Daily Mashriq


روس ، داعش اور افغانستان

روس ، داعش اور افغانستان

کابل میں تعینات روسی سفارت کار کی جانب سے دیئے گئے ایک بیان کی وجہ سے کافی ہلچل پیدا ہوئی ہے ۔ روسی سفارت کار نے مذکورہ بیان ایک پریس کانفرنس کے دوران دیا جس سے افغانستان کے سیاسی اور حکومتی حلقوں میں بے چینی پھیل گئی اور روسی سفارت کار کو افغان سینٹ میں روس اور طالبان کے درمیان رابطوں کی وضاحت کے لئے طلب کیا گیا۔ افغان سینٹ میں بھی روسی سفارت کار اپنے بیان پر قائم رہے اور دونوں مواقعوں پر روسی سفارت کار نے روس کے طالبان کے ساتھ رابطے کی کوششوں کا دفاع کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے داعش کی افغانستان میں سرگرمیوں اور دہشت گردی اور منشیات کے درمیان بڑھتے ہوئے گٹھ جوڑ پربھی اپنی تشویس کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی اور منشیات کے درمیان بڑھتا ہواتعاون نہ صرف افغانستان بلکہ دیگر ممالک کے لئے خطرے کا باعث ہے۔ افغان سینٹ کے سامنے اپنے جارحانہ بیان میں روسی سفارت کار نے یہ سوال بھی اُٹھایا کہ اگر امریکہ، برطانیہ، اٹلی، قطر اور سعودی عرب طالبان کے ساتھ رابطہ کرسکتے ہیں تو روس کے ایسا کرنے پر اعتراض کیوں کیا جا رہا ہے ؟ روس بھی طالبان سے 'بات چیت' کر رہا ہے اور ہمارے 'محدود رابطوں' کا مقصد طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے ساتھ ساتھ روسی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا بھی ہے۔ رائٹر ز کے مطابق ایک سینئر افغان سیکورٹی آفیشل نے روس اور طالبان کے درمیان رابطوں کو 'ایک نیا اور خطرناک ٹرینڈ' قرار دیا ہے۔ افغانستان میں تعینات امریکی کمانڈر جنرل جان نکلسن نے واشنگٹن میں دی جانے والے حالیہ بریفنگ کے دوران بتایا ہے کہ روس پاکستان اور ایران کے ساتھ مل کر افغانستان میں حالات کو خراب کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ اس کے علاوہ جنرل نکلسن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ماسکو طالبان کو قانونی حیثیت فراہم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ دوسری جانب افغانستان میں تعینات روسی سفیر مینٹسٹکی نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر افغانوں کو افغانستان کے مستقبل کے بارے میں روس، چین اور بھارت کے درمیان مذاکرات پر اعتراض نہیں ہے تو اسی معاملے پر پاکستان، روس اور چین کے درمیان مذاکرات پر سوال کیوں اُٹھائے جا رہے ہیں؟ مذکورہ تینوں ممالک کو داعش کے ساتھ ساتھ منشیات کے خطرے کا سامنا بھی ہے اس لئے ان ممالک کو افغانستان کے مستقبل پر بات چیت کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ روسی سفیر کی جانب سے داعش کے بارے میں کئے گئے سوال پر بھی افغانستان کے مختلف حلقوں میں تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ پریس کانفرنس میں ایک صحافی کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں روسی سفیر کا کہنا تھا کہ یہ افغان انٹیلی جنس ایجنسیوں کا کا م ہے کہ وہ اس بات کا پتہ لگائیں کہ داعش کو افغانستان میں کس کی حمایت حاصل ہے اور یہ کس ملک یا ممالک کا پراجیکٹ ہے۔ مجموعی طور پر ماسکو اور بیجنگ کی جانب سے جاری ہونے والے حالیہ بیانات اس خطے میں ایک نئے اتحاد کی نشاندہی کررہے ہیں جس میں روس، چین، پاکستان اور ایران شامل ہیں۔ افغانستان اور پاکستان کے علاقوں میں داعش کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں نے مذکورہ ممالک کو متحد کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ اس وقت مذکورہ چاروں ممالک ان تین نکات پر متفق نظر آتے ہیں ، پہلا ، طالبان ہی وہ واحد قوت ہیں جو افغانستان میں امن بحال کر سکتی ہے، دوسرا، داعش کے ذریعے افغانستان کو غیر مستحکم کرنے اور دہشت گردی میں اضافے کی کو شش کی جارہی ہے، تیسرا، طالبان کے ذریعے داعش کے خطرے سے نمٹا جا سکتا ہے۔اس اتحاد کے سامنے آنے سے علاقے میں ایک نئی جنگ کا آغاز ہو گیا ہے۔ اگرچہ واشنگٹن، کابل اور نیو دہلی طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں لیکن یہ تینوں حکومتیں کسی بھی چوتھے ملک کے طالبان کے ساتھ رابطوں سے خوش نہیںہیں۔ جبکہ دوسری جانب پاکستان، چین، روس اور ایران امریکہ، افغانستان اور بھارت کو ہی مسئلے کی جڑ سمجھتے ہیں۔ ان حالات میں خطے کی بڑی قوتوں کے ساتھ ساتھ امریکہ اور دیگر ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج افغان عوام کی زندگیوں پر بُرے اثرات ڈالے گی جو 1979 ء سے جنگ کے شعلوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ چین اور روس کے لئے داعش کی معاونت کا معاملہ بھی بہت زیادہ اہمیت اختیار کرچکا ہے۔ مذکورہ دونوں ممالک داعش کی سپلائی لائن کاٹنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اس حوالے سے پچھلے ہفتے پشاور میں کائونٹر ٹیررازم پولیس کے آفیسر کا قتل بھی نہایت اہمیت اختیار کر چکا ہے جس کی ذمہ داری تحریکِ طالبان پاکستان کے ترجمان نے قبول کی تھی۔ جس کے چند گھنٹوں بعد ہی جماعتِ الا حرار نے رپورٹرز کو بھیجی جانے والی ایک ای میل کے ذریعے مذکورہ آفیسر کو قتل کرنے کی ذمہ داری قبول کی جبکہ ایک دن بعد داعش نے بھی مذکورہ قتل کی ذمہ داری قبول کرنے کا بیان جاری کردیا۔ کوئٹہ پولیس اکیڈمی پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری بھی جماعتِ الا حرار اور داعش نے قبول کی تھی۔ جماعتِ الا حرار اور داعش کے درمیان کوئی باقاعدہ الحاق سامنے نہیں آیا ہے لیکن غیر رسمی طور پر یہ دونوں دہشت گرد تنظیمیں مل کر کا م کر رہی ہیں۔ ذمہ داری قبول کرنے کے دعوئوں کے بعد یہ بات تو واضح ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں داعش کے بہت سے سیل کام کررہے ہیں جن کا مقصد خطے میں دہشت گردی کے ذریعے عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔ داعش جیسی انٹرنیشنل دہشت گرد تنظیم کی خطے میں موجودگی نے چین ، پاکستان اور روس کو ایک صفحے پر لاکرکھڑا کر دیا ہے ۔

(بشکریہ: ایکسپریس ٹریبیون،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں