پارلیمنٹ میں چور چور کی صدائیں

پارلیمنٹ میں چور چور کی صدائیں

کسی بھی ملک کی پارلیمنٹ کے ارکان وہاں کے قابل' باصلاحیت ' انتہائی پڑھے لکھے اور دیانتدار لوگ ہوتے ہیں کیونکہ پوری قوم کی امیدیں انہی سے وابستہ ہوتی ہیں۔ملکی اور بین الاقوامی فیصلے انہی کے مرہون منت ہوتے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ ملک کی تقدیر بظاہر ارکان پارلیمنٹ کے ہاتھوں میں ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پارلیمنٹ میں پہنچنے کے لیے الیکشن کا پراسیس رکھا گیا ہے تاکہ ایک جمہور کی حمایت کے بعد ہی کوئی شخص پارلیمنٹ کا رکن بن سکے۔ لیکن شومئی قسمت کہ وطن عزیز کی تاریخ میں بمشکل چند ایک لوگ ہی ایسے ہوں گے جو ملک و قوم کی امیدوں پر پورے اترے ہوں۔ بعض ارکان پارلیمنٹ کا جو رویہ پارلیمنٹ سے باہر ہوتا ہے ، وہی رویہ پارلیمنٹ میں بھی نظر آتا ہے۔ طویل عرصہ تک بائیکاٹ کے بعد بدھ کی شام پی ٹی آئی کے ارکان پارلیمنٹ میں گئے۔ اسپیکر نے اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کو بولنے کی اجازت دی ۔ سید خورشید شاہ نے حکومت کی کلاس لینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ مسلسل 45منٹ تک بولتے ہوئے متعددسوالات اٹھائے۔ اپوزیشن لیڈر کے بعد اسپیکر نے لیگی رہنما خواجہ سعد رفیق کو بولنے کی اجازت دی ۔ جونہی انہوں نے بولنے کی کوشش کی پی ٹی آئی کی طرف سے ڈیمانڈ کی گئی کہ انہیں بولنے دیا جائے جب کہ اسپیکر کا موقف تھا کہ پہلے اپوزیشن کو موقف پیش کرنے دیا گیا اب حکومت کو اپنا موقف پیش کرنے دیا جائے ۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ مسلسل اپوزیشن کو بولنے دیا جائے لیکن پی ٹی آئی ارکان کی طرف سے ایسا شور شرابہ شروع ہوا کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ پی ٹی آئی کی طرف سے'' نواز شریف چور ہے چور ہے'' کے نعرے لگے تو حکومتی ارکان نے ''عمران خان چور ہے چور ہے ''کے نعرے لگائے ۔ اسمبلی اجلاس میں ایسا ماحول بنا دیا گیا کہ اسپیکر کو تحریک استحقاق مسترد کرنی پڑی اور ہنگامہ آرائی کی وجہ سے پارلیمنٹ کا اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔ اب آتے ہیں تحریک استحقاق کی طرف کہ یہ ہے کیا اور اس کے پیش کرنے کا طریق کار کیا ہے؟ہر رکن اسمبلی اسپیکر کی اجازت سے کسی بھی رکن اسمبلی یا اس کی کسی مجلس کے استحقاق کی پامالی سے متعلق کوئی مسئلہ اُٹھا سکتا ہے۔ جو رکن اسمبلی مسئلہ استحقاق پیش کرنے کا خواہش مند ہو' اسپیکر کو اس دن کے اجلاس کی کارروائی کے آغاز سے قبل تحریری طور پر نوٹس دے گا۔ اگر پیش کیا جانے والا مسئلہ کسی دستاویز کی بنا پر پیدا ہوا ہوتو ا س نوٹس کے ساتھ ایسی دستاویزات بھی منسلک کی جائیں گی۔ اس کے بعد اسپیکر اس بات کا جائزہ لے گا کہ معاملہ فوری اہمیت کا حامل ہے یا نہیں؟ اگر معاملہ فوری اہمیت کا حامل ہوا تو اسپیکر سوالات نمٹانے کے بعد اس مسئلہ استحقاق کو نشست کے دوران کسی بھی وقت پیش کرنے کی اجازت دے سکتا ہے۔ اسپیکر سے منظوری اور معمول کی کارروائی کے بعد اسپیکر اس رکن اسمبلی کو پکارے گا یا نوٹس دے گا ۔اس کے بعد رکن اسمبلی مسئلہ استحقاق پیش کرے گا اور اس سے متعلق مختصر سا بیان دے گا۔ مذکورہ بالا طریق کار کس قدرشائستہ ہے ۔ پوری دنیا میں پارلیمنٹ کی کارروائی ایسے ہی ہوتی ہے۔ اسپیکربظاہر کسی نہ کسی پارٹی سے تعلق رکھتا ہے لیکن قانونی اعتبار سے اس کا منصب غیر جانبدارانہ ہوتا ہے اور عملی طور پر وہ اس کا پابند ہوتا ہے۔ سو ایاز صادق نے بھی اپنے منصب کا خیال رکھتے ہوئے خورشید شاہ کی کڑوی کسیلی سنیں اور اس کے بعد خواجہ سعد رفیق کو بولنے کی اجازت دی۔ اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پی ٹی آئی والے خواجہ سعد رفیق کی سنتے اور اپنی باری پر اپنا موقف پیش کرتے لیکن انہوں نے ایک لمحے کا بھی انتظار نہیں کیا اور یہ ثابت کر دیا کہ وہ اعصاب کے کھیل میں ریت کی دیوار ثابت ہوئے ہیں،کیونکہ پی ٹی آئی کے بارے میں اہل دانش یہی کہتے رہے کہ پی ٹی آئی کو پارلیمنٹ میں آکر اپنا موقف پیش کرنا چاہئے۔کوچہ صحافت میں برسوں بعد یہ بات سمجھ میں آئی کہ اعصاب کا کھیل کیا ہوتا ہے اور مخالف کو سننے کی ہمت زندگی میں کیا اہمیت رکھتی ہے ۔ شروع شروع میں تیز تیز بولنے ' مدمقابل کی سنے بغیر اس پر چڑھائی ' سوال پر سوال داغنے کو ہی کامیابی تصور کرتے تھے اور دل ہی دل میں خوش بھی ہوتے تھے کہ ہم نے مدمقابل کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں دیا۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ بات سمجھ میں آئی کہ اصل کامیابی اپنی سنانے میں نہیں بلکہ صبر و تحمل کے ساتھ مدمقابل کی سننے میں ہے۔ پی ٹی آئی کا مسئلہ مگر ہمیشہ اس بات کی عکاسی کرتا نظر آیا ہے کہ کارکنوں اور قائدین سمیت پوری جماعت کو اس قدر نقصان مخالف فریق نے نہیں پہنچایا جس قدر نقصان انہوں نے اپنی جلد بازیوں سے خود اُٹھایا ہے یہی وجہ ہے کہ آج پوری پارٹی یوٹرن کی علامت بن کر رہ گئی ہے۔اگراعصاب مضبوط نہیںہیں تو بسااوقات آپ درست ہونے کے باوجود بازی ہار جاتے ہیں۔2008کے الیکشن کے بعد جب پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی تو متعدد اتحادیوںکی وجہ سے انتہائی کمزور تھی۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ آصف علی زرداری نے مشکل کن حالات کے باوجود پانچ سال پورے کئے ،کیا پیپلز پارٹی نے عوام کوڈی لیور کیا تھایا ملک کو بحرانوں سے نکالاتھا؟ان سوالوں کا جواب یقینا نفی میں ہے تو وہ کون سی خوبی تھی جس کی بنا پر آصف علی زرداری نے پانچ سال پورے کئے ؟تو اس کا جواب ہے مضبوط اعصاب ۔پی ٹی آئی کو بھی ایسے ہی مضبوط اعصاب کی ضرورت ہے ،جس دن تحریک انصاف کے اندر یہ خوبی پیداہوگئی اس دن کے بعد تحریک انصاف کے سامنے پاکستان کی کوئی بھی سیاسی جماعت نہیں ٹھہر سکے گی۔

اداریہ