کراچی کی صورتحال ابھی بھی ترجیحی توجہ کی متقاضی

کراچی کی صورتحال ابھی بھی ترجیحی توجہ کی متقاضی

پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کراچی میں دہشت گردوں اور ٹارگٹ کلنگ میںملوث عناصر کے خفتہ گاہوںکے خلاف بلا امتیاز کارروائی کے احکامات دیتے ہوئے اس امر کا اعادہ کیاہے کہ کراچی آپریشن کی کامیابیاں ضائع ہونے نہیں دی جائیں گی۔ کراچی میں رینجرز کی قربانیاں اور کاوشیں کسی سے پوشیدہ امر نہیں لیکن تمام تر کوششوںکے باوجود حقیقت یہ ہے کہ اس وقت تک صرف اتناہواہے کہ دہشت گرد اور ٹارگٹ کلرز جب چاہیں باہر نکل کر کراچی بند کرنے کے حامل نہیں رہے۔لیکن ان کاخاتمہ ہر گز نہیںہوا ہے۔ یہ بھی وثوق سے نہیںکہا جاسکتا کہ ان کی کمر ٹوٹ چکی ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ یہ عناصر موقع کی تلاش میں ہیں اور حالات بدلنے کے منتظر ہیں۔ ان کے سیاسی سر پرستوںکی تقسیم بھی ابھی مشکوک ہے ۔ کراچی کے کور کمانڈر اور ڈی جی رینجرز کا تبادلہ و ترقی معمول کی کارروائی ضرور ہے لیکن ان دونوں جرنیلوں نے جس خصوصی دلچسپی سے کراچی کے حالات میں سدھار لانے کی جو سعی کی وہ قابل تحسین ہے جس کی پیروی ان کے پیشروئوں کے لئے مشعل راہ ہونی چاہئے۔ جب تک کراچی میں پوری قوت اور دبائو کے ساتھ قانون سے کھیلنے والوں سے پیش نہیں آیا جائے اس وقت تک حالات میں بہتری نہیںآتی۔ کراچی میں قیام امن اور استحکام امن کے لئے2018ء کے عام انتخابات کے نتائج بڑے اہم ہوں گے کیونکہ اس وقت کراچی کے منتخب نمائندوں میں سے کم ہی ایسے ہیں جن پر کسی نہ کسی سنگین الزام کے تحت مقدمات درج نہ ہوں۔ کراچی میںحالات کی بہتری کے لئے انتظامی گرفت کی مضبوطی کے ساتھ ساتھ سیاسی طور پر بھی ایسے نمائندوں کو آگے آنے کا موقع دینا ضروری ہے جو کسی سیاسی جماعت کے دبائو اور دھونس کے مقابلے میں عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوسکیں۔

اداریہ