Daily Mashriq


گزشتہ سے پیوستہ

گزشتہ سے پیوستہ

ہماری آج کی تحریر کو گزشتہ سے پیوستہ سمجھ کر قبول کیجئے جس میں ہم نے ام المہنگائی پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے کچھ روشن پہلو بیان کئے تھے۔ یہ جو یکم دسمبر کی رات کے بارہ بجے پٹرول کے نرخ میں دو روپے کا اضافہ کیاگیا اس سے دو تین دن پہلے میڈیا پر مسلسل یہ خبر چلتی رہی کہ اس بار اس مد میں چھ روپے فی لیٹر اضافے کی تجویز زیر غور ہے۔ دراصل سرکار اس قسم کی پیشگی افواہیں پھیلا کر عوام اور حزب اختلاف کا رد عمل دیکھنا چاہتی ہے جب اس افواہ کے جواب میں پانامہ لیکس کے ایشو میں گوڈے گوڈے دھنسی ہوئی حزب اختلاف کی جانب سے کوئی مذمتی بیان نہ آیا اور نہ عوام نے کچھ کہا تو سرکار نے یکم دسمبر سے پٹرول کی قیمت میں اس جواز کے ساتھ دو روپے بڑھا وے کا اعلان کردیا کہ پٹرول کی قیمتوں کے محاذ پر گزشتہ سات ماہ سے مکمل خاموشی چھائی ہوئی تھی چنانچہ اس جانب توجہ دینا ضروری سمجھا گیا اور سرکار نے چھ روپے کی بجائے دو روپے اضافے کی منظوری دی ہے۔ یہاں اس امر کی طرف بھی اشارہ کیاگیا کہ پٹرول کی قیمتیں اگر بڑھائی گئی ہیں تو اس کے ساتھ ہی مٹی کے تیل کی قیمت میں 30پیسے فی لیٹر کمی کردی گئی ہے جو د و سخا کے اس عظیم فیصلے پر بالیقین حاتم طائی کی روح کو بے حد تکلیف پہنچی ہوگی اور اس کمی سے البتہ دیہات کے ان مکینوں میں بھی خوشی کی لہر د وڑ گئی ہوگی جن کے گھروندے ابھی تک بجلی سے محروم ہیں اور وہ اپنے تنگ و تاریک مکان مٹی کے تیل سے جلنے والے دیوں سے روشن رکھتے ہیں۔ ہم بجا طور پر کہہ سکتے ہیں کہ وطن عزیز کی وہ ساٹھ فیصد آبادی جو خط غربت پر پڑی سسک رہی ہے ان کے گھروں میں اگر ان کے کوئی گھر ہیں مٹی کی تیل کی بجائے گھر کے چراغ جل رہے ہوں گے کہ تیل اور گھی کی قیمتوں میں اب بہت فرق رہ گیا ہے۔ مجھے اپنی اس مختصر تحریر میں پٹرول کی قیمت میں حالیہ اضافے سے یہ جو اچانک خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اسے سمیٹنا مشکل لگ رہا ہے۔ کل ہی ہمارے گوالے نے دودھ میں دس روپے فی کلو اضافے کی خوشخبری دی ہے۔ اسی طرح گوشت والوں نے بھی گوشت کی قیمت میں رد و بدل کے اشارے کئے ہیں بلکہ وارننگ دی ہے ' نیکہ ! اس پہ دے نرخ کے وارہ نہ خوری۔ اس قیمت میں اب وارہ نہیں کھاتا۔ ٹماٹر مارکیٹ میں 100روپے فی کلو تک پہنچ گئے ہیں۔ روزانہ استعمال کی دوسری اشیاء کی قیمتوں میں بھی دنوں کے حساب سے نہیں گھنٹوںکے حساب سے اضافہ ہو رہاہے جبکہ متعین (Fixed) تنخواہ پر کام کرنے والوں کی کمائی میں ککھ اضافہ نہیں ہوتا۔ کل ہی مقامی کالج میں کلاس فورتھ کے منصب جلیلہ پر فائز ایک ملازم ہمیں بتا رہا تھا کہ اب میری بندھی لگی ماہانہ تنخواہ میں گھر کے اخراجات بمشکل پورے ہوتے ہیں۔ قبل از وقت پنشن لینے کی سوچ رہا ہوں۔ ہم نے کہا بندہ خدا پنشن تو تمہاری تنخواہ سے بھی کم ہوگی' اس کا جواب تھا کچھ جمع پونجی مل جائے گی اس پر گزارہ کروں گا' اللہ غنی بادشاہ ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ وطن عزیز میں بندہ مزدور کے لئے اپنی حلال کی کمائی میں زندگی بسر کرنا کتنا مشکل ہوگیا ہے۔ ہمیں حیرت اس بات پر ہے کہ حکومت کی جانب سے صلائے عام کے باوجود ہماری اپوزیشن نے مہنگائی کے مسئلے پر کیوں چپ سادھ رکھی ہے اور اس نے پٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر احتجاج کیوں نہیں کیا۔ کیونکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ لگتا ہے کہ اپوزیشن بھی موجودہ جمہوری تجربے کو جس میں جمہور کا پوری طرح تیل نکالنا بھی ان کے ایجنڈے میں شامل ہے اچھی طرح کامیابی سے ہمکنار کرنا چاہتی ہے۔ اپوزیشن والوں کا خیال ہے کہ قوم کو جب آٹے دال کا بھائو پوری طرح معلوم ہو جائے گا تو پھر پوری قوم اپوزیشن کا روپ دھار لے گی اور سرکار کو انہیں یہ سمجھانے سے کچھ حاصل نہ ہوگا کہ پٹرول کی قیمت میں اضافہ بین الاقوامی مسئلہ بن چکا ہے۔ صرف پاکستان ہی نہیں ساری دنیا مہنگائی کے طوفان بلا خیز کی لپیٹ میں ہے۔ اس کے جواب میں وہ ننگے' دھڑنگے' بھوکے بلکتے بچوں کو آگے کردے گی کہ ہمیں نہیں انہیں سمجھائو یہی وہ پوائنٹ ہے جس پر ہم سرکار کو داددینے پر مجبور ہیں کہ اس نے از خود اپوزیشن کو پنپنے کے لئے ایک جمہوری روایت کی بنیاد ڈالی ہے۔ حکومت کے لئے عین ممکن تھا کہ وہ پٹرول' گیس اور بجلی کی قیمتوں میں آئے روز کے اضافے کے لئے قوم سے کوئی قربانی مانگنے اسمبلی میں بیٹھے ہوئے لوگ رضاکارانہ طور پر تنخواہیں وصول کرنے سے انکار کردیتے' وی آئی پی ٹریٹمنٹ پر لات مارتے' پروٹوکول کے اخراجات میں کمی کردیتے لیکن یہ ہر گز ممکن نہیں۔ کیونکہ حکومت کے ایک ترجمان نے تو ان کی تنخواہوں میں حالیہ 150فیصد اضافے کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں تو ارکان اسمبلی کے پٹرول کے اخراجات بھی پورے نہیں ہوتے۔ چنانچہ ان لوگوں سے قوم کے لئے کسی قربانی کی توقع رکھنا فضول ہے۔ کیا میں نے جھوٹ بولا۔

متعلقہ خبریں