Daily Mashriq

دوپہر کو بہت زیادہ سونا جان لیوا بیماری کی علامت

دوپہر کو بہت زیادہ سونا جان لیوا بیماری کی علامت

وپہر کی نیند یا قیلولہ جسمانی صحت کے لیے فائدہ مند چیز اور سنت نبوی ہے تاہم اس کا دورانیہ زیادہ ہو تو یہ ایک جان لیوا مرض کی علامت بھی ہوسکتا ہے۔

جی ہاں کچھ دیر کا قیلولہ صحت کو بہت زیادہ فائدہ پہنچاتا ہے تاہم یہ دورانیہ زیادہ ہو تو یہ الزائمر امراض کے بڑھتے خطرے کی نشانی ہوسکتی ہے۔

یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق میں الزائمر امراض کا شکار ہونے پر سب سے پہلے وہ دماغی خلیات متاثر ہوتے ہیں، جو بیدار رکھنے میں مدد دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں دن بھر بہت زیادہ غنودگی طاری رہنے لگتی ہے۔

تحقیق کے مطابق ان خلیات کو ایک نقصان دہ پروٹین tau کا اجتماع نقصان پہنچاتا ہے اور اب اس دریافت کے بعد محققین کو توقع ہے کہ اس سے مریضوں کے بہتر علاج میں مدد مل سکے گی۔

عام طور پر الزائمر سے دماغ کو پہنچنے والے نقصان کے بارے میں جاننے میں کئی برس لگ جاتے ہیں کیونکہ علامات اس دوران بہت کم سامنے آتی ہیں اور جلد تشخیص نہ ہونے کی وجہ سے ادویات زیادہ اثر نہیں کرپاتیں۔

اس سے پہلے یہ واضح نہیں تھا کہ الزائمر کے مریضوں کی نیند متاثر ہونا الزائمر کا خطرہ بڑھاتا ہے یا یہ خود مرض کا نتیجہ ہوتا ہے۔

اب امریکی محققین نے شواہد کو مدنظر کھر کہا ہے کہ یہ مرض کا شکار ہونے کا تنیجہ ہوتا ہے۔

تحقیق کے مطابق الزائمر سے دماغ کے مختلف حصے متاثر ہونے سے بہت زیادہ نیند یا غنودگی طاری رہتی ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل الزائمر اینڈ ڈیمینشیا میں شائع ہوئے۔

اس سے قبل کچھ برس پہلے جاپان میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں یہ بتایا گیا تھا کہ دوپہر کو 40 منٹ سے زائد وقت تک سونا مختلف عوارض جیسے ہائی بلڈپریشر، کولیسٹرول میں اضافے، کمر کے ارگرد اضافی چربی کے اجتماع اور ہائی بلڈ شوگر کی شکل میں نکل سکتا ہے جو امراض قلب کا خطرہ بڑھانے والے عناصر ہیں۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا ہے کہ 40 منٹ سے زائد قیلولہ میٹابولک سینڈروم کا خطرہ بڑھاسکتا ہے۔

محققین کے مطابق دوپہر کی نیند دنیا بھر میں عام ہے اور یہ طبی لحاظ سے فائدہ مند بھی ہے تاہم اس کا دورانیہ زیادہ ہونا امراض قلب کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 40 منٹ سے کم کا قیلولہ بہترین ہے، اس سے زیادہ ہونے کی صورت میں امراض قلب کے خطرے میں ڈرامائی حد تک اضافہ ہوجاتا ہے۔

ڈیڑھ گھنٹے کی نیند کے نتیجے میں امراض کا خطرہ 50 فیصد تک بڑھ جاتا ہے جبکہ دن بھر تھکاوٹ الگ طاری رہتی ہے۔

اسی طرح امریکا کی مشی گن یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں 3 لاکھ سے زائد افراد کا جائزہ لے کر یہ نتیجہ نکالا گیا جو افراد دن میں ایک گھنٹے سے زیادہ دوپہر کی نیند لینے کے عادی ہوتے ہیں ان میں تھکاوٹ کا احساس بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے جس کے باعث ذیابیطس کا خطرہ 50 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

اسی طرح ایک گھنٹے سے زائد قیلولہ اور تھکاوٹ میٹابولزم کے نظام کو بھی نقصان پہنچا کر امراض قلب کے عوامی جیسے موٹاپے، ہائی بلڈ پریشر وغیرہ کا خطرہ 50 فیصد پہنچا دیتا ہے۔

تاہم تحقیق میں طویل قیلولے اور امراض کے خطرات کی وجہ کا تعین نہیں کیا جاسکا یعنی محققین یہ بتانے سے قاصر رہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔

متعلقہ خبریں