Daily Mashriq


ایوان کے تقدس کا سوال

ایوان کے تقدس کا سوال

پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے وزیر اعظم کے بیانات میں تضاد پر جمع کرائی گئی تحریک استحقاق پر سپیکر قومی اسمبلی نے رولنگ دی ہے کہ یہ معاملہ عدالت میں ہے اس لیے منظوری نہیں دی جا سکتی۔بدھ کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں سپیکر قومی اسمبلی نے قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کو پوائنٹ آف آرڈر پر بولنے کی اجازت دی۔ اسمبلی میں شور شرابا کا آغاز اس وقت ہوا جب خورشید شاہ نے اپنی تقریر کے بعد سپیکر سے تحریک استحقاق پیش کرنے کی اجازت مانگی۔ اس پر سپیکر نے کہا کہ وہ اپنے چیمبر میں پہلے ہی سے رولنگ دے چکے ہیں۔چونکہ یہ معاملہ عدالت میں ہے اس لئے اس پر بحث نہیں ہوگی۔سپیکر کی جانب سے اس سوال کے جواب پر خورشید شاہ نے کہا کہ میں نے اپنی تقریر میں تحریک استحقاق کی وجوہات بیان کی ہیں' اجازت نہ دینا زیادتی ہے۔سپیکر کی جانب سے وفاقی وزیر برائے ریلوے سعد رفیق کو جواب دینے کی اجازت پر اپوزیشن نے احتجاج کیا اور سپیکر کے ڈائس کے سامنے جمع ہو کر ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں گزشتہ روز جو کچھ ہوا اس کی ذمہ داری کسی ایک فریق پر عائد کرنا انصاف نہ ہوگا۔ اگر قرار دیا جائے کہ اس صورتحال کی تیاری طرفین کی جانب سے پہلے ہی تھی تو الزام اس لئے نہ ہوگا کہ ہر دو فریقوں کی جانب سے ایوان کی کارروائی چلانے اور کارروائی چلنے دینے میں دانستہ و نا دانستہ منصوبہ بندی کے ساتھ یا پھر اچانک اور برموقع ایسے اقدامات کئے گئے کہ ایوان مچھلی بازار کامنظر پیش کرنے لگا۔ تحریک انصاف اور مسلم لیگ(ن) کی سیاسی چپقلش اپنی جگہ لیکن اگر دونوں جماعتوں کی جانب سے اپنا اپنا لائحہ عمل اس منصوبہ بندی کے ساتھ مرتب کیا جاتا کہ ایوان کے اندر ہی معاملات پر بات کی جاتی تنقید اور جوابی تنقید کا موقع ملتا اور دیا جاتا۔ اگرچہ ایوان کی اکثریتی جماعت اس ضمن میں خود کو بری الذمہ قرار دیتی ہے لیکن جو دکھاوا ہے پس پردہ شاید ایسا نہ تھا وگرنہ سپیکر چیمبر میں اجلاس سے قبل یا اجلاس کے دوران ناخوشگوار صورتحال کے دوران وقفہ میں بات چیت کے ذریعے اس کا تدارک ممکن تھا۔ سپیکر اگر ایوان چلاتے ہوئے محرومی کے اعتراض پر اگر حزب اختلاف کی بڑی جماعت پیپلز پارٹی سمیت تحریک انصاف اور دیگر سیاسی جماعتوںکے عمائدین سے ملاقات کرکے ایوان کی کارروائی میں خلل نہ ڈالنے کی گزارش کرتے تو اس طرح کی صورتحال کی نوبت نہ آتی اور اگر اس کے باوجود ایسا ہوتا تو سپیکر پر جانبداری کا الزام نہ لگتا۔ سپیکر اگر اپنے چیمبر میں رولز دیکھ کر جس تحریک استحقاق کو عدالتی کارروائی سے متصادم ہونے کی بناء پر خلاف ضابطہ قرار دینے کی بجائے معاملے پر حزب اختلاف کے عمائدین سے بات چیت کرکے رولنگ دے دیتے تو ان پر تنقید کی نوبت نہ آتی۔ جہاں تک تحریک انصاف کی جانب سے فلور نہ دینے کی شکایت کاسوال ہے ہمارے تئیں انہوں نے ضرورت سے زائد عجلت کا مظاہرہ کیا یا پھر وہ یہ طے کرکے آئے تھے کہ انہوں نے ایوان میں اس طرح کا رویہ اختیار کرنا ہے۔ قائد حزب اختلاف کو بات کا موقع دینے کے بعد حکومتی بنچ کو فلور دینا اصولوں کی خلاف ورزی نہ تھی۔ ویسے بھی اگر دیکھا جائے تو قائد حزب اختلاف نے بطور قائدتحریک انصاف کے اعتراضات اور تنقید کو اپنی تقریر میں سمو دیا تھا۔ تحریک استحقاق پیش کرنے سمیت کوئی ایسا خاص نکتہ باقی نہیں تھا جس پر تحریک انصاف کا خواہ مخواہ بات کرنا ضروری تھا۔ سپیکر کی جانب سے وفاقی وزیر سعد رفیق کے خطاب کے بعد زیادہ سے زیادہ سپیکر ایوان کا اجلاس اگلے روز تک ملتوی کردیتا تو بھی تحریک انصاف کے پاس اگلے روز دل کھول کر ایوان میں حکومت کے لتے لینے کا موقع موجود تھا۔ بنا بریں تحریک انصاف کا ایوان میں شور شرابا کا انداز مناسب نہ تھا مگر یہ کوئی انہونی بات نہیں۔ اس طرح کے کردار کامظاہرہ مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کرتے آئے ہیں۔ بہر حال اس سے قطع نظر اگر دیکھا جائے تو پیپلز پارٹی کی جانب سے ایک مرتبہ پھر تحریک انصاف کو تنہا احتجاج کرنے کا موقع دینا اور ان کے احتجاج سے لا تعلقی کا عملی اظہار کرکے ایک مرتبہ پھر ایوان میں تحریک انصاف کے تنہا ہونے کا تاثر راسخ کردیا ہے جبکہ دیگر سیاسی جماعتوں میں سے کسی نے بھی تحریک انصاف کے احتجاج کی اخلاقی حمایت نہ کی۔ اس طرح کی صورتحال پیش آنے کی جہاں کئی پوشیدہ و ظاہری وجوہات ہیں وہاں تحریک انصاف کی ایوان کے اندر اور ایوان کے باہر سولو فلائٹ لینے کی حامل پالیسیاں ہیں جس پر قائد حزب اختلاف نے طنز بھی کیا۔ تحریک انصاف کی حکمت عملیوںکے موثر اور نتیجہ خیز نہ ہونے کا بڑا سبب وہ فیصلے ہیں جس پر خود جماعت کے اندر بھی اجماع نہیں پایا جاتا اور میڈیا میں ان کا دفاع مشکل ہو جاتا ہے۔ اگر تحریک انصاف اپنے کسی سیاسی اقدام اور عمل کو نتیجہ خیز بنانے کی خواہاں ہے تووہ طوعاً کرھاً ایوان کے اندر اور ایوان سے باہر سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے لائحہ عمل اختیار کرے یا کم ازکم ایوان کے اندر حزب اختلاف کی جماعتوںسے مل کر کسی ایشو کو اٹھائے تاکہ حکومت کے خلاف ایک مضبوط اور توانا آواز ابھرے جسے حکومت کے لئے صرف نظر کرنا آسان نہ رہے۔ اگر گزشتہ روز ایوان کی کارروائی کی روشنی میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے کردار عمل رویے برداشت اور تدبر کاجائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں انا کی غلامی کا شکارہیں اور بدلتے حالات نے ان کا کچھ نہیں بگاڑا۔ سیاسی جماعتیں اپنے اس طرح کے کردار و عمل کے باعث ماضی میں اسمبلیوں کے توڑنے اور اقتدار سے علیحدیگی کا نقصان اٹھا چکی ہیں مگر اس کے باوجود عبرت نہیں پکڑتیں۔

متعلقہ خبریں