اور موت کا سوال ہے، اگر آپ نہ کریں تو آپ کو نوکری نہیں ملے گی یا آپ کے کنٹریکٹ کی تجدید نہیں کی جائے گی'۔

نیئن ہسنگ سے طے کیے گئے معاہدے کے مطابق 5 ٹریڈ یونین اور 2 خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں سمیت ایک خودمختار کمیٹی ان شکایات کو دیکھے گی اور خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرے گی۔

نیئن ہسنگ خودمختار سول سوسائٹی کے اراکین کو فیکٹریوں تک رسائی فراہم کرے گی جہاں وہ مزدوروں سے بات کریں گے اور مینیجرز سے شکایت لانے والے مزدوروں کو روکنے سے منع کریں گے۔

جینز بنانے والوں کا کہنا تھا کہ 'ہم مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے پر عزم ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہمارا ماننا ہے کہ اس معاہدے سے طویل المدتی تبدیلی آئے گی اور ان فیکٹریوں میں ایک مثبت ماحول پیدا ہوگا جو یہاں کام کرنے والے تمام لوگوں کے لیے مثبت اثر چھوڑ جائے گا'۔

متعلقہ خبریں